ریفرینسز بحال ہوگئے تو شریف برادران کو طلب کیا جائے گا :نیب عدالت

ریفرینسز بحال ہوگئے تو شریف برادران کو طلب کیا جائے گا :نیب عدالت

راولپنڈی(اے پی اے + ثناءنیوز)نیب عدالت کے جج چودھری عبدالحق نے کہا ہے کہ ریفرنسز بحال ہوگئے توشریف برادران کوعدالت میں طلب کیا جائے گا،شریف برادران عوامی شخصیات ہیں،انکے پیش ہونے پر اتنا زور کیوں دیا جا رہا ہے،جب ریفرنس بحال ہو گا تو انہیں طلب کر لیا جائے گا۔راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج چودھری عبدالحق نے شریف بردران کے خلاف حدیبیہ پیپرملز، اتفاق فاو¿نڈری اوررائیونڈ اثاثہ جات ریفرنس کھولنے سے متعلق چیئرمین نیب کی درخواست کی سماعت کی،،، شریف برادران کے معاون وکیل چودھری حسن نے اکرم شیخ کاوکالت نامہ عدالت میں پیش کردیا۔ چودھری حسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس قابل سماعت ہی نہیں۔جج چودھری عبدالحق نے ریمارکس دیے کہ فوجداری مقدمات میں ملزم عدالت میں خود پیش نہ ہوتواسے اشتہاری بھی قراردیا جاسکتا ہے۔شریف برادران کی قانونی مشیرانوشہ رحمان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی کے خلاف نیب ریفرنس مردہ ہو چکے ہیں،،عدالت نے تمام فریقین کودلائل کی تیاری کرنے کی ہدایت کی۔ اس دوران چودھری ریاض نیب کے وکیل نے عدالت میں درخواست دی کہ نیب شریف خاندان کے افراد کو عدالت میں طلب کرے استثنیٰ دینا عدالت کی صوابدید ہے، جس پر جج چوہدری عبدالحق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شریف برادران کے پیش ہونے پر کیوں زور دیا جارہا ہے، وہ عوامی شخصیات ہیں،جب ریفرنس بحال ہوگا تو ملزمان کو طلب کرلیا جائے گا۔ ریفرنسز میں میاں برادران اور دیگر پر ایک ارب روپے سے زائد کی کرپشن کا الزام ہے۔ شریف برادران نے گزشتہ سال تینوں ریفرنسز ختم کرانے کے لئے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو کہ زیر التوا ہے کیس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی گئی ۔

مزید : صفحہ اول