پولیس کی مارچ روکنے سے معذوری ، آئی جی کی تبدیلی کا امکاں

پولیس کی مارچ روکنے سے معذوری ، آئی جی کی تبدیلی کا امکاں

  

لاہور(کرائم سیل)آزادی مارچ اور شہدا مارچ کو روکنے کے لیے آئی جی پنجاب سمیت تمام پولیس افسران نے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں زرائع کے مطابق 14اگست سے قبل آئی جی پنجاب سمیت کئی پولیس افسران کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاون سے سہمے پولیس افسران نے گن پوائنٹ پر14اگست کے موقع پر ہونے والے آزادی مارچ اور شہدا مارچ کوروکنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے، انتہائی معتبر زرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا اور قائم مقام سی سی پی او ذوالفقار حمید نے تحریک انصاف اورعوامی تحریک کے مارچ کو روکنے سے نعذوری ظاہر کی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قائم مقام سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید 22 اگست کو سکالر شپ پر ایک سپیشل کورس کے لیے بیرون ملک جا رہے تھے لیکن وہ اب وہ 12اگست تک چارج چھوڑنے کی خواہش رکھتے ہیں جبکہ آئی جی پنجاب مشتاق سکھیراکا کہنا ہے کہ ان کو واپس بلوچستان بجھوا دیا جائے ۔سانحہ ماڈن ٹاون کے بعد منہاج القرآن سے 70 بندوقیں برآمد کرنے کا ناکام دعویٰ کرنے والے سابق سی سی پی او لاہورچوہدری شفیق گجر نے آج تک برآمد ہونے والی بندوقیں پیش نہیں کیں بلکہ اپنے ایم این اے بھائی کے ذریعے وہ دوبارہ سی سی پی او لاہورلگنے کے خواب دیکھ رہے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سابق سی سی پی او لاہور اپنے آپ کو ماڈل ٹاون سانحہ میں بری الزمہ قرار دلوانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی سیٹ پر بحال ہو سکیں اس سلسلے میں آج بھی ان کا کہنا ہے کہ ماڈل ٹاون میں فائرنگ ان کے حکم سے نہیں کی گئی ۔

 آئی جی

مزید :

صفحہ آخر -