قبرستان کے سکول کو دانش سکول میں تبدیل کرنے کا حکم ‘پنجاب حکومت نے سکولوں کی حالت زار پر رپورٹ جمع نہ کرائی تو تمام دانش سکول بند کرادینگے :چیف جسٹس

قبرستان کے سکول کو دانش سکول میں تبدیل کرنے کا حکم ‘پنجاب حکومت نے سکولوں کی ...

اسلام آباد(خبرنگار)سپریم کورٹ نے گوجرانوالہ کے قبرستان میں موجود سکول کو دانش سکول میں تبدیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے چاروں چیف سیکرٹریز سے سکولوں کی حالت زار سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب میں سکولوں کی حالت زار کاسخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن شرح خواندگی میں اضافہ نہ ہوسکا، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو مفت تعلیم دے ، حکومت پنجاب نے سکولوں کی حالت زار پر رپورٹ جمع نہ کرائی تو تمام دانش سکول بند کرادیں گے، استاد کو 4300تنخواہ دیں گے تو اس کی عزت کون کرے گا؟ آپ لوگ اساتذہ کا استحصال کررہے ہیں ۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کیس میں عدالت نے واضح کردیاتھاکہ ملازم کی کم از کم تنخواہ سات ہزار ہوگی۔گوجرانوالہ کے قبرستان میں واقع سکول پرا زخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس جواد یاس خواجہ اور جسٹس طارق پرویزپرمشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے روبرو چیف سیکرٹری کی طرف سے صوبے میں سکولوں کی حالت زار کی رپورٹ پیش نہ ہونے پر عدالت نے براہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ حکومتیں اساتذہ کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں ، تعلیم اور صحت اب صوبوں کی ذمہ داری ہے۔محکمہ تعلیم کے مطابق صوبے میں اساتذہ کی کم سے کم تنخواہ 4300اور زیادہ سے زیادہ 19ہزار روپے ہے جس پر جسٹس طارق پرویز کاکہناتھاکہ مٹی گاراڈھونے کا مزدور بھی 4300سے زیادہ تنخواہ لے رہاہے ۔چیف جسٹس نے محکمہ تعلیم کے نمائندے سے استفسارکیاکہ استاد کو 4300تنخواہ دیں گے تو اس کی عزت کون کرے گا؟ آپ لوگ اساتذہ کا استحصال کررہے ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کیس میں عدالت نے واضح کردیاتھاکہ ملازم کی کم از کم تنخواہ سات ہزار ہوگی۔عدالت میں موجود سرگودھا کی لیڈی ٹیچر نے بتایاکہ وہ انیس سال سے ملازمت کررہی ہیں لیکن تنخواہ 13,835روپے ہے جبکہ ڈویژنل پبلک سکولوں کے اساتذہ کے 1994سے سکیل ریوائز نہیں ہوئے ۔عدالت نے کہاکہ احکامات کے باوجود ابھی کسی چیف سیکرٹری نے جواب نہیں دیااور ایک مرتبہ پھر چاروں چیف سیکرٹریز سے سکولوں کی حالت زار پر رپورٹ طلب کرلی ۔

مزید : صفحہ اول