تصوّف اسلام کی نظر میں....!

تصوّف اسلام کی نظر میں....!
تصوّف اسلام کی نظر میں....!
کیپشن: 1

  

تصوّف کیا ہے؟ اس پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اُسے مکمل طور پر پڑھنے کے لئے ایک عمر درکار ہے۔ اس موضوع کو ایک مضمون کی شکل میں قلمبند کرنا ایک دشوار کام ہے۔ بہرحال اسلامی عقائد کی روشنی میں تحریر حاضر ہے۔ کچھ مکاتب فکر کا یہ خیال ہے کہ تصوّف کا آغاز مسلمانوں نے کیا، جبکہ تاریخ بتاتی ہے کہ تصوّف قبل از اسلام ہندو، بدھ اور عیسائیوں میں بھی موجود تھا، لیکن نہایت تکلیف دہ شکل میں۔ مثلاً عیسائی صوفیاءدنیا کو شیطان کی بازی گری سمجھتے تھے اور ہر جائز آسائش و لذت سے بھاگتے تھے، وہ عمر بھر مجرد رہتے، کانٹوں اور میخوں پر سوتے، بہت ہی کم کھاتے اور اپنے آپ کو ہر قسم کی اذیت پہنچاتے، جبکہ دین اسلام نے جہاں زندگی کے دیگر پہلوﺅں میں انقلاب پیدا کیا، وہیں تصوف کا تخیل بھی مکمل طور پر بدل ڈالا۔ اسلامی تصوّف کے عناصر درج ذیل ہیں:

(1) تمام گناہوں سے اجتناب۔

(2) عبادت، پاکیزگی، تواضع، انکسار، محبت، خدمت، قناعت، تسلیم و رضا وغیرہ کو عین حیات بنا لینا۔

(3) غیبت، حسد، حرص، نمائش، بدگوئی، بداندیشی، دنیا طلبی وغیرہ سے نفرت۔

مسلم صوفیاءمندرجہ بالا خصوصیات کے مرکب تھے اور یہی اُن کا اندازِ حیات، جس نے دنیا کا دل موہ لیا اور یہ لوگ جہاں بھی پہنچے بتکدے سرد پڑتے گئے۔ دین اسلام پھیلتا چلا گیا۔ یہ صوفیائے اسلام کا ہی اعجاز تھا کہ غرناطہ کے 15 لاکھ عیسائی، ہندوستان کے کروڑوں بت پرست ، ایران کے تمام مجوسی اللہ واحد کے دین تلے ایک ہو گئے۔ مخالفانِ اسلام مسلمانوں کی ان کامیابیوں کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے، جبکہ یورپ کے اہل ِ قلم نے مسلمانوں کے صوفیائے کرام پر ”اسلام بزور شمشیر“ کا الزام عائد کر دیا، حالانکہ تاریخ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ کسی مسلم فاتح نے کسی ایک فرد کو بھی جبراً مسلمان نہیں بنایا تھا، بلکہ تبلیغ اسلام صریحاً اسلام کے صوفیائے کرام کے بلند اخلاق، کردار، توحید پرستی اور دین اسلام کی درست ترجمانی کرنے کی بدولت ہوئی۔

دین اسلام کی ترویج و ترقی میں صوفیائے کرام کا، جو کردار رہا اور ہے اس پر پھر کبھی روشنی ڈالوں گا۔ آج کا مقصد اسلامی تصوف اور اُس کے اسلامی فوائد اور دوسرے مذاہب پر اس کے اثرات کا ذکر ضروری ہے۔ اسلامی تصو ف نے عیسائی، ہندو، بدھ راہبوں کو جنگلوں، غاروں سے تکلیف دہ حالتوں سے نکال کر انسانی بستیوں میں آباد کیا۔ انہیں زندگی کی جائز لذتوں مثلاً نکاح، کھانا، پینا اور دنیاوی زندگی خوشگوار انداز میں گذارنے کی ترغیب دی۔ انہیں غیر ضروری فاقہ کشی، نفس کشی اور جسمانی اذیتوں سے بچایا اور سب سے بڑھ کر انہیں انسانوں کی طرح انسانوں میں رہنا سکھایا۔ دنیا بھر میں آج بھی دوسرے مذاہب کے صوفی، راہب اور پادری موجود ہیں، لیکن نفس کشی اور خود اذیتی کا وہ قدیم سلسلہ اب باقی نہیں رہا اور یہ سب کچھ اسلامی تصوف کی بدولت ممکن ہوا۔ مضمون کے آخر میں چند بڑے صوفیاءاکرام کے نام پیش خدمت ہیں، جن کی دین اسلام کے فروغ میں گراں قدر خدمات ہیں۔

غوث الااعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ، ابوالحسن علی ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش ؒ، خواجہ شمس تبریز ؒ، فرید الدین گنج شکر ؒ، حضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ، حضرت نظام الدین اولیائؒ ، ابراہیم ادھم ؒ، جنید بغدادیؒ، حسین بن منصور حلاج ؒ، شیخ ابوالقاسم ؒ، ابوالحسن سہروردی ؒ، مولانا جلال الدین رومیؒ اور امام غزالی ؒ۔ یہ فہرست کافی طویل ہے۔ مزید تفصیل کے لئے شیخ عطار کی تذکرة الاولیاءیا ادارہ تصنیف و تالیف لاہور کی انوارالاصفیا ملاحظہ فرمائیں۔ امام غزالیؒ کا فلسفہ یورپ کی یونیورسٹیوں میں مدتوں پڑھایا جاتا رہا۔ منصور حلاج ؒ کی کتاب الطواسسین پر پیرس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر میسی ناں نے کافی ریسرچ کی ہے۔بہرحال اسلامی صوفیائے کرام کی دین اسلام کی تبلیغ اور اسلام کو پھیلانے میں اہم ترین کردار رہا ہے۔ اُن کی خدمات کو سلام۔

مزید :

کالم -