حلیفوں کا احترام، یوں بھی؟

حلیفوں کا احترام، یوں بھی؟

  

پیر صدر المشائخ فضل عثمان کابلی مجددی حضرت مجدد الف ثانیؒ کی اولاد میں سے ہیں، وہ دنیا سے رخصت ہو چکے اور جلال آباد میں مدفون ہیں۔ صدر المشائخ نے کابل میں امان اللہ خان کے دور حکومت میں جلا وطنی اختیار کی تب پاکستان پر ایوب خان حکمران تھے انہوں نے اس روحانی شخصیت کا خیر مقدم کیا، ان کو سرکاری مہمان بنا کر رہائش گاہ اور معقول وظیفہ بھی دیا تاکہ ان کی گزر بسر ہو سکے۔ پیر فضل عثمان حقیقی معنوں میں سنت رسول پر کاربند تھے اور خلاف شرع بات پر بر ملا ٹوک بھی دیتے تھے۔ ہماری ان کے ساتھ نیاز مندی حضرت علامہ ابو الحسنات قادریؒ کے در سے شروع ہوئی۔ یہ بزرگ علامہ ابو الحسناتؒ سے ملنے تشریف لایا کرتے تھے۔ اس نیاز مندی میں حضرت کی شفقت بھی شامل ہو گئی اور ہمارا تعلق کچھ بے تکلفانہ بھی ہو گیا۔ چنانچہ گلبرگ میں ان کی رہائش پر جا کر کچھ حاصل کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہی وہ بڑی ہی سادہ طبیعت کے مالک اور ریا سے بہت دور تھے۔ خود ہی افسوس کرتے اور کہتے کہ زمانہ بہت تبدیل ہو گیا، نئی نسل (60 کی دہائی کی بات ہے)بزرگوں کی بات نہیں مانتی، اس کے باوجود وہ حق بات کہنے سے نہیں چوکتے تھے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ عقیدت مند آتے اور ان کے ہاتھ چومنے کی کوشش کرتے تو وہ ہاتھ کھینچ لیا کرتے تھے اور منع فرماتے کہ ایسا نہ کریں حضرت سے کسی بھی سلسلے میں دعا کے لئے درخواست کی جاتی تو وہ ہمیشہ تمام حاضرین مجلس سے کہتے کہ دعا میں شریک ہوں، سب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کسی کی تو سن ہی لیں گے۔ پہلے بھی عرض یا اب پھر دہرا دیتے ہیں کہ سوات میں ہمیں امین الحسنات سید خلیل احمد قادری کی ہمراہی میں حضرت کے ساتھ چند روز گزارنے کا موقع ملا تھا، ابتدا ہی میں یہ واقعہ ہوا کہ جب ہم دونوں حضرت تک پہنچے تو وہ اونچے پہاڑ کے دامن میں ایک گاﺅں کے میدان میں تشریف فرما تھے۔ دور دور سے عقیدت مند آکر بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے پہنچنے پر حضرت نے خلیل قادری صاحب کو مخاطب کر کے کہا اس مرتبہ سوات میں خشک سالی کی کیفیت ہے بارش نہیں ہوئی یہ لوگ بارش کے لئے دعا کی درخواست کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جناب صدر المشائخ نے فرمایا خلیل صاحب! آﺅ ہم سب مل کر دعا کریں اللہ کسی کی تو سن ہی لیں گے اور پھر دعا ہوئی۔ حضرت نے دعا ختم کیا ور ہم سب نے ہاتھ سمیٹے ہی تھے کہ ایک کونے سے آنے والے گہرے بادل موسلا دھار بارش کی صورت اختیار کر گئے۔

حضرت علامہ ابو الحسنات ہوں یا محترم پیر صدر المشائخ یہ ایسی بزرگ ہستیاں ہیں جو کسی نوع کی بھی انا پرستی، خود ستائی یا عام لوگوں سے الگ حیثیت کے حامل تھے۔ ایسے ہی بزرگوں کی خدمت میں کچھ وقت گزارنے سے احساس ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے کوئی رتبہ عطا فرمایا وہ اتنا ہی جھک گیا اور حلیم الطبع ہو گیا۔

ان عالی مرتبت بزرگوں کی یاد آتی ہی رہتی ہے کہ دور حاضر میں بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ صاحب علم یا پیروں جیسی ہستیاں ایسی سادگی سے کوسوں دور ہیں بلکہ .... اور انا پرستی بھی صاف نظر آ جاتی اور احساس دلاتی ہے۔ آج کل ”شیخ الاسلام“ بہت اونچے جا رہے ہیں، ان کے پاس ایک نسخہ ہے جس کے استعمال سے بالکل کایا ہی پلٹ جائے گی۔ وہ تا حال اپنے اس مجرب نسخے کو اپنے تک محدود رکھے ہوئے ہیں، صرف یہی فرماتے ہیں کہ جس روز کے لئے وہ کال دیں گے اس روز انقلاب آ جائے گا اور وہ سارا نظام بدل دیں گے۔ کئی بار کے استفسار کے بعد بھی وہ فرماتے ہیں کہ انقلاب کے بعد ملک اور قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ انہوں نے ابھی تک یوم انقلاب کا اعلان نہیں کیا اب پھر انہوں نے فرمایا کہ انقلاب کے دن کا تعین 10 اگست کے یوم شہدا کے بعد ہوگا، بعض حضرات نے یہ مطلب لیا کہ وہ 10 اگست کو اعلان کر دیں گے حالانکہ ان کے خطاب سے یہ واضح تھا کہ وہ اعلان انقلاب 10 اگست کے بعد کسی وقت کریں گے۔

قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری روحانی پیشوا بھی ہیں اور ان کا احترام اس لحاظ سے بھی کیا جاتا ہے تاہم وہ ایک سیاسی راہنما بھی ہیں۔ وہ منہاج القرآن کے سرپرست اعلیٰ ہیں تو پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین بھی ہیں، یوں ان کی شخصیت میں کئی شخصیاتی صفات مدغم ہیں اور وہ روحانی پیشوا بھی ہیں، اس لئے منہاج القرآن سیکرٹریٹ ہو یا ان کی رہائش گاہ یا کوئی بھی اور مقام ان کی یہ حیثیت برقرار رہتی ہیں، آج کل وہ ہر روز کم از کم ایک تقریر اور میڈیا سے گفتگو کرتے اور پیشگوئی بھی فرماتے ہیں تازہ ترین پیش گوئی ہے کہ 31 اگست سے قبل شریف برادران کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا اور پھر ان کا انداز تخاطب آپ سے جس کے حوالے سے یہی کیا جا سکتا ہے۔ دھیان کرنا کہ ذہن بگڑا“

قبلہ گاہی کے اس بلند مرتبے کا احساس دو روز قبل اس وقت ہوا جب انہوں نے عوامی تحریک کی جنرل کونسل سے خطاب کیا یہ ایک باقاعدہ اجلاس تھا اور تاریخ کا تعین کر کے بلاای گیا اس لئے باقاعدہ سٹیج بھی تیار کی گئی تھی یہاں حضرت کی آمد معمول کے مطابق والے انداز سے ہوئی۔ حاضرین نے نعرے بلند کئے، قبلہ گاہی نے وکڑی کا نشان بنا بنا کر جواب دیا اور پھر کارروائی شروع ہوئی تو حیرت کے جھٹکے والی بات تھی جب ڈاکٹر موصوف کے انقلابی حلیف سٹیج کے سامنے ذرا نچلی سطح کے مطابق تشریف فرما تھے سٹیج پر خود قبلہ اور ان کے دوسرے عہدیدار تھے۔ چوہدری برادران کو جو ان کے حلیف اور انقلاب سے زیادہ نوازشریف حکومت جانے کی تحریک کے حامی ہیں، ذرا بھر بھی احساس نہیں ہوا اور وہ بڑے ادب سے تشریف فرما رہے۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کے دوران یہ حضرات قبلہ کے اردگرد تو تھے لیکن بارات کے دلہا محترم ڈاکٹر قادری ہی تھے۔

ہمارے نزدیک چوہدری زیرک سیاست دان اور تجربہ کار ہیں، ان کے اندر بھی انا ہے اور اس کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں لیکن یہاں صورت حال مختلف ہے وہ تو خود پروٹوکول فراہم کر رہے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چوہدری مطمئن ہیں کہ شمع محفل ڈاکٹر قادری کے سامنے ہیں اور اسے سمجھنے سے بچانا اب انہی کا کام ہے۔ اور وہ ایسا کر بھی رہے ہیں، تاہم انسان پھر بھی انسان ہے، چوہدریوں نے یقیناً محسوس بھی کیا بلکہ کرایا بھی گیا ہے چنانچہ انہوں نے بھی بارات کے ساتھ بڈھے کے جانے والی حکمت عملی سے کام لیا اس سارے کھیل کے دوران وہ چل کر منہاج القرآن آتے رہے لیکن اب انہوں نے عوامی تحریک اور اتحادیوں کا اجلاس اپنی رہائش گاہ پر بلا لیا ہے۔ یہاں وہ چوہدری ظہور الٰہی (مرحوم) والی روایت تو نبھائیں گے ہی ان کو اصل فائدہ یہ ہوگا کہ میزبان کی حیثیت سے مرکزی اہمیت ان کو حاصل ہو گی۔ کیا اس سے انا کی تسکین ہو گی۔ یہ تو اللہ ہی جانے بہر حال صورت حال بہتر ضرور ہو گی۔

مزید :

کالم -