اپنے چودھری صاحب برہم ہیں۔۔!

اپنے چودھری صاحب برہم ہیں۔۔!

مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان لڑائی میں شدت آنے کے بعد پیپلزپارٹی کو ہونے والے فائدوں پر لکھے گئے کالم پر اپنے چودھری صاحب برہم ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ” عمران خان کے الزام اور مسلم لیگ(ن) کے جوابی حملے میں پیپلزپارٹی کو مجموعی اور آصف علی زرداری کو نام لے کر رگڑا لگایا گیا ہے۔ آصف علی زرداری کوئی فرشتہ نہیں اور نہ ہی پیپلزپارٹی کوئی(بزبان عوام) مکہ کے حاجیوں کی جماعت ہے یہ تنقید سے مستثنیٰ نہیں ، لیکن یہ انداز بھی درست نہیں کہ صرف زرداری اور پیپلزپارٹی ہی گنہگار ہیں اور باقی سب معصوم عن الخطا ہیں۔ محترم اس حوالے سے آپ حضرات نے ایسے ذہن بنا لئے ہیں کہ مخالفت میں حقائق کو بھی بھول جاتے ہیں، ہمارے ایک ساتھی نے اتنی سخت زبان استعمال کی (شاید سخت زبان کا استعمال شہرت کا باعث بنتا ہے) ہم تو ان سے یہ توقع کر ہی نہیںسکتے۔ بہرحال وہ اس جذبے کے تحت اشیاءخوردنی اور ضرورت کی مہنگائی کی تمام تر ذمہ داری بھی وفاقی حکومت پر عائد کرتے چلے گئے ہیں اور یہ بھول گئے کہ ٹرانسپورٹ کا کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانا صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کا فرض ہے اگر یہ نہ ہوتا تو مجسٹریٹ چھاپے کیوں مارتے۔“چار اگست کو شائع ہونے والی تحریر میںاپنے چودھری صاحب واقعی دو جمع دو چار جیسی بات کرتے ہیںکہ واقعی اگر سطحی طور پر دیکھا جائے تو یہ لڑائی تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی ہے، اس میں پیپلزپارٹی اور صدر آصف علی زرداری کہاں سے آگئے مگر ہم صحافیوں میں ایک خامی نما خوبی یہ بھی ہے کہ ہم چور کو نہیں، اس کی نانی کو پکڑنا جانتے ہیں۔ جب کوئی بات کرتا ہے تو سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے اپنے مقاصد کیاہیں، یہاں پاکستان کے صحافی اور پولیس والے ایک جیسے ہوجاتے ہیں، جہاں کہیں بھی جرم ہو، دیکھنا سب سے پہلے یہی ہے کہ اس کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے۔ اب اگر ایک صاحب جو مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما کے طور پرجانے پہچانے اور مانے جاتے ہیں مگر وہ صدر آصف علی زرداری کے ذاتی دوست اور بعض اڑتی اڑاتی خبروں کے مطابق دوبئی میں انکے بزنس پارٹنر بھی ہیں، وہ ایسی بندوق چلاتے ہیں جس کا رخ بھی شومئی قسمت سے اپنی ہی طرف ہوتا ہے تو دیکھنا تو پڑے گا کہ موصوف کی ان موشگافیوں کا اصل فائدہ کس کو ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کو عمران خان گندا کریں یا عمران خان کو نواز شریف ۔ دونوں صورتوں میں نقصان اینٹی پیپلزپارٹی ووٹ بنک کو ہی ہو گا۔ اپنے چودھری صاحب پیپلزپارٹی کے دشت میں صحافت کی سیاحی عمر بھر سے کر رہے ہیں، میں جانتا ہوں کہ خالد قیوم سے گوہر بٹ تک میرے بہت سارے دوست، نمک کی کان میں جا کے نمک ہو چکے ہیں ۔ یہ ایک فطری رویہ ہے جس سے ہم انکار نہیں کر سکتے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پیپلزپارٹی کا دفاع کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے مگر بہرحال کرنے والے کر رہے ہیں۔ یہ کوئی نہیںکہتا کہ صرف پیپلزپارٹی ہی گنہگار ہے اور باقی سب معصوم عن الخطا ہیں۔ جمہوریت کو بدنام کرنے اور جمہوری نظام کوناکام کرنے میں تمام سیاستدانوں کا حصہ بقدر جثہ ہی درج ہو گا۔ عوام کو اگر اس وقت دہشت گردی، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا ہے تواس کی سب سے بڑی ذمہ داری بہرحال پیپلزپارٹی پر ہی عائد ہوتی ہے۔ مخالفت میں حقائق بھول جانا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کہ حمایت میں حقائق کا چھپا لیاجانا۔ میں ہرگز نہیں بھولا کہ ٹرانسپورٹ کا کنٹرول ، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری پر قابو پانا صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کا ہی فرض ہے ۔ چلیں میں آپ کے انہی دو نکات کا جواب دے دیتا ہوں۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے مقرر کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں مگر مجھے اتنا بتا دیں کہ جو ڈائیوو کوالٹی کی بس کچھ عرصہ قبل تک 65 لاکھ میں آجاتی تھی ، وہ اب وفاق کی طرف سے نافذ ہونے والی تازہ ترین سترہ فیصد سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت گرنے کی وجہ سے ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے میں آ رہی ہے، جو ٹویوٹا ہائی ایس اٹھارہ سے بیس لاکھ میں مل جاتی تھی، اب پنتیس لاکھ کی ہو گئی ہے اور وہ اے پی وی وین جو نو لاکھ میں ملتی تھی، بائیس لاکھ کی ہو چکی ہے، پہلے ڈیزل گاڑیاں آتی تھیں پھر سی این جی پر زور لگایا گیا اور اب ایل پی جی کی طرف لے جایا جا رہا ہے، ٹرانسپورٹر یہ سب خرچے سواری سے ہی وصول کرے گا۔ اس کے بعدمہنگائی میں ملنے لیبر ہے، پہلے کنڈکٹر اور ڈرائیور چھ سے دس ہزار روپے میں نوکری کر لیا کرتے تھے، اب بیس ہزار میں بھی انکا گزارا نہیں ہوتا، ڈیزل اور سی این جی کے نرخ اس حکومت نے دو تین گنا تک بڑھا دئیے ہیں تو پھر صوبائی حکومت کرایوں کا نظام کس طرح وضع کرے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے ہر سڑک پر لگایا گیا ٹول ٹیکس اور ضلعی انتطامیہ کی طرف سے ظالمانہ اڈہ فیس بھی اپنی جگہ ہیں مگر بنیاد ی کردار تو وفاقی حکومت کا ہی ہے جس نے ٹرانسپورٹ کے ” ان پُٹس“ اتنے مہنگے کر دئیے ہیں کہ صوبائی حکومت اگر اپنے صوبے میں بسیں چلوانا چاہتی ہے تو اسے کرائے تو انہی بنیادی اخراجات کو مدنظر اور کاروبار کے تقاضوںکو ملحوظ رکھ کے طے کرنے ہوںگے۔ اپنے چودھری صاحب اسی طرح ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی بات کرتے ہیں۔ حضور آٹا ذخیرہ اندوزوں نے نہیں، وفاقی حکومت نے اس کی امدادی قیمت میں اچانک ڈھیروں اضافہ کر کے مہنگا کیا۔ زراعت کے لئے بنیادی ضروریات بجلی، ڈیزل اور کھادیں، سب وفاقی حکومت نے مہنگی ترین کر دیںتو اب کسان کیا کرے، پھر مڈل مین یا آڑھتی اپنی جگہ ایک حقیقت اور ضرورت ہے ، جو کسانوں کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لئے انہیں قرضے تک دیتا ہے۔ راو¿ اکرم کریانہ مرچنٹس ایسوسی ایشن کا صدر ہے، وہ روتا ہے کہ پرائس مجسٹریٹس چھاپے مارتے اور چاول، دالوں سمیت اشیائے ضروریات ان قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور کرتے ہیں جن پر وہ ہول سیل مارکیٹ میں بھی دستیاب نہیں۔ جب چینی کی ذخیرہ اندوزی ہوئی تھی تو صوبائی حکومت نے کارروائی کی تھی مگرا سکے پیچھے بھی وفاقی حکومت کی چینی درآمد نہ کرنے کے حوالے سے ناقص اور بدنیتی پر مبنی پالیسی تھی۔ مجھے معذرت کے ساتھ کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں ہر کوئی ہر لمحے کو قیمتی جانتے ہوئے لوٹ مار کر رہا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں سخت ہیں، میں آپ سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ حقائق اس سے بھی زیادہ تلخ اور تکلیف دینے والے ہیں،لاہور میں بھی ڈیفنس سے لے کر مال روڈ تک دکانیں لگی رہیں، ایک خاتون صحافی نے مال روڈ پر رجوع کیا تاکہ ایچی سن میں بچے کے داخلے کے لئے سفارش کرائی جا سکے، جواب ملا داخلہ ہوجائے گامگر اس کے ساتھ ہی کئی لاکھ روپے ریٹ بھی بتا دیا گیا۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کی کھال اتنی موٹی ہو چکی ہے کہ یہ سخت باتیں بھی ان پر اثر نہیں کرتیں۔ کیا لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے کم سخت باتیں ہوئی ہیںاور کیا لوڈ شیڈنگ ختم ہو گئی ہے، اور رہ گئی بات سخت زبان سے شہرت حاصل کرنے کی خواہش کی، تو یقین کریں میرا ایمان ہے کہ شہرت سخت بات سے نہیں، درست بات سے ملتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میری ہر دوسری تحریر وفاقی حکومت سے بھی کہیں پہلے پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر تنقید لئے ہوئے نہ ہوتی۔ میرا تو ایمان ہے کہ اگر میرا رب مجھ سے راضی ہو گا تو یہ سب مجھ سے راضی ہوں گے اور اگر غلط بات کرنے پر میرا رب مجھ سے ناراض ہو گیا تو ان سب میں میر امشہور ہونا بھی مجھے رتی برابر فائدہ نہیں دے گا۔اجر دینے اور نیت دیکھنے والی تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور میں خدا کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھر پاکستان ، جمہوریت اور سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔ میں آپ سمیت تمام سینئرز کا بہت احترام کرتا تھا، تب بھی جب بہت سارے سینئرز پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے، میرے سیکرٹری ہونے کے دور میں، میری ہی قیادت میں کوئٹہ، چمن اور زیارت کے دورے پر گئے تھے کیونکہ صدر پریس گیلری رو¿ ف طاہر جدہ جا چکے تھے۔ سپیکر چودھری پرویز الٰہی کی خصوصی کاوش سے ہونے والے اس بائی ائیر وزٹ کے بعد یہی سینئر لوگ مجھے ہروانے کے لئے متحد ہو گئے تھے، مجھے اب بھی اجر ان سے درکار نہیں، میں تب بھی ان سب کو جھک کے سلام کرتا تھا اور آج بھی کرتا ہوں، آئیں دعا کریں ۔۔ اھدنا الصراط المستقیم ( آمین)۔

مزید : کالم