ہاتھیوں کی لڑائی میں جمہوریت نہ کچلی جائے

ہاتھیوں کی لڑائی میں جمہوریت نہ کچلی جائے
 ہاتھیوں کی لڑائی میں جمہوریت نہ کچلی جائے
کیپشن: 1

  

 روزنامہ ”پاکستان“ کی ہیڈ لائن پڑھ کر بہت لطف آیا۔ یوں لگا کہ جیسے ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ ہیڈ لائن کچھ یوں تھی ”لانگ مارچ کو کامیاب بنانے اور روکنے کے لئے، گھاتیں، ملاقاتیں اور ٹیلی فون پر باتیں“۔ اس ہیڈ لائن میں صورت حال کے ساتھ ساتھ ان تین مرکزی قوتوں کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے، جو اس وقت سرگرم ہیں۔ گھاتیں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری لگائے ہوئے ہیں، ملاقاتیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کر رہے ہیں اور ٹیلی فونک رابطے آصف علی زرداری نے شروع کر رکھے ہیں، تینوں قوتیں اپنی بساط کے مطابق صورت حال کو اپنے حق میں کرنے کے لئے پوری شدت سے سرگرم ہیں، مگر فی الوقت کوئی ایسی صورت نظر نہیں آ رہی کہ جسے اطمینان بخش کہا جائے۔ جوں جوں وقت گزرے گا، گھاتوں اور ملاقاتوں میں شدت آتی جائے گی، گھات لگانے والے اپنا ٹرمپ کارڈ شو کر رہے ہیں اور نہ ملاقات کرنے والے یہ راز افشاءکرنے کو تیار ہیں کہ انہوں نے 14اگست سے پہلے کیا کچھ کرنا ہے۔ البتہ ٹیلی فون کرنے والے بالکل واضح ہیں کہ انہوں نے ہاتھیوں کی اس لڑائی میں جمہوریت کے گھاس کو بچانا ہے، اب دیکھتے ہیں ان کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری اگر اتحاد کر لیتے اور کسی یکساں احتجاجی پروگرام کا اعلان کر دیتے، تو شاید حکومت کو اتنی پریشان نہ ہوتی، جتنی اس وقت ہے۔ اُس صورت میں گھات کا معاملہ اس قدر اُلجھا ہوا نہ ہوتا۔ اس وقت حکومت کے سامنے دو محاذکھلے ہوئے ہیں ایک لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کھولے بیٹھی ہے اور دوسرا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کھولنے جا رہی ہے۔ 10اگست سے14اگست تک اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔10اگست کو لاہور میں یوم شہداءکا اعلان کر کے ڈاکٹر طاہر القادری نے درحقیقت حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ اب یہ ایسا معاملہ ہے کہ حکومت اس حوالے سے آنے والے لوگوں کو روک بھی نہیںسکتی، کیونکہ بقول ڈاکٹر طاہر القادری وہ سب قرآن خوانی کے لئے ماڈل ٹاﺅن آئیں گے۔ روکنے کی صورت میں کوئی نیا سانحہ بھی رونما ہو سکتا ہے، جس کی فی الوقت کم از کم پنجاب حکومت تو کسی صورت متحمل نہیں ہو سکتی۔ رہی پنجاب پولیس تو وہ ماڈل ٹاﺅن کے نام ہی سے نفسیاتی طور پر بددلی کا شکار ہے۔ شواہد تو یہی بتا رہے ہیں کہ یوم شہداءکا یہ اجتماع صرف ماڈل ٹاﺅن تک محدود نہیں رہے گا، کیونکہ چودھری برادران نے مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں کو کم از کم7دن کا زادِ راہ لے کر یوم شہداءکی تقریب میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔ اس کا مطلب ہے اس قافلے نے کہیں آگے بھی جانا ہے۔ یہ بہت بڑی گھات ہے جسے یقینا پنجاب حکومت بھی سمجھ چکی ہو گی۔ یوم شہداءپر ہزاروں افراد کو اکٹھا کر کے ایک یا دو دن بعد اگر ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد کی طرف اپنے انقلابی مارچ کا اعلان کر دیتے ہیں، تو اتنے بڑے اجتماع کو روکنا انتظامیہ کے لئے ممکن نہیں رہے گا۔ ایک بار ایک بڑا قافلہ روانہ ہو گیا تو پھر راستے میں اس کے آگے بند نہیں باندھا جا سکے گا۔ اگر یہ حکمت عملی اسی طرح ہے کہ جیسے مجھے نظر آ رہی ہے تو پھر حکومت کی تمام تدبیریں اُلٹی ثابت ہو سکتی ہیں۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری میں رابطے اور ملاقاتیں تو اب ڈھکی چھپی نہیں رہیں، اس لئے کوئی بعید نہیں کہ14اگست کے لانگ مارچ کی حکمت عملی بھی طے پا چکی ہو، اس کا شبہ اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی یہ بار بار کہہ رہے ہیںکہ15اگست کو اسلام آباد میں سب کچھ بدل چکا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو تو ماڈل ٹاﺅن بلا رہے ہیں، پھر اسلام آباد کی بات کس بنیاد پر کر رہے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں ماڈل ٹاﺅن کے اجتماع اور اسلام آباد کے لانگ مارچ میں تعلق کا علم ہے۔ دونوں نے ایک ہی جگہ ملنا ہے اور حکومت کو چلتا کرنا ہے۔ عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا واضح اعلان کر چکے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری اس حوالے سے خاموش ہیں۔ منصوبہ بندی یہ لگتی ہے کہ حکومت اپنی ساری توجہ عمران خان کے لانگ مارچ کو ناکام بنانے پر صرف کر دے گی، ممکن ہے انہیں اور تحریک انصاف کے قائدین و سرگرم کارکنوں کو نظر بند بھی کر دیا جائے، ایسے میں اگر ڈاکٹر طاہر القادری اور چودھری برادران ماڈل ٹاﺅن میں جمع ہونے والے ہزاروں افراد کے ساتھ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیں گے، تو ان کے ساتھ راستے میں تحریک انصاف کے ہزاروں کارکن بھی شامل ہوتے جائیں گے اور ایک بڑا جلوس اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ ایک طرف یہ ہوا تو دوسری طرف عمران خان کے اس اعلان کی بنیاد پر کہ ان کی گرفتاری یا نظربندی کی صورت میں پورا ملک بند کر دیا جائے گا۔ اگر تحریک انصاف کے کارکنوں نے مختلف شہروں کو جام کر دیا تو حکومت کے لئے صورت حال سنگین ہو جائے گی۔ کہتے ہیں کہ پانی کو نہروں میں چھوڑنا آسان اور روکنا مشکل ہوتا ہے، حکومت کے لئے بھی اس وقت یہی صورت حال ہے، اسے ایک مُنہ زور پانی کے آگے بند باندھنا ہے، جو آسان نظر نہیں آتا۔

جمہوریت اور سیاست کی کامیابی کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اس میں ڈیڈ لاک پیدا نہ ہو، جہاں کہیں یہ پیدا ہو جائے وہاں الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔ اس وقت صورت حال بدقسمتی سے اسی طرف جا رہی ہے۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری دونوں ہی حکومت سے مذاکرات کا دروازہ بند کر چکے ہیں۔ عمران خان نئے انتخابات اور نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں، تو ڈاکٹر طاہر القادری پورے نظام کی بساط لپیٹ دینا چاہتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے ہو گا، اس کے لئے آئین کی کون سی شق استعمال کی جائے گی، وزیراعظم کو استعفا دینے پر کیسے مجبور کیا جا سکتا ہے، انقلاب کیسے آئے گا، نئے انتخابات کون کرائے گا؟ یہ اور ایسے اَن گنت سوالات اُٹھتے ہیں، مگر ڈیڈ لاک کی اس فضا میں ان کا جواب کوئی دینے کو تیار نہیں۔ یہی وہ صورت حال ہے، جو اس وقت قوم کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اگرچہ سیاسی رہنماﺅں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور عمران خان سے بھی ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، مگر اب شاید یہ ممکن نہ ہو، کیونکہ تحریک انصاف کے سربراہ اس وقت محاذ آرائی کی جس سطح پر کھڑے ہیں، وہاں سے ان کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ نیچے اُتریں اور ڈیڈ لاک ختم کر کے حکومت سے مطالبات منوانے کے لئے مذاکرات کریں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آصف علی زرداری اور چودھری نثار علی خان کو بھی انکار کر دیا ہے۔ گھاتیں اگر ملاقاتوں میں بدل جاتیں تو شاید ہم ڈیڈ لاک اور کسی انہونی سے بچ جاتے، مگر اس وقت ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ سیاست کے دونوں فریق، یعنی حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو شکست دینے پر تلی ہوئی ہیں، حالانکہ جمہوریت اور یاست میں ایسی کسی لڑائی کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں کہ جو پورے نظام کے لئے خطرہ بن جائے، جبکہ اس وقت یہ خطرہ پوری طرح منڈلا رہا ہے۔

مزید :

کالم -