فیصل آباد کے صنتکاروں نے مزدوروں سمیت سڑکوں پر آنے کے لیے الٹی میٹم دیدیا

فیصل آباد کے صنتکاروں نے مزدوروں سمیت سڑکوں پر آنے کے لیے الٹی میٹم دیدیا

  

                             فیصل آباد(بیورورپورٹ)فیصل آباد شہر کی صنعتی تنظیموں نے انڈسٹری کے لئے بجلی کی لوڈشیڈنگ 16 گھنٹے کی نئی حکومتی پالیسی آج واپس نہ لینے کی صورت میں مزدوروں سمیت احتجاجاً سڑکوں پر آنے کا اعلان کر دیا ہے ۔یہ اعلان آل پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (نارتھ زون) کے چیئرمین محمد امجد خواجہ نے چیمبر آف کامرس کے صدر سہیل بن رشید‘PETAکے سابقہ چیئرمین رانا عارف توصیف‘KIEA کے اظہر مجید‘ APTPMAکے رضوان اشرف‘ آل پاکستان بیڈ شیٹ اپ ہولسٹررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک عارف احسان اور آل پاکستان کاٹن پاور لومز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب صدر اجمل قصوری کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا ۔ محمد امجد خواجہ نے کہا کہ حکومت کا انڈسٹری کے بارے میں ناروا سلوک اگر اسی طرح جاری رہا توانڈسٹری کے حالات ابتر ہو جائیں گے رمضان المبارک میں گھریلو صارفین کو سحری و افطاری کے وقت بجلی مہیا کرنے کی آڑ میں انڈسٹری کی بجلی بند کر دی گئی لیکن عید کے فورا بعد حکومت کے پالیسی میکرز کی طرف سے جاری کی گئی پالیسی کے مطابق7اگست سے 20اگست تک انڈسٹری کی لوڈشیڈنگ دورانیہ ایک دم 16گھنٹے سے زائد کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جس سے بچی کچھی انڈسٹری بھی تباہ ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ صنعتکاروں نے حکومت کو صرف اس لئے سپورٹ کیا کہ وہ انڈسٹری کو فروغ دیں گے لیکن حکومت نے صنعتکاروں کے ایف بی آر کی طرف فنڈز کلیم کی مد میں 300ارب روپے کی رقم کلیئر کرنے کی بجائے آئی پی پیز کو دے دی اس کے ساتھ گیس کا کوٹہ بھی آئی پی پیز کو دے دیا جس سے ملک میں سب سے زیادہ ایکسپورٹ کرنے والی انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ٹیکسٹائل سیکٹر میں ایکسپورٹ کا 60فیصد حصہ صرف فیصل آباد کا ہے جس سے 14سو بلین ڈالر کی ایکسپورٹ ہوتی ہے جس میں سے چار سو بلین ڈالرز صرف ہوزری کا ہوتا ہے اگر حکومت ساتھ دے تو اس ایکسپورٹ کو بڑھا کر دوگنا کیا جا سکتا ہے لیکن حکومت اس ایکسپورٹ کو ہی ختم کرنے پرتلی ہوئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی احتجاج یا لانگ مارچ کا حصہ نہیں بن رہے ہیں انڈسٹری کو بند گلی میں دھکیلنے کی کوشش کی تو فیکٹریاں بند کر کے مزدوروں کے ساتھ سڑکوں پر آ جائیں گے عام حالات میں ورکرز کا احتجاج اور ہوتا ہے اور بھوکے ورکرز کا احتجاج کچھ اور انداز کا ہوتا ہے اور اس احتجاج کو روکنا حکومت وقت کے بس کی بات نہ رہے گی ۔چیمبر آف کامرس کے صدر سہیل بن رشید نے کہا کہ انڈسٹری نہیں چلے گی تو حکومت بھی نہیں چلے گی ایک سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی ہڑتال نہیں کی اگر حکومت نے انڈسٹری کی مشکلات کا ازالہ نہ کیا تو ہم راست اقدام پر مجبور ہو جائیں گے اس موقع پر پیٹیا کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے رانا عارف توصیف نے کہا کہ 2006میں بجلی کا فی یونٹ ریٹ 5روپے‘ نگران حکومت میں 7روپے‘ پی پی پی کے دور میں 9روپے اور بزنس فرینڈلی حکومت کے دور میں یہ صرف ایک سال کے اندر 18روپے فی یونٹ تک پہنچ گیا جبکہ پی پی پی کے دور میں انڈسٹری کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 4گھنٹے تھا اور اب عام حالات میں 8سے 10گھنٹے تک ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈالر کا ریٹ تو کم کر لیا لیکن مہنگائی اور بڑھ گئی تیل ‘ڈیزل‘ بجلی اور دیگر اشیاءکے ریٹ تو کم نہ ہو سکے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت وقت نے لوگوں کا ہر طرح سے ڈر اندر سے نکال دیا ہے زیادہ سے زیادہ حکومت اب یہی کرے گی کہ وہ جلوس پر لاٹھی چارج کرے گی فائرنگ کرے گی تو ہم ان چیزوں سے نہیں ڈرتے لاٹھی چارج اور فائرنگ سے نہیں ڈرتے اگر نئے شیڈول پر عملدرآمد ہوا تو پھرصنعتکار اور مزدور سڑکوں پر ہوں گے پریس کانفرنس کے دوران رضوان اشرف‘ملک عارف احسان‘اظہر مجید اور اجمل قصوری نے بھی اظہار کیا

 الٹی میٹم

مزید :

صفحہ آخر -