توانائی کے لئے آلودگی سے پاک متبادل ذرائع اختیار کریں

توانائی کے لئے آلودگی سے پاک متبادل ذرائع اختیار کریں

  

پاکستان کو توانائی کے شدید بحران نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ سابقہ حکومت نے بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبوںکو آگے بڑھایا لیکن کوئی مکمل نہ ہو پایا، موجودہ حکومت سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ پانی، کوئلے اور ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کر لی جائے اور اگلے دو تین سال میں لوڈشیڈنگ سے نجات نہ بھی ملے تو اتنی ضرور کم ہو جائے جو بحران کا تاثر نہ دے، اس سلسلے میں آج پن بجلی اور سولر انرجی کے علاوہ آئل اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے جو منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں ان کے بارے میں عالمی تحفظات بھی موجود ہیں۔ ہر حال میں ضرورت ایجاد کی ماں کے فارمولے کے تحت کوئلے سے چلنے والے پاور ہاﺅس لگانا بھی جائز قرار پایا ہے جبکہ سولر پارک کا منصوبہ بھی زیر تکمیل ہے۔ حال ہی میں پاکستان میں دستیاب انرجی وسائل کے حوالے سے ایک امریکی ادارے ”ری نیو ایبل انرجی لیب “ کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ہوا سے کم از کم ڈیڑھ لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے ،رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کراچی ، کوئٹہ، جیوانی کے علاوہ گھارو سے کیٹی بندر تک ایک ہزار کلومیٹر کی طویل ساحلی پٹی پر ”ونڈ انرجی“ کے پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں اور ان سے مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ میگاواٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے اور یہ بجلی ماحول کو متاثر کئے بغیر حاصل ہوگی، اس سے بھی پہلے خود پاکستانی ماہرین نے بتایا تھا کہ کلر کہار کے علاقے میں بھی تیز ہوائیں چلتی ہیں اور یہاں بھی ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں۔

ہم نے ان سطور میں یہ گذارش بھی کی تھی کہ پاکستان میں”رن آف ریور“ والا فارمولا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ داسو ڈیم کا سنگ بنیاد رکھتے وقت وزیراعظم نے وادی کاغان کی ناران ویلی کا دورہ کیا تو وہاں کے تاجروں کے مطالبے پر وزیر پانی و بجلی کو دو میگاواٹ کا پاور جنریٹر لگانے کی ہدایت کی تھی۔ یہ صرف 25کروڑ روپے میں تکمیل پائے گا اور ناران اور اردگرد کی وادی کے لئے فاضل بجلی مہیا کر سکے گا، ہم نے تبھی گذارش کی تھی کہ دریائے کنہار، دریائے سوات اور ایسے دیگر دریاﺅں اور قدرتی چشموں پر چھوٹے چھوٹے پاور ہاﺅس بنائے جائیں یہ جلد تیار ہو جائیں گے اور اس سے علاقائی ضرورتیں پوری ہی نہیں ہوں گی بلکہ ان کو سستی بجلی ملے گی۔ ان علاقوں کو نیشنل گرڈ سے مہیا ہونے والی بجلی بچ جائے گی تو نیشنل گرڈ پر بوجھ بھی کم ہو گا، ایسے بہت سے منصوبے بھی چین کی مدد سے لگائے جا سکتے ہیں کہ چین میں یہ نظام بھی ہے۔حکمرانوں کو ایک بات یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے اقوام متحدہ نے تیل اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے پاور ہاﺅسوں کی حوصلہ شکنی کی ہے اور دنیا بھر میں یہ پاور ہاﺅس دس سے پندرہ سال کے اندر بند ہو جائیں گے، اگر ترقی یافتہ ممالک میں یہ صورتحال ہے تو یقینا ترقی پذیر ممالک پر بھی زد پڑے گی اور آج جو پاور ہاﺅس کثیر سرمائے سے لگائے جائیں گے وہ بند کرنا پڑیں گے اور اس وقت نیا بحران پیدا ہو گا کہ یہ بجلی گھر بہرحال متبادل انرجی پر لے جانا پڑیں گے۔

دنیا بھر میں ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے بجلی پیدا کرنے کے ذرائع تبدیل کئے جا رہے ہیں اور صرف چار ذرائع پر انحصار کیا جائے گا، زیادہ تر ہوا سورج اور پانی کے وسائل سے بجلی حاصل ہوگی جبکہ چوتھا ذریعہ ایٹمی بجلی گھر ہوں گے۔ہمیں بھی بدلتی دنیا کے منظر کو پہلے ہی سے پیش نظر رکھنا اور ہوا، سورج اور پانی پر انحصار بڑھانا چاہئے تاکہ مستقبل میں بھی آسانی ہو، جہاں تک ساحلی پٹی کا تعلق ہے تو توانائی کے لئے متبادل ذرائع والے بورڈ نے بھی سفارشات مرتب کی ہوئی ہیں۔ ان کی روشنی میں ٹھٹھہ اور بدین کے درمیان ونڈ انرجی کے دو پلانٹوں پر کام شروع ہوا اور صرف ایک مکمل ہوا جس کا افتتاح سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کیا تھا۔دنیا میں ہونے والی تازہ ترین تحقیق اور تحفظات کو ابھی سے پیش نظر رکھنا چاہئے۔ ہمیں بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ ابھی سے ”رن آف ریور“ کے علاوہ ونڈ انرجی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کرنا چاہئے۔ اگر کام تن دہی سے شروع کیا جائے تو صرف ایک سال کی محنت سے بہت زیادہ بجلی مل جائے گی اور لوڈشیڈنگ میں کمی آئے گی۔ جو بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی۔

پہاڑی سلسلوں میں بہنے والے چشموں اور دریاﺅں سے چھوٹے چھوٹے پاور ہاﺅسوں کے ذریعے بجلی پیدا کر کے مقامی لوگوں کو سستے داموں مہیا کی جائے تو اس سے ایک یہ بھی فائدہ ہو سکتا ہے کہ جنگل سے درختوں کی کٹائی بند ہو جائے کہ سردیوں میں ہیٹر بھی کام آ سکتے ہیں، حکومت کو صوبائی حکومتوں کے تعاون سے ان منصوبوں پر شروع کرنا ہو گا۔

مزید :

اداریہ -