تعلیمی میدان میں شہباز شریف کی انتھک کوششیں

تعلیمی میدان میں شہباز شریف کی انتھک کوششیں
تعلیمی میدان میں شہباز شریف کی انتھک کوششیں

  

                                                آج ہمارا ملک پاکستان دنیا کی ترقی اقوام سے ہر شعبے میں میلوں کے حساب سے پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ہے۔ ہمارے خطے کے حکمرانوں نے اس خطے کی غربت اور جہالت کو دور کرنے میں کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا آج سے کئی صدیاں قبل بھی جب مغربی دنیا میں نئی نئی یونیورسٹیاں اور لائبریریاں بن رہی تھیں ہمارے خطے میں مسلمان حکمران‘ اپنی محبتوں کی خاطر تاج محل وغیرہ تعمیر کروا رہے تھے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے، لیکن عصر حاضر میں ایک شخص ،جس کا نام میاں محمد شہباز شریف ہے، اپنی انتھک اور بے مثال مسلسل کوششوں سے تعلیم کے میدان میں انقلاب لانے کے در پے ہے، جس کی واضح مثالیں آئے دن ہمارے سامنے آتی رہتی ہےں، اگرچہ مَیں میاں صاحب کی پالیسوں سے سو فیصد متفق نہیں ہوں اور اکثر اپنی تحریروں کے ذریعے ان کی بعض پالیسیوں پر تنقید بھی کرتا رہتا ہوں، لیکن میاں شہباز شریف کے تعلیمی وژن کی مَیں نے ہمیشہ کھل کر حمایت کی ہے۔

میاں محمد شہباز شریف نے جب 2008ءمیں پنجاب میں دوسری بار اقتدار سنبھالا تو انہوں نے پنجاب میں تعلیم کے میدان میں انقلاب لانے کی ٹھان لی ،جس کے لئے ان کی کوششوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے، کم ہے۔ سابقہ 5سالوں میں ان کے تعلیمی وژن میں کوالٹی کا عنصر غالب رہا۔ حالیہ سالانہ بجٹ میں تعلیمی بجٹ کو جی ڈی پی کا 4% تک لانا ان کا اور ان کی پارٹی کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ تعلیم کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی خاطر سکولوں میں موجود بچوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ (11ملین) سے بڑھا کر دو کروڑ (20ملین) کرنا بہت برا قدم ہے تاکہ ہر بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو سکے۔ سابقہ دو سال میں وزیراعلیٰ پنجاب کا ہر اس بچے کے لئے لیپ ٹاپ مہیا کرنا ،جس نے تعلیمی میدان میں اہم کارکردگی دکھائی ہو ،چاہے اس بچے یا اس کے والدین کا تعلق کسی بھی جماعت سے کیوں نہ ہو۔ اس طرح ہونہار 125000 طلباءو طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کرکے سوا لاکھ بچوں کو انٹرنیٹ کی دنیا میں داخل کرنا پاکستان کی تاریخ کی واحد مثال ہے۔

پنجاب کے 14اضلاع مین دانش سکولز کا قیام جہاں پر غریب اور ہونہار طلباءکو میرٹ پر ایچی سن کالج لیول کی مفت تعلیم دینا بہت بڑے تعلیمی انقلاب کی داغ بیل رکھ دی گئی۔

موجودہ تعلیمی بجٹ میں 2000طلباءو طالبات کو پی ایچ ڈی کے لئے وظائف دینا قابل ستائش ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا مندرجہ بالا اقدامات کے علاوہ ایک ایسا کارنامہ کہ سابقہ 5سالوں سے یعنی 2009ءسے تاحال یعنی 2013ءتک ملک بھر کے طلباءو طالبات جنہوں نے اپنے متعلقہ بورڈوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کیں، انہیں 5سال سے مسلسل ایک ماہ کے لئے تعلیمی ٹورز پر یورپی یونیورسٹیوں میں بھیجا جارہا ہے،تاکہ ملک عزیز کے ہونہار بچے مغربی یورپ کی تعلیم سے استفادہ کرسکیں۔2010ءسے 2013ءتک راقم الحروف کو یہ شرف حاصل ہے کہ جب بھی یہ بچے جرمنی تشریف لاتے ہیں تو مَیں اور میرے دوست چودھری محمد شفیق جو مسلم لیگ(ن) جرمنی کے صدر تھے، اب مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین ہیں، ان بچوں کی دیکھ بھال میں حصہ بٹاتے ہیں۔امسال بھی سابقہ برسوں کی طرح پاکستانی بچوں کا وفد تعلیمی دورے پر یورپ میں ہے، اس وفد میں 35طلباءو طالبات ہیں۔وفد کی سربراہی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر خلیق الرحمن اور شاہد اقبال کررہے ہیں۔26جولائی 2013ءکو اس وفد نے جرمنی کی مشہوریونیورسٹی ہائیڈل برگ (1386ءسے قائم شدہ) کا دورہ کیا۔

طلباءو طالبات کا وفد 10:30بجے صبح ہائیڈل برگ یونیورسٹی پہنچا۔طلباءاور طالبات کے وفد کو ہائیڈل برگ یونیورسٹی کے تین پروفیسر صاحبان پروفیسر ڈاکٹر کرسیٹنا روسٹر ، ڈاکٹر فاروق کیانی، ڈاکٹر وقار خان ، ڈاکٹر محمد ایوب گورایا اور چودھری محمد شفیق صاحب نے ریسیو کیا۔ڈاکٹر فاروق کیانی نے طلباءکو مختلف شعبہ جات دکھائے اور ہائیڈل برگ یونیورسٹی کی تاریخ اور شہر کے بارے میں لیکچر دیا۔ڈاکٹر کرسٹینا اور ڈاکٹر وقار جن کا تعلق یونیورسٹی کے شعبہ ساﺅتھ ایشیا انسٹیوٹ سے ہے۔اپنے شعبہ کے بارے میں طلباءکو بریف کیا۔وفد میں شامل طلباءو طالبات نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں معلومات حاصل کرنے میں خاصی دلچسپی ظاہر کی۔سابقہ 3/4سال سے میرا مشاہدہ ہے کہ یہ طلباءجب جرمنی میں ہوتے ہیں تو یہ بڑی دل جمعی سے کام کرتے اور چیزوں کو سمجھنے میں دلچسپی لیتے۔وفد کے سربراہ بھی ہمہ وقت طلباءکو کام کام اور صرف کام کی تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں۔شام کے وقت یہ طلباءاپنی اپنی رپورٹ تیار کرتے ہیں اور سارے دن کی کارکردگی سے روزانہ کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب کو فیڈ بیک دیتے ہیں۔

26جولائی 2013ءکو طلباءکے وفد نے یونیورسٹی کا وزٹ مکمل کرنے کے بعد علامہ سر محمد اقبال کے گھر کو بھی دیکھا۔علامہ صاحب 1907ءمیں جب جرمنی تشریف لائے تھے تو 6ماہ کے لئے وہ ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے منسلک رہے جو پاکستانی بھی ہائیڈل برگ آتا ہے، وہ علامہ سر محمد اقبال کی رہائش پر ضرور جاتا ہے جو جرمنی کے مشہور دریا، دریائے نیکر پر موجود ہے۔علامہ صاحب کی رہائش سے دریا کی دوسری طرف ایک گلی کا نام علامہ صاحب کے نام سے منسوب ہے، اس جگہ پر علامہ صاحب کی مشہور نظم” نیکر“ایک چھوٹی سی دیوار پر کنندہ ہے۔طلباءکے وفد نے یہ مشہور جگہ بھی دیکھی۔26جولائی 2013ءکی سارے دن کی کارروائی پی ٹی وی اور اے آر وائی والوں نے کور کیا۔بعد دوپہر 4بجے کے قریب چودھری محمد شفیق صاحب نے اپنے ریسٹورنٹ سنٹرل میں وفد کو کھانا دیا۔کھانے کی تقریب میں جو بڑی پُرتکلف تھی،پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔پاکستانیوں کی اس تقریب میں وفد میں شامل طلباءو طالبات نے پُرجوش تقریریں کیں اور میاں محمد شہبازشریف کے تعلیمی وژن کی بھرپور عکاسی کی۔

تقریب کے آخر میں طلباءاور وفد کے باقی ارکان کو پھولوں کے تحفے دیئے گئے۔دو عدد گلاب کے پھولوں کے گلدستے میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہباز شریف کے لئے وفد کے سربراہ پروفیسر خلیق الرحمن اور شاہد اقبال کے حوالے کئے گئے۔میاں محمد شہبازشریف کے اس تعلیمی وژن کا ایک طرف تو طلباءو طالبات جنہوں نے سابقہ 4/5سال میں یورپی یونیورسٹیوں کا تعلیمی دورہ کیا ذاتی فائدہ ہوا۔بہت سارے ملکی طلباءو طالبات نے Incentiveحاصل کیا تو ان طلباءو طالبات کے دوروں کی ملکی پریس میں تشہیر کا مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بنک میں بھی خاصا اضافہ ہوا جو کہ مثبت مقابلے کی ایک اچھی مثال ہے۔شاید دوسری پارٹیوں کے لیڈر بھی اس صحت مند مقبالے میں حصہ لیں۔آخر میں مَیں ذاتی طور پر میاں شہبازشریف کو ان کے تعلیمی وژن پر سلام پیش کرتا ہوں اور انہیں اس مسلسل اور انتھک کوشش پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید حوصلہ اور ہمت دے، تاکہ وہ دوسرے شعبوں میں بھی اسی طرح کی کارکردگی دکھائیں۔آمین ثم آمین.... ٭

مزید :

کالم -