کیا برٹش آرمی کی ایک نئی جنگجو نسل پیدا ہو چکی ہے؟

کیا برٹش آرمی کی ایک نئی جنگجو نسل پیدا ہو چکی ہے؟
کیا برٹش آرمی کی ایک نئی جنگجو نسل پیدا ہو چکی ہے؟
کیپشن: 1

  

ہمارے بعض مبصر، انگریزوں کے دورِ غلامی کو برصغیر کا بدترین دور کہا کرتے ہیں۔ ان کا ایک موقف یہ بھی ہوتا ہے کہ برٹش راج میں انڈین برٹش آرمی کے مقامی ٹروپس ”جنگ کے چارے“ کے طور پر استعمال کئے جاتے رہے۔ یہ اصطلاح ”دی فوڈر آف وار“ (The Fodder of War) برطانوی دور میں مقامی افواج کے خلاف ایک طعنے کے طور پر استعمال کی جاتی رہی۔ کہا جاتا رہا کہ انگریز، ہم دیسی لوگوں کو اپنے ”مویشیوں“ کے لئے بطور ”چارا“ استعمال کرتے رہے۔ بھاڑے کے ٹٹو اور کرائے کی سپاہی بھی اِسی قسم کی اصطلاحیں تھیں جو انڈین آرمی کے لئے بطور طعنہ (Barb) مستعمل رہیں....لیکن اگر آپ برصغیر کے برٹش دورِ غلامی کی تاریخ کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ برٹش سولجر خود بھی کرائے کے سپاہی تھے، خود بھی اپنے سیاست دانوں کی لائی ہوئی جنگوں کا چارا تھے اور خود بھی بھاڑے کے ٹٹو تھے۔ فرق صرف رنگت اور زبان کا تھا!

1601ءمیں پہلا انگریز یہاں آیا اور 1947ءمیں برصغیر کی تقسیم کے بعد تقریباً ساڑھے تین سو برس تک رفتہ رفتہ خادم سے آقا بنا۔ لیکن یہ آقائی اس نے مفت میں حاصل نہیں کی۔ اس کے لئے اسے از بس محنت کرنی پڑی، جس میں جانوں کی قربانی اور عقل ِ سلیم کی فراوانی پیش پیش تھی۔ اس عقلِ سلیم کو بعض لوگ جبرو اکراہ، چال بازی،عیاری، فریب کاری اور دھوکہ دہی کا نام دیں تو یہ اور بات ہے۔.... یہ انگریز آقا جاتے جاتے ہم غلاموں کو بھی آقائی کا ٹیکہ لگا گیا جو بہت موثر ثابت ہوا۔ اِسی ٹیکے کی تاثیر نے ہمارے اُس مس ِ خام کو پھر سے کندن بنا دیا جو ہماری غفلت کی وجہ سے تانبے اور پیتل کا روپ دھار چکا تھا۔ ہمیں ایک لحاظ سے اپنے غیر ملکی آقاﺅں کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ جنہوں نے ہماری خوابیدہ اور ڈوبتی نبض کو بیدار کر دیا۔ بقول ِ اقبال:

مسلماں کو مسلماں کر دیا، طوفانِ مغرب نے

طلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

مَیں جنگ کے ”چارے“ کی بات کر رہا تھا۔ .... دیکھا جائے تو دنیا کی ہر فوج کا ہر سپاہی اور ہر افسر جنگ کا چارا ہوتا ہے۔ ارباب ِ حکومت، خواہ سویلین ہوں خواہ ملٹری، اپنی سپاہ کو جنگ کا چارا ہی خیال کرتے ہیں۔ لیکن مَیں جمہوری دور کے مغربی ناخداﺅں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مختلف حیلوں بہانوں، اکرام و انعام اور ترغیب و تحریص کی رداﺅں میں اپنے اصل مقاصد کو پوشیدہ رکھا۔تین روز پہلے اہل ِ مغرب نے 4اگست 2014ءکو جنگ عظیم اول(1914-18ئ) کا صد سالہ جشن یا ”برسی“ منائی۔ یورپ میں کئی جگہ اس ”برسی“ کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ جی چاہتا ہے اس پر ایک الگ کالم لکھوں، لیکن پھر سوچتا ہوں کن کے لئے لکھوں؟

میری قوم تو ایک عرصے سے کسی اور طرف لگی ہوئی ہے۔ ذاتی اور ملی مفادات کے درمیان ہمارے ہاں کوئی تفریق نہیں کی جاتی، جبکہ ترقی یافتہ اقوام ان دونوں نہائتوں کے درمیان بُعد المشرقین کا ثبوت فراہم کرتی رہتی ہیں۔ یہ بڑی درد ناک داستان ہے کہ ہم اپنی ناک کے نیچے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ دور اندیشی، بصیرت، وژن اور تدبر، بادش بخیر، کبھی مسلمانوں کی امتیازی صفات ہوا کرتی تھیں جو اب ہم سے چھین کر دوسری اقوام کو عطا کی جا چکی ہیں۔

4اگست2014ءہی کی ایک اور خبر نے بھی مجھے چونکا دیا۔ خبر یہ تھی کہ برٹش آرمی چیف نے بڑے دھڑلے سے دعویٰ کر دیا ہے کہ ”ہم دس برس تک افغانستان کی جنگ میں تو اُلجھے رہے۔ لیکن، تھینکس گاڈ، اس افغان وار نے ایک نئی برطانوی نسل کو جنم دیا ہے۔ برطانوی فوج کی یہ نئی جنگجو نسل (Warrior Generation) اب ایک ایسی آزمودہ کار نسل بن چکی ہے جو دنیا کے کسی بھی خطے میں کہ جہاں ہمیں کوئی خطرہ محسوس ہو یا جہاں ہم سمجھیں کہ حالات خراب ہو رہے ہیں، یہ وہاں فوری طور پر پہنچ کر ڈیپلائے کی جا سکتی ہے اور ہمیں کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے!“

ذرا سوچئے کہ آج تو برٹش آرمی میں کوئی ”دیسی“ سپاہی نہیں، سب کے سب گورے ہیں۔ کیا ان سب گوروں کو بھی جنگ کا چارا کہیں گے؟

 اگر کوئی آرمی چیف، اپنے کسی سویلین آقا کی ایماءپر اس ”چارہ¿ جنگ“ کو ”جنگجو نسل“ کا خطاب دے تو اس سویلین آقا کی عیاری کی داد دینی چاہئے۔.... یہی وہ شراب ہے جس کے لئے اقبال ؒ نے کہا تھا کہ سرور پہلے دیتی اور پی بعد میں جاتی ہے۔

لاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر

برٹش آرمی کے موجودہ چیف آف جنرل سٹاف کا نام جنرل پیٹر وال (Peter Wall) ہے۔ انہیں ”سر“ کا خطاب بھی ملا ہوا ہے۔ موصوف نے اپنے اس بیان میں آگے چل کر فرمایا: ”اگرچہ ہم31 دسمبر 2014ءتک افغانستان سے نکل جائیں گے۔ لیکن کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہمارا یہ انخلاءکسی کمزوری کی بنا پر ہے۔ ایسا ہر گز نہیں۔ اگر کل کلاں ہمیں دوبارہ آنا پڑے تو ہم دوبارہ افغانستان آئیں گے اور اب کی بار زیادہ تجربہ اور زیادہ پیشہ ورانہ سوجھ بوجھ (Acumen) کے ساتھ آئیں گے“۔

قارئین گرامی! برطانوی جمہوریت کا ”حسن“ ملاحظہ ہو کہ وزیراعظم، ڈیوڈ کیمرون، 4اگست کو پہلی عالمی جنگ کی صد سالہ برسی کی تقریبات میں شرکت کے لئے روانہ ہو رہے ہیں تو ساتھ ہی اسی روز بیک وقت برٹش آرمی چیف کا بیان آ رہا ہے کہ دیکھو وہ عالمی جنگ بھی برطانیہ نے جیتی تھی (اور جرمنی ہارا تھا) اور یہ موجودہ جنگ ِ افغانستان جو90برس بعد برطانیہ کو لڑنی پڑی اس میں بھی ہمیں کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے مزید صراحت فرمائی کہ اگر طالبان یا القاعدہ نے دوبارہ سر اٹھایا تو اس کا سدباب زیادہ شد و مد سے کیا جائے گا۔ ہماری ”نسلِ نو“ آگے آگے ہو گی!

اس حقیقت کو بھی زیر ِ نگاہ رکھیں کہ جنرل سر پیٹر وال کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرائن کے سوال پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کی فضا سخت مکدر اور دھندلائی ہوئی ہے۔ ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم برطانیہ، نے چند روز پہلے یہ بیان بھی داغا تھا کہ روس کا موجودہ رویہ ایک سو برس پہلے والے جرمنی کے اس رویئے سے مختلف نہیںجس کے نتیجے میں پہلی عالمی جنگ چھڑ گئی تھی۔.... تاہم پھر وزیراعظم کو معاً خیال آیا کہ1914ءمیں تو برطانیہ کا دشمن، جرمنی تھا۔ وہ جنگ تو جرمنی نے شروع نہیں کی تھی۔ اعلان جنگ تو 4اگست 1914ءکو برطانیہ نے کیا تھا اور اس جنگ میں روس، برطانیہ اور فرانس اتحادی تھے اور اس اتحاد کو ”اتحادِ ثلاثہ“ کے نام سے تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کیمرون صاحب نے فوراً ہی پینترا بدلا اور اس فقرے کا اضافہ کیا کہ: ”اس بار برطانیہ یہ جنگ شروع نہیں کرے گا۔“

علاوہ ازیں برطانوی وزیر دفاع فلپ ہیمنڈ (Philip Hammond) نے بھی اپنے وزیراعظم اور آرمی چیف کی ہاں میں ہاں ملائی اور فرمایا: ”برطانیہ، صدر پوٹن کو بڑا معقول آدمی سمجھتا تھا، لیکن یوکرائن کے معاملے میںاس کے رویئے نے ہمارے اس تاثر کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی ہیں۔“

جنرل پیٹر وال کا بیان اس لئے بھی مضحکہ خیز ہے کہ افغانستان کے کوہ دمن میں12،13برس تک سر ٹکرانے کے بعد امریکہ نے وہاں سے نکل جانے ہی میں جو عافیت جانی تو کیا اس کا بھی کوئی بیان اس قسم کا آیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم طالبان اور القاعدہ کو ”سبق“ سکھانے دوبارہ افغانستان آ سکتے ہیں؟ اور یہ بھی کہ امریکن آرمی پہلے کی نسبت ”افغان وار“ کی بھٹی سے زیادہ تجربہ کار بن کر نکلی ہے؟ اور مزید یہ کہ امریکی ٹروپس کی بھی ایک نئی ”جنگجو نسل“ پیدا ہو چکی ہے جس کو اگر افغانستان یا عراق نے دوبارہ ”یاد“ کیا تو فوراً لبیک کہتے ہوئے میدانِ جنگ میں کود جائے گی۔؟

ہم جانتے ہیں کہ افغان وار میں ناٹو اور ایساف فورسز میں سب سے زیادہ تعداد امریکن ٹروپس کی تھی۔ ان کے بعد برطانوی ٹروپس کی باری آتی ہے۔ لیکن امریکہ نے تو اس بارہ سالہ جنگ میں اپنے2338 ٹروپس ہلاک کروا کر اور 19000کو ”پھٹڑ“ کروا کر یہ سبق سیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے، ہم سے نہیں اٹھایا جاتا۔ نجانے برطانوی جنرل، سر پیٹر وال کو اس قسم کا لغو بیان دینے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ (امریکی فورسز کے ہلاک شدگان اور مجروحین ٹروپس کی تعداد کے لئے دیکھئے ایلیس گرول(Elias Groll) کے مضمون کا آخری پیرا گراف روز نامہ ”گارجین“ مورخہ یکم اگست 2014ئ)

مغربی ممالک ایک عرصے سے ہر جنگ میں اپنے مجروح اور ہلاک شدہ سپاہیوں کی تعداد کا حساب کتاب بڑی قطعیت کے ساتھ لگاتے ر ہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر دیکھیں تو اس افغان وار میں امریکی ہلاک شدگان کی تعداد 2234درج ہے۔ یہ 104 ہلاک شدگان کا فرق اس لئے ہو سکتا ہے کہ بعض امریکی ٹروپس افغانستان کی حدود میں ہلاک نہیں ہوئے، بلکہ ان بارہ برسوں (2002ءتا 2014ئ) میں بعض دوسرے ہمسایہ ملکوں میں مارے گئے۔ لیکن19000 مجروحین پر سب کا اتفاق ہے۔

برطانوی ٹروپس جو ہلاک ہوئے ان کی تعداد 453 ہے۔ اس پس منظر میں برطانیہ کا آرمی چیف اگر بارِ دگر اتنے ٹروپس مروانا چاہتا ہے تو افغانوں کو کوئی پرابلم نہیں۔ وہ اس کے لئے تیار ہیں۔.... جب یہ سطور لکھی جا رہی تھیں تو میڈیا پر یہ خبر بھی فلیش کی جا رہی تھی کہ کابل میں ایک امریکی میجر جنرل،ایک بریگیڈیئر جنرل اور 14دوسرے ٹروپس طالبان کے ایک حملے میں ہلاک کر دیئے گئے ہیں۔

عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اُلجھ کر امریکہ نے دیکھ لیا ہو گا کہ اس کی قوم اب جنگ و جدل سے بیزار اور خوفزدہ ہو چکی ہے۔ کچھ ایسا ہی حال برطانویوں کا بھی ہو گا۔ لیکن کیا عراق یا افغانستان سے بھی کسی ملک نے ناٹو سے درخواست کی کہ ”براہ کرم واپس لوٹ جائیے؟“

 یہ حملہ آور اپنی ”خوشی“ سے آئے تھے اور اپنی ”خوشی“ سے بے آبرو ہو کر نکل رہے ہیں اور ابھی تو 31دسمبر 2014ءدور ہے۔ ابھی تو140 دن باقی ہیں۔ ان ساڑھے چار مہینوں میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے امریکی جرنیل یا سولجر مزید ہلاک ہوں گے اور کتنے زندگی بھر کے لئے اپاہج ہو جائیں گے۔

جنگ عظیم اول برطانیہ نے شروع کی تھی اور اس میں اس کے7لاکھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن ویلز کے سب سے بڑے پادری (آرچ بشپ) ڈاکٹر بیری مورگن (Bary Morgan) نے کل اس جنگ کی یاد تازہ کرتے ہوئے چرچ میں جو وعظ کیا وہ بڑا متوازن اور بڑا حقیقت پسندانہ تھا۔ ان کا کہنا تھا: ”جنگ، انسان کی ناکامی کی علامت ہے لیکن بعض اوقات یہ (جنگ) ضروری بھی ہو جاتی ہے کہ اگر دو برائیوں میں سے ایک کو انتخاب کرنا ہو تو جنگ ایک کمتر برائی ہے اس لئے بہتر ہے!“ میرے خیال میں تو برطانوی آرمی چیف سے یہ برطانوی آرچ بشپ ہی زیادہ عقل مند نکلا۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ جنگ، انسان کی اگلی نسل کو زیادہ جنگجو بناتی ہے اس لئے اس کا تسلسل باقی رہنا چاہئے۔ اس نے جنگ کو ایک کمتر برائی (Lesser Evil) سے تعبیر کیا جو بعض اوقات ضروری بن جاتی ہے۔

مزید :

کالم -