حکومت اور کاروباری طبقہ کو یکساں سوچ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا: چیئرمین پیاف

حکومت اور کاروباری طبقہ کو یکساں سوچ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا: چیئرمین ...

  

لاہور(کامرس ڈیسک)پیاف کے چیئرمین ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ ملک میں کاروباری سرگرمیاں بڑھانے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عام آدمی کی معاشی حالت میں بہتری لانے کے لیے حکومت اور کاروباری طبقہ کو یکساں سوچ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا ۔ پیاف کے معاشی پروگرام پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ برسوں قبل پیاف کی تشکیل کا بڑا مقصد علاقہ میں کاروباری سرگرمیوں کا فروغ اور اس سلسلے میں کاروباری طبقہ کو درپیش رکاوٹوں اور بیورو کریسی کے ہتھکنڈوں سے مکمل نجات تھا ۔

انہوں نے کہا کہ پیاف اپنے طور پر اور لاہور چیمبر کے پلیٹ فارم پر مقررہ مقاصد و اہداف کے حصول میں کوشان رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تاجر اور صنعتکار محب وطن ہیں ۔ مشکلات کے باوجود روزگار کے مواقع بڑھانے میں مخلصانہ کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ۔حکومت چلانے کے لیے دیگر طبقات کی نسبت زیادہ ریونیو فرا ہم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر سرمایہ کاری ۔ کاروبارسرگرمیوں اور صنعتکاری کے لیے حالات مکمل طور پر سازگار بنانے میں تاجروں کی تجاویز پر عمل کرے تو بہت کم وقت میں پاکستان کو خوشحالی سے ہمکنار کر دیں گے ۔ ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت کی غفلت اور حقیقی مسائل سے چشم پوشی کی وجہ سے 70 فیصد سے زیادہ بجلی درآمدی تیل سے پیدا کی جارہی ہے ۔ مہنگی بجلی کی وجہ سے باربار ڈیٹ سر کلر میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے بجلی کی دستیابی میں قلت اور کاروباری سرگرمیوں کا سلسلہ منقطع ہو نے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اس لیے انہوں نے زور دیا ہے کہ ڈیٹ سرکلر کو ہر صورت کنٹرول کیا جائے اور کم از کم وقت میں ہائیڈل بجلی پر انحصار بڑھایا جائے ۔۔ ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ ڈیوٹیوں کی شرح میں کمی اور ٹیکس نیٹ میں وسعت پیدا کی جائے ۔ ٹیکسیشن نظام میں استحصالی ہتھکنڈوں کا خاتمہ کیا جائے ۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ حکومتی دفاتر میں کرپشن کے دروازے بند کئے جائیں اور کاروباری طبقہ کے لیے دفاتر میں آسانیاں پیدا کی جائیں اس ؒسلسلے میں انہوں نے تجویز دی ہے کہ سرکاری دفاتر میں کاروباری طبقہ کے لیے علیحدہ ڈیسک قائم کئے جائیں تاکہ مصروف ترین طبقہ کے افراد کا زیادہ وقت صرف نہ ہو ۔ سستی بجلی بنانے کے واحد ڈریعہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کی جائے ۔ خارجہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں فروغ کے لیے معاشرے میں امن و امان کا بہتر ہونا بے حد ضروری ہے اس لیے پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ عوام اور کاروباری طبقہ کی بھرپور معاونت سے انتشار اور افرا تفری پیدا کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔۔ ملک طاہر جاوید نے کہا ہے کہ تاجروں اور صنعتکاروں سے متعلقہ شکایات کے سلسلے میں سرکاری افسروں اور اہلکاروں کی براہ راست مداخلت اور پکڑ دھکڑ کی بجائے متعلقہ ٹریڈ یا انڈسٹری ایسوسی ایشن سے رابطہ لازمی قرار دیا جائے ۔ پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے جدید سڑکوں اور جناتی بلوں کی تعمیر میں کمال کر دکھایا ہے تاہم انہوں نے تجویز دی ہے کہ توانائی کے بحران ختم کرنا بہت ضروری ہو چکا ہے اس لیے حکومت اگر کچھ وقت کے لیے مزید سڑکوں اور پلوں کی تعمیر موخر کرکے سرمایہ صلاحیت اور وقت توانائی کی جلد فراہمی پر لگائے تو یقینی طور پر اس کی کوششیں رنگ لائیں گی آخر میں پیاف کے چیئرمین نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کرانے میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کا ثانی کوئی نہیں اس لیے انہوں نے اپنی تجویز میں کہا ہے کہ بجلی کی فراہمی اور دیگر متعلقہ منصبوں کی نگرانی کا کام میاں شہباز شریف کے حوالے کیا جائے تاکہ مہینوں کا کام دنوں میں مکمل ہو سکے

مزید :

کامرس -