دیرینہ درد انسان کوسست اور کاہل بنا سکتا ہے ‘ طبی ماہرین

دیرینہ درد انسان کوسست اور کاہل بنا سکتا ہے ‘ طبی ماہرین

  

لندن (بیورورپورٹ) طبی ماہرین نے کہا ہے کہ دیرینہ درد انسان کے ذہن کو متاثر کر کے اسے سست اور کاہل بنا سکتا ہے کیونکہ دیرینہ دردوں سے جسمانی کارکردگی کو بہتر بنانے والے محرکات اور ترغیبات بھی متاثر ہو جاتی ہیںسٹین فورڈ یونیورسٹی کیلیفورنیا سے ماہر نیل شوارٹنو کے مطابق دیرینہ دردوں میں مبتلا اکثر افراد افسردگی، تھکاوٹ اور کام کرنے یا کھانے پینے کے محرکات میں کمی آنے جیسی شکایات کرتے ہیں دیرینہ دردوں کے دوران ذہن کے اعصابی نظام میں درد کا احساس پیدا کرنے والے عوامل مزید زخمی ہونے یا مزید درد کو روکنے کے نکتہ نظر سے جنم لیتے ہیںماہرین نے اس ضمن میں چوہیا کو چاکلیٹ ملی گولی کھلا کر تجربات بھی کئے جن کی روشنی میں ماہرین نے اخذ کیا کہ درد کو ختم کرنے والی ادویات بھی چوہیا کو چاکلیٹ کھانے پر زیادہ مائل نہ کر سکی ماہرین کے مطابق دیرینہ دردوں کے دوران بننے والی کیمیکل گیلانین کا جسمانی کارکردگی اور کھانے پینے کی طرف مائل کرنے میں کمی لانے سے تعلق ہے۔

مزید :

عالمی منظر -