بیوی ، بچوں کو بلاجواز تنگ کرنیوالا کسی رعایت کا مستحق نہیں :سپریم کورٹ

بیوی ، بچوں کو بلاجواز تنگ کرنیوالا کسی رعایت کا مستحق نہیں :سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے 12سالہ بیٹے کو باپ کے حوالے کرنے کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیاہے کہ بیوی اور بچوں کو بلاجواز تنگ کرنے والا شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا ۔عدالت نے باپ کو بیٹے کے 5سالہ تعلیمی اخراجات ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔سپریم کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجاز احمد چودھری اور مسٹر جسٹس عمر عطا ءبندیال پر مشتمل بنچ کے روبرو خوشاب کے ملک غلام جیلانی کی درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ فیملی عدالت اور لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ درخواست گزار کو اس کے بارہ سالہ بیٹے علی احمد سے ملاقات کروائی جائے مگر عدالتی حکم اور باقاعدہ خرچے کی ادائیگی کے باوجود سابق بیوی سائرہ گل بیٹے سے ملنے نہیں دے رہی، عدالت میں موجود خاتون سائرہ گل نے بتایا کہ غلام جیلانی اسکے بیٹے کی تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے، پہلی دفعہ اسکی بیٹے سے ملاقات کرائی تو یہ بیٹے کو لیکر غائب ہو گیا، فاضل بنچ نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعدقرار دیا کہ بیوی اور بچوں کو بلاجواز تنگ کرنے والے شخص کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا ، سپریم کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے اسے حکم دیا کہ بیٹے کے گزشتہ 5 سال کے تعلیمی اخراجات بھی ادا کرے۔

 سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -