شریف برادران کے اقدامات اور جمہوریت کی بقا

شریف برادران کے اقدامات اور جمہوریت کی بقا
شریف برادران کے اقدامات اور جمہوریت کی بقا
کیپشن: 1

  

جمہوری حق اور جمہوری فرض یہ دو الگ الگ ذمہ داریاں ہیں، اب اگر کسی پارٹی کو برسرِ اقتدار پارٹی سے کوئی اختلاف ہے تو وہ احتجاج کر سکتی ہے اور یہ اس کا جمہوری حق ہے مگر جب ملک میں جنگ کی سی صورتِ حال ہو تو حکومت اور فوج کا ساتھ دینا ہر سیاسی پارٹی کا فرض ہے، کیا احتجاج کو جمہوری حق سمجھنے والے ملک کی سلامتی اور فوج کی فتح کی خاطر حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا فرض بھول گئے ہیں۔ پاکستان کسی ایک پارٹی کا نہیں، ساری سیاسی پارٹیوں اور عوام کا پاکستان ہے، اس وقت ملک کو دہشت گردی سے خطرہ ہے، حکومت اور فوج مل کر اس آفت کے خاتمے کے لئے قربانیاں پیش کر رہے ہیں یہ قربانیاں پاکستان کی سلامتی اور عوام کی حفاظت کے لئے ہیں، اس سنگین اور گھمبیر صورت حال میں ملک احتجاج اور دھرنوں کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

یہ بات یوں تو تمام سیاسی جماعتوں کو سوچنی چاہئے مگر سب سے زیادہ اس صورت حال پر علامہ طاہر القادری کو توجہ دینی چاہئے، انہوں نے 2013ءکے الیکشن سے پہلے سردیوں میں دھرنا دیا تھا اور اب گرمیوں میں لانگ مارچ کا پروگرام بنایا ہے، سردیوں کے دھرنے میں علامہ صاحب خود تو ہیٹرڈ، بلٹ پروف کنٹینر میں بیٹھے رہے اور ان کے سادہ مرید یخ بستہ ٹھنڈ میں کُھلے آسمان کے نیچے اپنے بچوں کو بیمار کرواتے رہے، نہ پہلی بار حکومت گری اور نہ ہی اس بار حکومت گرے گی، کروڑوں لوگ گھروں میں سکون سے آزادی کے پروگرامز ٹی وی پر دیکھیں اور سینکڑوں لوگ سڑکوں پر جلوس لا کر عام شہریوں کو پریشان کریں گے، جمہوری حکومتیں اس طرح نہیں گرا کرتیں۔

علامہ صاحب کا پہلے والا لانگ مارچ بھی ناکام رہا تھا اور یہ لانگ مارچ بھی ناکام رہے گا، اس کو کہتے ہیں نہ خود کام کریں گے نہ کسی اور کو کام کرنے دیں گے، آخر کیا وجہ ہے ایک دو سیاسی پارٹیاں ملک میں انتشار پھیلانے کے پروگرام بناتی رہتی ہیں، علامہ صاحب کا یہ شو بھی ناکام ہو جائے گا اور وہ واپس کینیڈا کی ڈالروں والی مسحور کن فضاﺅں میں چلے جائیں گے، جمہوری حکومت کو گرانے کے خواب دیکھنے والے کم از کم اپنے رویئے تو جمہوری بنا لیں، جمہوری رویہ یہ ہوتا ہے کہ آپ اسمبلی میں بیٹھ کر حکومت کے منصوبوں پر تنقید کریں لیکن علامہ صاحب جب کبھی قومی اسمبلی کی ایک سیٹ جیت بھی جاتے ہیں تو اسمبلی میں بیٹھ کر تنقید کرنے کی بجائے رکنیت سے ویسے ہی مستعفی ہو جاتے ہیں، اس میں دو باتیں سمجھ آتی ہیں پہلی تو یہ کہ ان کے لئے اسمبلی میں بیٹھ کر ملکی حالات سدھارنے سے زیادہ اہم کینیڈا میں بیٹھ کر صدقات و خیرات اور عطیات اکٹھا کرنا ہے یا پھر انہیں سڑکوں کی سیاست اچھی لگتی ہے کہ اس طرح سادہ مریدوں کو پولیس سے پٹوایا بھی جا سکتا اور اُن کی وفاداری جاننے کے لئے اس سے بہتر کون سی کسوٹی ہو سکتی ہے؟

 حکومت خاموشی سے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، آئے روز نئے نئے منصوبوں کا افتتاح ہو رہا ہے دوسری طرف فوج وطن عزیزکو دہشت گردوں سے بچانے کے لئے قربانیاں دے رہی ہے یہ موقع فوج کا مورال بلند کرنے کا ہے، فوج کے حوصلے اپنے نہیں تو کیا غیربلند کریں گے، ہر کام کا کوئی وقت ہوتا ہے، اب ایک سال بعد عمران خان کو دھاندلی یاد آ گئی ہے اور علامہ صاحب کو اچانک ملک و قوم کی فکر لگ گئی ہے، کیا یہ وقت تھا ایسے جلسے جلوسوں اور غصے، ناراضگیوں کا، یہ وقت تو فوج کا ساتھ دینے کا تھا، اس وقت فوج اپنے سامنے دیکھتی ہے تو اُسے دہشت گردوں کی لگائی ہوئی آگ نظر آتی ہے اپنے پیچھے دیکھتی ہے تو اُسے سیاسی پارٹیوں کی آگ لگائی ہوئی نظر آتی ہے، فوج کون سی آگ بجھائے، خدا کے لئے اپنے ملک اور اپنی قوم پر رحم کھائیں اور فوج کو کنفیوز نہ کریں، اس سے شائد آپ کا تو کوئی نقصان نہیں ہوگا مگر ملک 20 سال پیچھے چلا جائے گا۔

عوام کو اس وقت سب سے زیادہ دہشت گردی سے خطرہ ہے اس کے بعد لوڈشیڈنگ کا عفریت ہے، حکومت ان دونوں خطرات سے نبٹنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے فوج جو کہ ملکی سرحدوں کی محافظ ہے اسے وزیرستان کا محاذ دیا ہے، الحمد اللہ فوج نے وزیرستان کا 70 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے واگزار کروا لیا ہے اور انشاءاللہ سوات کی طرح باقی علاقہ جو صرف 30 فیصد ہے اسے بھی خالی کروا لے گی، سوات کی طرح وزیرستان کی فضاﺅں کے پنچھی بھی امن کے گیت گائیں گے اور یہاں کے پناہ گزین بھی با عزت طور پر اپنے گھروں کے بند دروازے کھولیں گے اور ان گھروں کے آنگنوں میں معصوم بچے پھر سے اٹھکیلیاں کریں گے، گھر پیارا گھر.... اپنا گھر کسے پیارا نہیں ہوتا یہ بات کوئی پناہ گزینوں سے پوچھے۔ اپنا وطن بھی اپنا گھر ہوتا ہے یہ بات کوئی فوج اور محبِ وطن عوام سے پوچھے، موجودہ حالات میں جو سیاسی پارٹیاں جلسے جلوسوں اور دھرنوں کی سیاست کو ہوا دے رہی ہیں انہیں پناہ گزینوں کی تلخ زندگی سے سبق حاصل کرنا چاہئے، خدا وہ وقت نہ لائے کہ کل کسی اور خطے کو پناہ گزینی کے دلخراش منظر سے گزرنا پڑے۔

 عوام کو ایسے مصائب اور مسائل سے بچانے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے، کہ ملک میں انتشار کی فضا قائم کرنے کی بجائے امن کی فضا قائم کی جائے۔ امن کی فضا ہی ملک کو ترقی کی فضاﺅں میں لا سکتی ہے اور ملک کو دہشت گردی سے بچا سکتی ہے، لیکن اس کے لئے سیاسی پارٹیوں کو احتجاج کے لئے جمہوری طریقے اپنانے ہوں گے، اس لئے بھی جمہوری طریقوں کی سیاست بہتر ثابت ہو گی کہ جمہوریت کا تسلسل جمہوری طریقوں کے احتجاج میں ہوتا ہے نہ کہ سڑکیں بلاک کرنے سے، سڑکوں پر کنٹینر لا کر شہریوں کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے سے، بالکل نہیں ایک طرف تو ہم جمہوریت ملک میں دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف جمہوریت کو پنپنے نہیں دیتے، یہ انتہائی حیران کُن بات ہے، فوج، حکومت اور عوام مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں کیا ہی اچھا ہوتا کہ ایسے میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک بھی دھرنوں کی سیاست کو چھوڑ کر دہشت گردی کے خلاف فوج، حکومت اور عوام کا ساتھ دیتی اور ملک کی سلامتی یقینی بناتی۔

مزید :

کالم -