سعیدہ وارثی کا جرأت مندانہ قدم

سعیدہ وارثی کا جرأت مندانہ قدم

  


پاکستانی نژاد برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے غزہ پر ہونے والے اسرائیلی حملوں سے متعلق برطانوی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سعیدہ وارثی برطانوی دفتر خارجہ کی سینئر منسٹر آف سٹیٹ ہونے کے ساتھ فیتھ اور کمیونٹیز کی وزیر کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے تھیں۔انہوں نے اپنے دونوں عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ2010 ء میں کنزرویٹو پارٹی کی چیئرپرسن بنیں، لیکن 2012ء میں اس عہدے سے سبکدوش ہو گئیں۔ سعیدہ وارثی برطانیہ کی پہلی مسلمان خاتون رکن کابینہ تھیں ۔ان کا شمار دنیا کے پانچ سو بااثر مسلمانوں میں بھی ہوتا ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ایک وکیل ہیں۔ سعیدہ وارثی نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ انتہائی دُکھ کے ساتھ انہوں نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھجوا دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق انہوں نے اپنے استعفے میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے برطانیہ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ غزہ کی صورت حال پر برطانیہ کی پالیسی اس کے قومی مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے مستقبل میں برطانیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ برطانیہ کی پالیسی برطانوی اقدار کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی انصاف اور بنیادی حقوق کے تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔ ان کے نزدیک یہ فیصلہ ان کے لئے آسان نہیں تھا اور وہ بہت افسوس کے ساتھ اپنا استعفیٰ پیش کر رہی ہیں، کیونکہ اب وہ مزید برطانوی حکومت کی اس پالیسی کی حمایت نہیں کر سکتیں اور نہ ہی اس پر خاموشی اختیار کر کے برطانوی پالیسی کا مزید دفاع کر سکتی ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ان کوجوابی خط میں ان کے استعفے پر تاسف کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ان کو افسوس ہے کہ وہ سعیدہ وارثی سے برطانوی پالیسی کے بارے میں بات چیت نہیں کر سکے۔انہوں نے اب تک کی سعیدہ وارثی کی بہترین کارکردگی کو بھی سراہا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق ہے،لیکن پھر بھی انہیں غزہ میں عام شہریوں کے مارے جانے پر دُکھ ہے اور انہوں نے اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنے کا بھی کہا ہے۔دوسری طرف10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسی بالکل واضح ہے، غزہ کی صورت حال ان کے لئے ناقابل برداشت ہے اور برطانیہ چاہتا ہے کہ فریقین غیر مشروط جنگ بندی کریں، لیکن برطانیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی طرف سے کوئی بھی سخت موقف صورت حال کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔

بظاہر توبرطانیہ اسرائیل اور فلسطین میں جنگ بندی کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن اس نے اس سلسلے میں کوئی بھی سخت موقف نہیں اپنایا، بلکہ اس کا مسلسل یہی کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور حماس دہشت گرد ہے۔ سارے مسائل کی جڑ حماس ہے اور اگر حماس راکٹ فائر کرنا بند کر دے تو فوری جنگ بندی ممکن ہو سکتی ہے۔برطانوی حکومت کے اس موقف پر برطانیہ کے اندر بھی اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ 29روز تک فلسطینیوں کو آگ اور خون میں نہلانے کے بعد اسرائیلی فوج غزہ سے واپس چلی گئی ہے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان72 گھنٹے کے لئے جنگ بندی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق غزہ میں واقع تمام بارودی سرنگوں کو ختم کرنے کا آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی کابینہ نے سیزفائر کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ امریکی نائب مشیر برائے قومی سلامتی ٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ یہ حماس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ جنگ بندی جاری رکھے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفاعی مقامات پر کنٹرول برقرار رہے گا۔

دوسری جانب عالمی میڈیا کے مطابق رفاہ اور غزہ کی صورت حال انتہائی درد ناک ہے، غزہ غم کی تصویر بن گیا ہے۔گلیوں اور بازاروں میں پڑی شہدا ء کی لاشیں خوفناک منظر پیش کر رہی ہیں۔ ہر طرف اجڑی بستیاں ہیں اور ہسپتالوں میں لاشوں کو رکھنے کی جگہ ختم ہو چکی ہے۔اس طویل جنگ کے دوران 1867 فلسطینی شہید ہوئے، 67 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے۔ دریں اثناء فلسطین کے ڈپٹی وزیر معاشیات تیسر عمرو نے کہا ہے کہ جنگ کی وجہ سے غزہ کو 4 سے 6 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ یونیسف کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں 408 بچے جاں بحق ہوئے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں251لڑکے اور157لڑکیاں شامل ہیں۔ جاں بحق ہونے والے بچوں میں 70 فیصد 12 سال سے کم عمر کے تھے اور اب بھی اسرائیل نے عارضی جنگ بندی کسی مطالبے کی وجہ سے نہیں کی، بلکہ اس کے مطابق ہدف پورا کیا جا چکا ہے،اس لئے اس جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس ساری صورت حال میں سعیدہ وارثی کا استعفا دینا بلاشبہ ایک جرأت مندانہ قدم ہے۔ انہوں نے خاموش رہ کر برطانوی حکومت کی پالیسی کی حمایت کرنے اور ظلم کا ساتھ دینے کی بجائے کھلے عام اس کی مخالفت کر کے ایک درد مند دل رکھنے والی مسلمان خاتون کے طور پر خود کو منوا لیا ہے۔انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف زبان ہی سے نہیں عمل سے بھی فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سعیدہ وارثی جیسا دو ٹوک فیصلہ کرنے کی جرأت مسلم دنیا میں اب تک نظر نہیں آئی۔ مزاحمتی ریلیاں اور جلسے تو جاری ہیں،زبان سے تو فلسطینی عوام کی حمایت سب کرتے نظر آ رہے ہیں، لیکن اس ظلم کو روکنے کی کوششیں اتنی شدید نہیں جتنی کہ ہونی چاہئیں۔ کئی مسلم ممالک ابھی بھی اپنے اپنے گروہی مفادات کے ہاتھوں مجبور ہیں ۔ سعیدہ وارثی نے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کرنے کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی غیرت کوبھی یقیناًللکارا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اُمت مسلمہ کا خون مکمل طور پر سفید ہو چکا ہے یا ابھی کچھ لالی باقی ہے۔

مزید :

اداریہ -