آسکر نے 400میٹر میں آٹھویں پوزیشن حاصل کرلی

آسکر نے 400میٹر میں آٹھویں پوزیشن حاصل کرلی

لندن (نیٹ نیوز) آسکر پسٹوریس نے مردوں کے چار سو میٹر کے سیمی فائنل مقابلوں میں شکست کے بعد کہا ہے کہ انھوں نے اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے اور لندن اولمپکس میں شرکت کرنے کا ہدف حاصل کر کے وہ کوئی بات ثابت کرنا نہیں چاہتے تھے۔جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے 25سالہ آسکر پسٹوریس نے لندن اولمپکس میں شرکت کا ہدف حاصل کرکے یقینی طور پر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ آسکر پسٹوریس پیدائشی طور پر دونوں ٹانگوں میں گھٹنوں اور پنڈیلیوں کے درمیان کی ہڈی سے محروم تھے۔ چلنے کی عمر سے پہلے ہی ان کی دونوں ٹانگوں کو گھٹنوں سے نیچے کاٹ دیا گیا۔ پسٹوریس نے مصنوعی ٹانگوں کے ساتھ چلنا سیکھا اور بچپن میں وہ انتہائی پھرتیلے تھے۔ سولہ برس کی عمر میں وہ ایک اتھیلٹ کے طور پر اپنے نام بنا چکے تھے۔انھوں نے ایتھنز پیرا اولمپکس میں انہوں نے دو سو میٹر میں طلائی اور سو میٹر میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔پسٹوریس نے سیمی فائنل مقابلوں میں آٹھویں پوزیشن حاصل کی اور یوں وہ فائنل میں پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ان مقابلوں کے بعد انھوں نے کہا کہ وہ کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی پوری کوشش کرنا چاہتے اور جتنا زور مکمن تھا وہ لگانا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا انھیں یہ سب کچھ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے لیکن جو حمایت اور محبت لوگوں سے ملی ہے اس سے ان میں مزید انکساری آئی ہے۔70 ہزار لوگوں کے سامنے دوڑنا ناقابلِ یقین تھا۔ اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ وہ ایک لاکھ ستر ہزار لوگوں کے سامنے دوڑ رہے ہوں۔2008 میں کھیلوں کی ثالثی کرنے والی عدالت نے انھیں عام مردوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔پسٹرویس نے چار سو میٹر کے ابتدائی مقابلوں میں مطلوبہ فاصلہ45.44 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ لیکن سیمی فائنل میں ہو اتنی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور انہوں نے وہی فاصلہ46.45میں طے کیا۔وہ مردوں کی چار سو ضربِ چار سو میٹرریلے ریس میں بھی شرکت کر رہے ہیں جس کے بعد وہ پیرا اولمپکس میں شرکت کریں گے۔

مزید : ایڈیشن 1