اب کیا ہوگا؟

اب کیا ہوگا؟

  

ٹیلی ویژن کے چینلوں اور اخبارات میں سیاست دانوں کی گرم گفتاری اور دانشوروں کی خیال آفرینیوں کو دیکھ کر ہمیں دہلی کے وہ درویش یاد آ رہے ہیں جن کا تذکرہ علامہ اقبال نے ڈاکٹر خواجہ عبدالحکیم سے کیا تھا- اقبال کے مطابق ایک روز خانقاہ حضرت نظام الدینؒ میں خواجہ حسن نظامی نے ایک صاحب سے میرا تعارف کرایا اور فرمایا کہ یہ صاحب ولی درویش ہیں- مَیں نے اس درویش سے پوچھا کہ ملت اسلامیہ کے عروج و زوال اور اس کی موجودہ تباہ حالی پر بھی آپ نے غور کیا، اس کے متعلق آپ کی بصیرت کیا کہتی ہے- اس نے جواب دیا کہ ہم درویش ہیں اور اس قسم کی باتوں سے ہم واسطہ نہیں رکھتے-

آج کل پاکستان کے مستقبل کے متعلق اندازہ لگانے کے لئے عوام ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں- اخبارات میں کالم اور سیاسی مضامین پڑھتے ہیں اور یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگست میں پاکستان میں کیا ہونے والا ہے؟ مگر اکثر اینکر اور کالم نویس حضرات کے خیالات عالیہ کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ ہم اتنے بڑے دانشور ہیں- اس کے مستقبل کے متعلق سوچنا ہمارا کام نہیں ہے، بالفاظ دیگر وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کام تو انتشار پھیلانا ہے، کنفیوژ کرنا ہے اور دیکھو ہم یہ کام کتنے اچھے طریقے سے کر رہے ہیں کہ آج سب کنفیوژ نظر آ رہے ہیں اور ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہم ان کی رہنمائی کریں گے، مگر یہ تو ہمارا کام ہی نہیں ہے- ہمارا کام اختلافات کو پیش کرکے کنفیوژن کو ہوا دینا ہے-

پاکستان میں آپ کی ایسے دانشوروں سے بھی ملاقات ہو جاتی ہے جو وطن عزیز کے مسائل کا حل ایران جیسے انقلاب میں دیکھتے ہیں- مگر وہ کبھی اس پر توجہ نہیں دیتے کہ انقلاب ایران بھی وہ تبدیلیاں نہیں لا سکا جس کے خواب دیکھے گئے تھے- ایران کی معاشی طاقت کبھی شاہ ایران کے دور جیسی نہیں ہو سکی- معیشت کے علاوہ دوسرے متعدد شعبوں میں ایرانی اپنے رہنماﺅں کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کرتے ہیں اور اسے قابل تقلید قرار دیتے ہیں، مگر آج ایران میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو قومی ترقی کے لئے غیر انقلابی طریقوں کو استعمال کرنے پر یقین رکھتے ہیں-

چودہ اگست پاکستان میں یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے، مگر اس سال یوم آزادی کو یوم مارچ یا یوم انقلاب میں تبدیل کرنے کے دعوے ہو رہے ہیں- عمران خان قوم کو یہ خبر دے رہے ہیں کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے، جبکہ طاہر القادری 31اگست سے پہلے حکومت کی تبدیلی کی خبر دے رہے ہیں- ان کی انقلاب کی دی گئی متعدد تاریخیں ان کی خواہشات پر پورا اترنے میں ناکام ہو چکی ہیں- پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور جمہوریت کو بچانے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے، جبکہ جاوید ہاشمی کہہ رہے ہیں کہ اگر ملک میں مارشل لا لگا تو سب سے پہلے وہ گولی کھائیں گے- چودھری پرویز الٰہی اگست کو فیصلہ کن تبدیلی کا اعلان کر رہے ہیں- وزیر اطلاعات پرویز رشید کا فرمان ہے کہ حکومت کو مارچوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے، جبکہ تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو آزادی مارچ کرنا چاہئے، مگر خودکشی کے مشن پر نہیں جانا چاہئے-

پاکستان میں یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے، جب فوج شمالی وزیرستان میں تاریخ کی خطرناک ترین جنگ لڑ رہی ہے- معیشت خطرات میں گھری ہوئی ہے اور لوڈشیڈنگ نے عوام کی زندگیوں کے لئے مسائل پیدا کر دیئے ہیں- تجزیہ نگار سیاسی خطرات کو یا تو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہیں اور انہیں لانگ مارچ سے حکومت یا جمہوریت کو سرے سے کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا ہے- اس سیاسی طوفان میں خیبرپختونخوا حکومت کے گرنے کی صورت بھی پیدا ہو رہی ہے- تاہم وزیراعظم پاکستان یقین دلا رہے ہیں کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت گرنے کا حصہ نہیں بنیں گے-

پاکستان میں جب بھی جمہوریت آتی ہے، کچھ قوتیں اسے رخصت کرنے کے لئے سرگرم عمل ہو جاتی ہیں- انتشار اور بے یقینی پھیلانے میں وہ لوگ پیش پیش نظر آتے ہیں جو جمہوری معاشروں میں جمہوریت کے محافظ ہوتے ہیں اور یہ بھی پاکستان کی تاریخ کا افسوس ناک باب ہے کہ جب جمہوریت رخصت ہوتی ہے تو اس کی رخصتی کا باقاعدہ جشن منایا جاتا ہے- اور اس جشن میں اکثر شہروں میں دھڑا دھڑ مٹھائی تقسیم کی جاتی ہے- پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت کی رخصتی کے ایسے بے شمار واقعات سے ملاقات ہوتی ہے- مایوسی اور بے یقینی کے اس طوفان میں مجھے محترم اشرف ولانا صاحب یاد آ رہے ہیں- وہ خود درویش کامل تھے اور حضرت ابوانیس محمد برکت علی لدھیانوی کے مرید خاص تھے- ان سے کبھی پاکستان کے مستقبل کے متعلق بات ہوتی تو وہ اپنے مخصوص انداز میں محبت اور عقیدت کے عالم میں حضرت باوا جی برکت علی لدھیانوی کے یہ الفاظ دہراتے.... ”مَیں پاکستان کا محب ہوں، یہی میرے کہنے کا حق تھا اور مَیں نے یہ کہہ کر اپنا حق ادا کر دیا کہ ایک دیوانہ ایک جنگل میں تنکے چن رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کی ہاں اور نہ میں اقوام عالم کے فیصلے ہوا کریں گے“-

مزید :

کالم -