براہمداغ بگٹی کو وزیرداخلہ کی پیشکش

براہمداغ بگٹی کو وزیرداخلہ کی پیشکش

وزیر داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے کہا ہے کہ براہمداغ بگٹی اپنی شرائط پر حکومتی طیارے میں واپس آسکتے ہیں۔ براہمداغ بگٹی اپنے دل میں پاکستان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اب بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ کی کمیٹی منگل سے بلوچستان کے دورے کا ارادہ رکھتی ہے.... یہ معلوم نہےں کہ جناب رحمن ملک کے براہمداغ بگٹی کے ساتھ کوئی پس پردہ روابط تھے یا کوئی بات چیت جاری تھی جس کی وجہ سے انہیں یہ خوشگوار پیش کش کرنی پڑی کہ وہ اپنی شرائط پر حکومت کے طیارے میں واپس آسکتے ہیں۔ براہمداغ بگٹی نے فی الحال اس پیش کش کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس سے پہلے بھی وزیراعظم سمیت حکومت کے ذمہ دار اصحاب کی جانب سے جو پیشکشیں ہوتی رہی ہیں ناراض بلوچ رہنماﺅں نے ان کا بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ اس لئے نہیں کہاجاسکتا کہ براہمداغ بگٹی وزیر داخلہ کی اس فراخدلانہ پیشکش کا کیا جواب دیتے ہیں‘ لیکن بلوچستان کے حالات جس نہج پر جا رہے ہیں اور صوبے میں امن وامان کی جو حالت ہے اس کے پیش نظر یہ بہت ضروری ہے کہ مذاکرات نہ صرف جلد سے جلد ہوں بلکہ نتیجہ خیز بھی ہوں۔

بلوچستان میں اس وقت انتہا پسندانہ سوچ والے ایسے سیاسی عناصر بھی ہیں جو ماضی میں ا س صوبے کے حکمران رہے‘ انہوں نے بھی اپنے دور حکومت میں کوئی ایسی سیاسی اصلاحات نہیں کیں جن پر عمل پیرا ہوکر صوبہ اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہوجاتا۔ سرداروں کی سوچ بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے جب وہ حکمران ہوتے ہیں تو انہیںسب اچھا نظر آتا ہے۔ اس دوران انہیں بلوچستان کے مسائل کم ہی نظر آتے ہیں لیکن جب وہ محروم اقتدار ہو جاتے ہیں تو پھر بلوچستان کے مسائل کا حل مسلح جدوجہد میں دیکھنے لگتے ہیں ۔

اس وقت صوبے میں جو حکومت ہے وہ پوری اسمبلی پر مشتمل ہے۔ اسمبلی کے ایک رکن کے سوا ساری اسمبلی وزیروں‘ مشیروں پر مشتمل ہے۔ حزب اختلاف کے واحد رکن نہ تو اسمبلی آتے ہیں اور نہ کوئٹہ شہر کا رخ کرتے ہیں‘ موجودہ حکومت کو کسی حزب اختلاف کا سامنا نہیں‘ یہ صورتحال مسائل کے حل میں حکومت کیلئے آئیڈیل ہوسکتی ہے لیکن وزیراعظم نواب اسلم رئیسانی اپنا زیادہ تر وقت اسلام آباد میں گزارتے ہیں‘ ان کے وزراءپر طرح طرح کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ ایک وزیر نے ساتھی وزیروں پر اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا الزام بھی لگایا‘ ایسے میں بلوچستا ن کے مسائل کے حل کیلئے وفاقی حکومت کو ہی آگے بڑھنا چاہیے اور کابینہ کے ارکان کے دوروں کے بجائے خود وزیراعظم کو صوبے میں کیمپ لگاکر بیٹھنا چاہیے۔ رحمن ملک کی پیش کش کا براہمداغ بگٹی اور ان کے ساتھیوں کو مثبت جواب دینا چاہیے۔ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور مسائل پر بات چیت کے ذریعے کسی ایسے نتیجے پر پہنچ جائیں جس سے صوبہ امن وامان کا گہوارہ بن جائے اور جن بم دھماکوں نے صوبے کا امن تہہ وبالا کیا ہوا ہے وہ ختم ہوجائیں۔  ٭

مزید : اداریہ