پچھلے مالی سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات جمود کا شکاررہیں

پچھلے مالی سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات جمود کا شکاررہیں

  

کراچی (اکنامک رپورٹر) تجارت کے لیے حکومت کی ناکافی کوششوں، توانائی بحران، امن وامان کی مخدوش صورتحال اور سیاسی کشمکش کے باعث گذشتہ مالی سال ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات جمود کا شکار رہیں۔ ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔ مالی سال 2014میں صرف 13 ارب73 کروڑ ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کی گئیں، سوتی دھاگے، تولیہ اور ٹینٹ کی برامدات میں کمی ہوئی، تاہم تیار ملبوسات کی برآمد میں ساڑھے 8 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا، پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ برآمدات جمود کا شکار ہیں، ادارہ فروغ برآمدات کی جانب سے پالیسیز کا فقدان ہے، جی ایس پلس اسٹیس ملنے کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہو سکا، ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل کے فروغ کے لیے حکومت روڈ میپ تیار کرے، اس سے پہلے کہ جی ایس پی کی سہولت ختم ہوجائے۔

مزید :

کامرس -