مسئلہ کشمیر سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ ہے

مسئلہ کشمیر سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ ہے
مسئلہ کشمیر سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ ہے
کیپشن: 1

  

برطانوی رکن پارلیمنٹ ڈیوڈ وارڈ نے کہا ہے کہ دیرینہ مسئلہ کشمیر سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرہ لاحق ہے اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دیا جانا چاہئے۔ ڈیوڈ وارڈ نے، جو برطانوی پارلیمنٹ میں بریڈفورڈ ایسٹ کی نمائندگی کرتے ہیں، خطے کی سیاسی اور انسانی صورت حال کے بارے میں بحث کے لئے بیک بینچ بزنس کمیٹی کو درخواست دی اور انہیں دیگر اراکین پارلیمنٹ کی حمایت بھی حاصل ہے۔

 پاکستان اور بھارت کے مابین مسئلہ کشمیر پر تنازع بہت دیرینہ ہے، جس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں بھی ہوچکی ہیں، لیکن مسئلہ ابھی تک جوں کا توں ہے۔مسئلہ کشمیر کی سلگتی چنگاری کسی بھی وقت شعلہ بن سکتی ہے ۔اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں جانتی ہیں کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہو،ا تو پھر دو ایٹمی طاقتوں کے مابین کسی وقت بھی ایٹمی جنگ چھڑنے کا خدشہ رہے گا۔کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے ہم پیشرفت کے لئے تیار ہیں، لیکن بھارت پہل کرے۔

بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ کشمیر میں فوج کو کٹھن حالات کا سامنا ہے اور کنٹرول لائن پر دراندازی کے ساتھ ساتھ ریاست کے اندر بھی اسے مقابلوں کا سامنا ہے۔ فوج مجاہدین کے خلاف برسر پیکار ہے اور اس سلسلے میں اسے کافی حد تک کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔ آرمی چیف نے یہ نہیں بتایا کہ کس کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے .... بھارتی فوج کو یا مجاہدین کو؟ اگر تو بھارتی فوج کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے، تو چند ہزار مجاہدین کے ساتھ برسرپیکار آٹھ لاکھ مسلح فوج کے لئے شرم کا مقام ہے اور اگر مجاہدین کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے جو کہ حقیقت ہے، تو بھارتی فوج کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ نہتے اور تعداد میں بہت کم ہونے کے باوجود کشمیری مجاہدین نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں۔

 انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مہلک و غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال میں ملوث ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی کی صورت حال پر کنٹرول کے لئے قابض بھارتی فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پر غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال پر ڈاکٹروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبر دار کیا ہے کہ غیر مہلک ہتھیاروں جیسے فربی گرینڈ غلیل کی مدد سے پتھر مارنا،غیر مہلک ہتھیاروں سے متاثر افراد کی تعداد سینکڑوں میں ہے درجنوں بینائی کھو چکے ہیں ،جبکہ مرچی گرنیڈ وغیرہ سے عموماً بچے اور معمر افراد بُری طرح متاثر ہوتے ہیں ۔ سرینگر ہسپتال کے اعدادوشمار کے مطابق مرچی گرنیڈ کی وجہ سے اب تک 3 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق مرچی گرنیڈ میں شامل کیمیائی مادے اور گیس کی مقدار انتہائی زیادہ ہے۔ مقبوضہ کشمےر مےں بھارتی فورسز کی طرف سے غیر مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی وجہ سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں، جن میں سے 12 کی آنکھوں کی بینائی متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔

شہر کے ایک طبی مرکز کے نیم روشن وارڈ میں اب بھی زیرعلاج چار ایسے نوجوان زخمی آنکھوں سے ان دنوں اپنے تاریک مستقبل کی طرف گھور رہے ہیں۔ان چاروں نوجوانوں کی آنکھوں میں پیلٹ گن اور غلیلوں سے مارے گئے کنچوں کی وجہ سے شدید چوٹیں آئی ہیں اور ڈاکٹروں کو ان کی آنکھ بچنے کی امیدیں نہ ہونے کے برابر نظر آتی ہیں۔اس پر طرہ یہ کہ ان نوجوانون کی گرفتاری کے لئے پولیس کی طرف سے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے تیمار داروں کو دوران شب دوسرے وارڈوں میں منتقل کرنے پرمجبور ہوگئے ہیں۔ ہسپتال میں موجود معالجین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی آنکھوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیاہے اور افضل گورو کی پھانسی کے بعد سے اب تک اس ہسپتال میں 12ایسے کیس آئے ہیں، جن کی آنکھ ضائع ہوگئی ہے۔ تاہم یہ تعداد ہر گز بھی حتمی نہیں، کیونکہ کئی اضلاع سے تو زخمی اس ہسپتال کی طرف رجوع ہی نہیں کرتے۔ مظاہروں کے دوران سی آر پی ایف وپولیس کی طرف سے آنکھوں اور جسم کے دیگر نازک اعضا کو راست نشانہ بنایا جاتا ہے۔

 برطانیہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کی بہتر پوزیشن میں اس لئے بھی ہے، کیونکہ وہ یہاں کی تاریخ، تمدن، تہذیب اور نفسیات سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے، کیونکہ اس نے اس خطے پر200 سال سے زیادہ عرصے تک حکمرانی کی ہے، لہٰذا اب ایک ایسی صورت حال میں، جبکہ اس خطے کے حالات ایک مختلف صورت حال اختیار کر چکے ہیں، تو برطانیہ اس خطے میں قیام امن کے لئے مسئلہ کشمیر حل کرانے کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرے۔ برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل میں اس لئے بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ پاکستان اور بھارت کا دوست ہے اور پاک، بھارت کے تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں برطانیہ میں آباد ہے، لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ریجن کی صورت حال کے پیش نظر مسئلہ کشمیر حل کرائے،کیونکہ برطانیہ یورپی یونین کا ایک اہم ملک ہے اور اس کے یورپ اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، لہٰذا وہ دنیا کو اس ریجن میں موجود صورت حال کی سنگینی کی نوعیت کو بہتر انداز میں دنیا کو بتا سکتا ہے۔

مزید :

کالم -