ہسپتالوں میں 741مشینیں خراب مریض ٹیسٹوں کی سہولت سے محروم

ہسپتالوں میں 741مشینیں خراب مریض ٹیسٹوں کی سہولت سے محروم

لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت کے 14 چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں پڑی741 مشینیں خراب اور استعمال میں نہ ہونے کے باعث روزانہ ہزاروں مریض تشخیص کے بغیر ہی علاج کروانے پر مجبور ہیں جبکہ اربوں روپے کی مشینری محض ہسپتالوں کے کمروں کی زینت بنی ہوئی ہے بیشتر مریض نجی لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں ملک میں دل کے سب سے بڑے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور ملک کے دوسرے بڑے مرکزی جناح ہسپتال سمیت کئی سرکاری ہسپتالوں کے لئے درآمد کی گئی اربوں روپے کی مشینری ایسی بھی ہے جسے ایک دن کے لئے بھی استعمال نہیں کیا گیا اور وہ پڑے پڑے کباڑ میں تبدیل ہو چکی ہے روزنامہ پاکستان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے ٹیچنگ ،ڈسٹرکٹ تحصیل اور ضلعی حکومت کی ڈسپنسریوں میں اس وقت ایسی مشینیں خراب پڑی ہیں جن کی مالیت اربوں روپے ہی ہے جبکہ دوسری طرف ایسی اربوں روپے کی مشینری جو لاہور کے ہسپتالوں کے لئے گزشتہ 7سالوں سے خریدی گئی ہے وہ نصب نہیں ہو سکی بلکہ ہسپتالوں کے تہہ خانوں میں ”ڈبوں“ میں بند ہیں بتایا گیا ہے کہ پی آئی سی لاہور میں انجیو گرافی 5،4 مشینیں خراب تھیں جن میں دو ٹھیک کرائی گئی جو بعد میں مریضوں کے زیادہ لوڈ کے باعث پھر خراب ہو گئی اس طرح اس ہسپتال میں انجیو پلاسٹی کی کروڑوں روپے مالیت کی مشین عرصہ سے خراب چلی آ رہی اس طرح الٹراساﺅنڈ مشین بھی خراب ہے جبکہ کئی مانیٹر بھی خراب ہیں جہاں تک کہ بلڈ پریشر چیک کے لئے معمولی آلہ جات درجنوں کے حساب سے خراب ہیں آئی سی یو یو سی سی یوز کے کئی مانیٹر خراب رہ چکے ہیں اس طرح جناح ہسپتال میں 97 کے قریب چھوٹی بڑی مشینیں خراب بتائی جاتی ہیں پنجاب ڈینٹل ہسپتال لاہور میں 14 ڈینٹل چیئرز ڈیجیٹل ایکسرے سمیت ایکسرے کی کئی مشینیں خراب پڑی ہیں۔ جنرل ہسپتال میں 44 مشنیں خراب ہیں چلڈرن ہسپتال میں 52 مشینیں خراب ہیں اس طرح گنگا رام ہسپتال میں 44 مشینیں خراب ہیں سروسز ہسپتال میں 43 مشینیں خراب پڑی ہیں۔ لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں بچہ نرسری کے انکویٹرز سمیت 49 مشینیں خراب پڑی ہیں لیڈی ایچی سن ہسپتال میں 43 مشینیں خراب ہیں اس طرح میوہسپتال کے اندر بھی کئی مشینیں خراب بتائی جاتی ہیں۔ سروسز ہسپتال میں 64 مشینیں خراب ہیں گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹ خواجہ سعید میں 63 مشینیں خراب ہیں اس طرح میاں منشی ہسپتال میں 48 سید میٹھا ہسپتال 22 گورنمنٹ مزنگ ہسپتال میں 39 مشینیں خراب ہیں اس طرح فلٹر کلینکس اور ضلعی حکومت کی ڈسپنسریوں میں ایکسرے پلانٹ ،ای سی جی مشینوں الٹراساﺅنڈ بی پی ناپنے کے آلات سمیت 3 سو سے زائد مشینیں خراب پڑی ہیں ان میں سے اکثر مشینیں ایسی ہیں جن کو مرمت کرانے کے نام پر کروڑ روپے خرچ کئے گئے مگر دوبارہ خراب ہو گئی جبکہ بڑی مشینوں کے بڑی کمپنیوں سے مرمت کے کنٹریکٹ پر بھی کروڑوں روپے مرمت فیس سالانہ بنیادوں پر دی جارہی ہے مگر مشینیں پھر خراب پڑی ہیں۔ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلیمان رفیق سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے مشینیں خراب ہوتی ہیں اور ٹھیک بھی ساتھ ساتھ کردی جاتی ہیں تاہم جو نئی مشینیں ڈبوں میں بند پڑی ہیں اور انہیں ٹھیک نہیں کرایا جا سکا اس کی تحقیقات کرائیں گے اور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن ہوگا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1