ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں....!

ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں....!
ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں....!

  



غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان تین دن کی عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور اسرائیلی درندگی کا مسلسل نشانہ بننے والے فلسطینیوں نے وقتی طور پر کچھ سکون کا سانس لیا ہے۔ تین دن کے بعد کیا ہوگا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں، لیکن اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم (او۔آئی۔سی) کے سیکرٹری جنرل عیاض امین مدنی کے اس بیان کے بعد اس کے بارے میں اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے کہ.... ”او آئی سی ایک سیاسی تنظیم ہے، مذہبی نہیں۔ ہم ممبر ممالک کے درمیان تحقیق، تجارت اور دیگر شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اگر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے تو کس لئے؟ اس وقت فوری طور پر قرارداد کی ضرورت ہے، مگر اقوام متحدہ میں کیس فائل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ امریکہ اسے ویٹو کر دے گا۔ ہم نے اسرائیلی جارحیت کا معاملہ عالمی عدالت برائے جنگی جرائم میں لے جانے کا سوچا تھا، مگر فلسطین اور اسرائیل دونوں اس کے ممبر نہیں۔ ہر ملک کی اپنی ذمہ داری ہے اور او آئی سی تمام ممالک کی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکتی۔ پوری دنیا کو دیکھنا چاہئے کہ فلسطینیوں کی کیسے مدد کی جا سکتی ہے“؟

دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ امید تھی کہ جلد یا بدیر او آئی سی کا سربراہی اجلاس ہوگا اور مسلم حکومتوں کے سربراہ فلسطینی ممالک کو اسرائیلی درندگی سے نجات دلانے کے لئے کچھ نہ کچھ تو کریں گے، لیکن سیکرٹری جنرل صاحب نے صاف جواب دے دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہر ملک اپنی ذمہ داریاں خود پوری کرے۔ ادھر غزہ کی صورت حال یہ ہے کہ مکانات ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں، شہداءاور زخمیوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے، اور اسرائیل کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ تین دن کی جنگ بندی بھی جاری رکھے گا یا نہیں، بعد کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

اس کے ساتھ آج (6 اگست) کے ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خبر یہ بھی ہے کہ رمضان المبارک کے ختم ہوتے ہی لندن کی سڑکوں پر ”سپر کاروں“ کا رش پڑ چکا ہے۔ عرب ممالک کے با اثر ترین افراد اپنی مہنگی ترین گاڑیوں سمیت یہاں پہنچ چکے ہیں۔ سینکڑوں کی تعداد میں نجی طیاروں پر آنے والی ان گاڑیوں کی فی گاڑی لاکھوں ڈالروں میں قیمت ہے۔ اس صورت حال پر مقامی رہائشی بھی سخت برہم نظر آتے ہیں۔ لندن کے مہنگے ترین علاقے ”نائٹس برج“ کی جانب سے مقامی پولیس کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پوری رات عرب باشندے سڑکوں پر تیز رفتاری سے گاڑیاں بھگاتے ہیں۔ ایک طرف تو ان گاڑیوں نے شہریوں کا سونا محال کر رکھا ہے، دوسری طرف تیز رفتاری سے جانوں کو الگ خطرہ ہے، پھر دن کے وقت غلط پارکنگ کی وجہ سے شہریوں کو مسائل رہتے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق صرف متحدہ عرب امارات کے شہریوں کو غلط پارکنگ پر کئے گئے جرمانے ایک سال میں دوگنا ہو چکے ہیں۔ قطر اور سعودی عرب کے شہری بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں ہیں۔ گزشتہ برس مشرق وسطیٰ سے آنے والی گاڑیوں کو80ہزار پونڈ سے زیادہ رقم کے جرمانے کئے گئے، تاہم اس صورت حال سے مقامی ہوٹل اور ریستوران مالکان بے حد خوش نظر آتے ہیں، کیونکہ آنے والے دنوں میں پُر تعیش ہوٹلوں میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جائے گا۔ اب اسے مسلمانوں کی بے حسی کہیں یا وقت گزارنے کا محبوب مشغلہ!

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے بیان اور عرب ممالک کے با اثر اور متمول افراد کی عیش پرستی کے اس منظر کے بعد کیا اب فلسطینیوں کے مستقبل کے بارے میں کچھ سوچنے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟ اور کیا عرب ممالک کے حکمران اور عیش پرست طبقے اس بات سے مطمئن ہو گئے ہیں کہ اسرائیل کی یہ درندگی صرف غزہ اور فلسطین تک محدود رہے گی۔وہ اس مورچے کو سر کرنے کے بعد اپنے توسیع پسندانہ عزائم، بالخصوص ”گریٹر اسرائیل“ کے نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے مزید پیشرفت نہیں کرے گا؟ یہ خبر پڑھ کر ہمیں سورہ¿ بنی اسرائیل کی آیت 16 یاد آگئی ہے اور ڈر لگنے لگا ہے کہ: ”اور جب ہم کسی علاقے کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو وہاں کے عیش پرست لوگوں کو ڈھیل دے دیتے ہیں اور جب وہ فسق و فجور کی انتہا کر کے حجت پوری کر دیتے ہیں، تو ہم اس بستی اور علاقے کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں“۔

البتہ اس سارے تناظر میں ایک اچھی خبر بھی ہے، جس نے دل کو تسلی دی ہے کہ مسلم حکمرانوں کی غیرت و حمیت بالکل راکھ نہیں ہو گئی، بلکہ کہیں کہیں اس کی چنگاریاں موجود ہیں، جنہیں ہوا دی جائے تو حمیت و غیرت کی تپش کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خبر بھی لندن سے ہے کہ برطانوی حکومت کی پاکستانی نژاد مسلمان خاتون سعیدہ وارثی نے برطانیہ کی اسرائیل نواز پالیسی پر احتجاج کرتے ہوئے استعفا دے دیا ہے اور ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ کے بارے میں برطانیہ کی پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں، اس لئے انہوں نے وزیراعظم کو استعفا بھجوا دیا ہے۔

سعیدہ وارثی کا یہ اعلان جہاں ایک مسلمان بیٹی کی ملی حمیت کا غماز اور مسلمانوں میں غیرت و حمیت کی کسی نہ کسی درجے میں موجودگی کا اظہار ہے، وہاں او آئی سی کے سربراہوں اور سیکرٹری جنرل کے نام یہ پیغام بھی ہے کہ اگر وہ فلسطینیوں کی حمایت میں عملی طور پر کچھ نہیں کر سکتے تو او آئی سی کے مردہ گھوڑے کی لاش کو دفنا دینے کا اعلان تو کر سکتے ہیں، اس میں دیر کس بات کی ہے۔ ہمیں عیاض امین مدنی اور سعیدہ وارثی کے ان بیانات پر سودا کا یہ شعر یاد آرہا ہے اور ہم اسے مسلم حکمرانوں کی نذر کرنا چاہتے ہیں کہ:

سودا قمار عشق میں شیریں سے کوہ کن

بازی اگرچہ لے نہ سکا سر تو دے سکا

کس منہ سے اپنے آپ کو کہتا ہے عشق باز

اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

مزید : کالم