ملک اس وقت کسی آزادی یا انقلاب مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا ،سہیل لاشاری

ملک اس وقت کسی آزادی یا انقلاب مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا ،سہیل لاشاری
ملک اس وقت کسی آزادی یا انقلاب مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا ،سہیل لاشاری

  

                                   لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور ایوان صنعت و تجارت کے صدر سہیل لاشاری نے کہا ہے کہ ملک اس وقت کسی آزادی یا انقلاب مارچ کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور اپوزیشن جماعتیں یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد دھرنے دےنے جا رہی ہیں جس سے ملکی حالات خراب ہوں گے ۔افراتفری پھیلے گی اور صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔گزشتہ روز ”پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہو ں نے کہا کہ ہماری سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو پاکستان میں 1970ءکی دہائی کی سیاست نہیں کرنی چاہئے ۔اپوزیشن اور حکومت کو سیاست کے طریقے بدلنے ہوں گے۔ پاکستان کی آزادی کیلئے بڑی قربانیاں دی گئیںلیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم 14اگست کو آزادی کی تقریبات منانے کی بجائے احتجاج کر رہے ہیں اس سے عالمی دنیا کو پاکستان کے بارے میں کیا تاثر ملے گا لہٰذاپاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو چاہئے کہ وہ آزادی مارچ یا انقلاب مارچ کی بجائے اپنے مسائل پارلیمنٹ کے اندر حل کریں ۔ایک سوال کے جواب میں لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ جب سے 14اگست کو آزادی مارچ کا اعلان ہوا ہے غیر ملکی کمپنیوںکے نمائندوںنے پاکستان آنابند کر دیا ہے ۔لاہور چیمبر کی ایکسپو میں سری لنکا کے وزیر زراعت اور 200کے قریب چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کرنی تھی لیکن وہ اس خوف کی وجہ سے پاکستان نہیں آئے کہ معلوم نہیں 14اگست کو کیا ہو جائے اور بہت کم تعداد میں غیر ملکی کمپنیوں نے ایکسپو میں شرکت کی ہے لہٰذا ہماری سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو بھی اپنی سوچ کو بدلنا ہو گااور محاذ آرائی اور منفی سیاست کو ترک کرنا ہو گا ۔ لاہور چیمبر کے صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی درست معاشی پالیسیوں کے باعث موڈیز انٹرنیشنل نے دس سال بعد پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر قرار دیا جو حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے عمل سے بینکاری نظام میں بہتری آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کی گئی اقتصادی اصلاحات،ایکسچینج ریٹ میں استحکام،مہنگائی کی شرح میں کمی،عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈز کی کامیاب فروخت،زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری،حکومتی قرضوں میں کمی،بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں استحکام اور مالی خسارے میں کمی وزیراعظم محمد نوازشریف کی حکومت کی بہتر معاشی حکمت عملی کا نتیجہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ احتجاجی دھرنوں اور ہڑتالوں سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے لہٰذا سیاست دان احتجاجی دھرنوں اور لانگ مارچ کی بجائے ملکی مسائل پارلیمنٹ کے اندر حل کرانے کی کوشش کریں سڑکوں پر دھرنوں اور احتجاج سے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔لاہور چیمبر کے صدر نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی 480ارب روپے کا سرکلر ڈٹ ختم کیا جس سے لوڈشیڈنگ میں کمی ہوئی جبکہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے چین کے تعاون سے مختلف منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کے مکمل ہونے سے نہ صرف لوڈشیڈنگ ختم ہوگی بلکہ عوام اور صنعتوں کو سستی بجلی ملے گی لیکن یہ منصوبے اسی صورت میں مکمل ہو سکتے ہیں اگر موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد کا دھرنا طویل ہو جاتا ہے اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو جاتے ہیں تو اس سے صنعت و تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔صنعتیں بند ہونے سے برآمدی آرڈرز پورے نہیں ہو سکیں گے۔ملکی برآمدات میں کمی ہو گی۔

سہیل لاشاری

مزید :

صفحہ آخر -