نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ

اتوار کے روز صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ حکومت نے سپریم کورٹ کے توہین عدالت ایکٹ2012ءکو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کی جانب سے 12جولائی کو دیئے جانے والے فیصلے کے خلاف بھی اپیل دائر کرے گی۔12جولائی کو عدالت نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو این آر او کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھنے کی ہدایت دی تھی اور اس کام کے لئے وزیراعظم کو 8اگست تک کا وقت دیا تھا۔فرحت اللہ بابر کے مطابق اپیل دائر کرنے کا فیصلہ اتحادی جماعتوں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

توہین عدالت ایکٹ 2012ءسپریم کورٹ نے 3اگست کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔یہ قانون کالعدم قرار دیئے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی اتحادی جماعتوں کا ایوان صدر میں خصوصی اجلاس بلایا گیا۔اس حوالے سے میڈیا میں خبریں سامنے آئی تھیں کہ پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں نے اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے قانون سازی کے حق سے دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔چند میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے توہین عدالت کا نیا قانون لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔تاہم اب صدارتی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کرے گی۔حکومت نے اب جو راستہ اختیار کیا ہے، درست راستہ یہی ہے۔اگر عدالت کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو اس کے خلاف ردعمل نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی دیا جانا چاہیے۔قانون کا تقاضا یہی ہے کہ ہائیکورٹ کے کسی فیصلے سے اختلاف ہو تو سپریم کورٹ میں اپیل کی جائے اور اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر مزید کارروائی درکار ہو تو نظرثانی کی درخواست دائر کی جائے۔یہ منطق کہ عدالت کو پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں،اس پر ہم پہلے ہی بے حد تفصیل سے اپنے نقطہ ءنظر کا اظہار کر چکے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اخباری رپورٹس کے مطابق اس فیصلے میں اتحادی جماعتوں کا بھی اہم کردار ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کو عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔تاہم اس صورت حال میں حکمران جماعت کے بعض عناصر کا رویہ بے حد تشویشناک ہے۔اتوار کے ہی روز، پیپلزپارٹی کے سینیٹر فیصل رضا عابدی نے پریس کانفرنس کے دوران عدلیہ اور ججز کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔فیصل رضا عابدی نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر اعتراض کیا کہ انہوں نے مشرف دور میں پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے سابق وزیراعظم گیلانی کو گھر بھیجنے میں تو بے حد جلدی کی جبکہ لاتعداد دیگر مقدمات زیر سماعت ہیں۔فیصل رضا عابدی کی گفتگو اور ان کا انداز بیان قابل مذمت ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب کسی جج کے بارے میں گفتگو کی جائے تو اس کے آداب کیا ہوتے ہیں؟مزید یہ کہ ان کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات میں وزن بھی نہیں۔ اور ان کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا معلوم ہوتا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری مشرف کے مارشل لاءکی توثیق کرنے والوںمیں شامل تھے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو داﺅ پر لگا کر اس غلطی کا ازالہ کیا ہے۔ 2007ءمیں وہ پرویز مشرف کے سامنے ڈٹ گئے، اس اصولی موقف کی وجہ سے انہیں بہت سی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں وہ ڈٹ کر کھڑے رہے، ان کے حوصلے نے لوگوں کو ہمت دی اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک کا آغاز ہوا۔ مشرف حکومت کمزور ہوتی چلی گئی اور بالاخرملک میں جمہوریت کی واپسی ہوئی۔ فیصل رضا عابدی کی جماعت کو اقتدار ملا، یہ افتخار چودھری کی قربانیوں کا ہی ثمر تھا اور فیصل رضا عابدی کی جماعت کی حکومت نے ہی چیف جسٹس کو بحال کیا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے رہنما کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔

دوسری جانب اٹارنی جنرل کا رویہ بھی حیران کن ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نظر ثانی کی اپیل دائر ہونے سے عدلیہ کو اپنی غلطی درست کرنے کا موقع مل جائے گا۔ یہ عجیب صورتحال ہے کہ درخواست گزار نے اپنے آپ کو جج سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ تمام فریقین کو یاد رکھنا چاہئے کہ عدلیہ کے فیصلوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے ،لیکن اس کا احترام سب پر لازم ہے۔ فیصلہ سنانے کا حق بھی صرف ججز کو ہی حاصل ہے، اگر درخواست گزار ہی فیصلے صادر کرنے لگ جائیں تو پھر عدالتوں کا کام کیا رہ جائے گا؟

حکمران جماعت کے ذمہ داران کی جانب سے اکثر دوسرے ممالک کی مثالےں پیش کی جاتی ہیں کہ کبھی بھی کسی وزیر اعظم کو توہین عدالت پر نااہل نہیں قرار دیا گیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کسی ملک کے دستور میں یہ شق شامل نہیں کہ توہین عدالت کا مجرم نا اہل قرار پائے گا۔ شاید مہذب معاشروں میں اس بات کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی اہم عہدیدار توہین عدالت کا مرتکب ہوگا۔ تاہم پاکستان کے دستور کے مطابق اس جرم کا ارتکاب کرنے والا نا اہل قرار پائے گا۔ پاکستان میں سزا دی جائے گی تو پاکستان کے قانون کے مطابق ہی دی جائے گی۔ موجودہ دورِ حکومت میں تین آئینی ترامیم کی گئی ہیں۔ موقع موجود تھا کہ توہین عدالت کے حوالے سے گنجائش پیدا کر دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ تاہم اس سب کے باوجود یہ بات ضروری ہے کہ تمام ادارے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ تصادم سے بچا جائے اور سسٹم کو چلنے دیا جائے۔ اگر نظام چلتا رہے گا تو پیدا ہونے والے مسائل خود کار انداز میں حل ہوتے چلے جائیں گے۔

مزید : اداریہ