سراج الحق کو درمیانی راستے کی تلاش ،نواز شریف ،عمران خان اور خورشید شاہ رازو نیاز

سراج الحق کو درمیانی راستے کی تلاش ،نواز شریف ،عمران خان اور خورشید شاہ رازو ...

  

اسلام آباد(اے این این، آئی این پی )تحریک انصاف کے مجوزہ آزادی مارچ کے حوالے سے ملکی سیاست میں پیدا ہونے والی ہلچل مزید بڑھ گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی اہم مصالحانہ کردار میں بھی تیزی آگئی ہے اور یہ دونوں جماعتیں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی تیزترسرگرمیاں دیکھنے میں آئی ہیں پیپلزپارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اسلام آباد میں سراج الحق سے ملاقات کی ان دونوں جماعتوں کی کوشش ہے کہ جمہوری نظام کو کوئی نقصان نہ پہنچے، خورشید شاہ سے بات چیت کے بعد سراج الحق نے وزیراعظم نواز شریف، تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ (ضیاء)کے اعجاز الحق ،جمعیت اہلحدیث کے ساجد میر اور خان سے تعلق رکھنے والے غازی گلاب جمال سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جمہوری نظام برقرار رہے کہ منتخب حکومت کو غیر آئینی طریقے سے نہ ہٹایا جائے تاہم ابھی تک واضح نہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مصالحت کی کوششیں کس حد تک موثر رہی ہیں۔ تفصیل کے مطابق ملک کے بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کے لئے جماعت اسلامی اورپیپلز پارٹی میدان میں اتر آئی ہیں ،اس طرح حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مفاہمت کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔بدھ کو اسلام آباد میاں اسلم کی رہائش گاہ پر سیدخورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی، اس موقع پر لیاقت بلوچ اور امیر العظیم بھی موجود تھے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی پر سب متفق ہیں،مسائل استعفوں سے حل نہیں ہونگے ،سیاسی جماعتوں میں دراڑیں پڑیں گی تو اس کا فائدہ کوئی اور اٹھائے گا،،انہوں نے کہا کہ دستانے پہنے ہاتھ حالات کی خرابی کے ذمہ دار نہیں،اگر سیاستدان اپنی صفوں کو درست کر لیں تو کسی دستانے پہنے ہاتھ کو جرات نہیں ہو گی کہ وہ حالات کو خراب کرے ، چاہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے،سسٹم بچانے کیلئے کوششیں کررہے ہیں، صورتحال میں بہتری کے لئے پر امید ہیں، آئین اور قانون کی بالادستی پر سب متفق ہیں،سیاسی جماعتوں کو موجودہ حالات میں کردار ادا کرنا چاہیئے،انہوں نے کہا کہ سیاسی بے چینی کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ تماشائی بننے کی بجائے حالات کو درست کرنے کی کوشش کریں گے۔ احتجاج سمیت اپنی رائے کا اظہار کرنا سب کا آئینی حق ہے،سیاست میں لچکداری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے،،ملکی صورتحال میں موجود تناو کو ختم ہونا چاہییے، سیاست میں ہمیشہ درمیان کا راستہ نکالنا چاہیئے،،سیاستدانوں پر فرض ہے کہ وہ صورتحال کو معمول پر لائیں،انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہ ہے ، مجھے یقین ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود قیادت موجودہ صورتحال کو بہتر کرنے میں کامیاب ہو سکے گی،ان کا کہنا تھا کہ کوشش کرینگے کہ فریقین کو کسی بھی ٹکراو سے بچایا جا سکے،،سراج الحق نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی استعفی نہ دیں کیونکہ عید قربان سے پہلے قربانی قبول نہیں ہو گی،جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ وہ جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کر ینگے۔دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تحریک انصاف کے چےئرمین عمران خان سے ملاقات نے کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی پر عمران خان کے مطالبات جائز ہیں اور جماعت اسلامی ان کی حمایت کرتی ہے ، عمران خان کی شکایت سننا وزیراعظم کا فرض تھا اس لئے موجودہ بحرانی صورتحال کی ذمہ دار سرار حکومت ہے لیکن آزادی مارچ میں شرکت کے بارے میں 10 اگست کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی ذمہ دار سراسر حکومت ہے کیونکہ عمران خان کے سارے مطالبات جائز ہیں لیکن حکومت نے ان پر توجہ نہیں دی، عمران خان کی شکایت سننا اور انہیں دور کرنا حکومت کا فرض تھا ،اب بھی اس صورتحال سے نکلاجاسکتا ہے اگر وزیراعظم سنجیدگی سے اقدامات کریں۔ الیکشن کمیشن پر ہمیں بھی تحفظات ہیں اور نظام کو شفاف بنائے جانے کے مطالبے پر عمران خان کی حمایت کرتے ہیں۔ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف ہیں اور دھاندلی کے خلاف نظام بنائے جانے کے حامی ہیں لیکن ملک میں افراتفری اور انتشار کے خلاف ہیں، الیکشن کو تجارت بنادیا گیا ہے اور کروڑوں لگا کر منتخب ہونے والے پہلے اپنے لگائے ہوئے پیسے پورے کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی ناپسندیدہ صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی، 10 اگست کے بعد فیصلہ کریں گے کہ آزادی مارچ میں شرکت کرنی ہے یا نہیں حکومت عمران خان والے معاملے اہمیت نہیں دے رہی جس سے نقصان ہوسکتا ہے۔ کوشش کررہے ہیں کہ بحران حل کرنے کا کوئی راستہ نکل آئے سراج الحق نے وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کرکے انہیں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے اپنی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا،موجودہ صورتحال پرقابوپانے کیلئے اپنی تجاویزدیں اوراپنے تحفظات پربھی بات کی۔ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ انہوں نے وزیراعظم اورعمران خان کے علاوہ قائدحزب اختلاف سید خورشید شاہ اور محمود خان اچکزئی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں کھچاؤ اور تناؤ کی صورتحال ہے ، ہماری کوشش ہے کہ ملک کسی حادثے کاشکار نہ ہو اور کوئی سانحہ رونما نہ ہو ہم مختلف تجاویز اور آپشنز پر کام کررہے ہیں ۔ ہم نے عمران خان کی بات کو سنا ہے اور ان کی تجاویز سے وزیراعظم کو آگاہ کیا ہے ہم عوام کی نمائندگی کررہے ہیں اور عوام کی خواہش ہے کہ ملک میں کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جوملک کیلئے نقصان کا باعث بنے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنی طرف سے جو بہتر سمجھا حکومت کو تجاویز دی ہیں جن پر غور کرنا حکومت کا کام ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں زیادہ ذمہ داری حکومت کی ہی ہے ، اپوزیشن کا کام تومطالبات اور احتجاج کرنا ہوتا ہے اوران کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ یہ وفاقی حکومت کی صلاحیت کا امتحان ہے کہ وہ اس معاملے سے کس طرح نمٹتی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں امیرجماعت اسلامی نے کہاکہ حکومت مطالبات اور مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اوراب اصل بات یہ ہے کہ وہ کس طرح صورتحال سے نمٹتی ہے ؟ ۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف دھاندلی کے خلاف ایک مدت سے احتجاج کررہی ہے ، عدالتوں میں بھی گئی ہے لیکن اب تک کوئی حل نہیں نکلا دھاندلی کے توہم بھی خلاف ہیں ، کراچی اور قبائلی علاقوں کے حوالے سے ہمارے اپنے بھی بہت سے تحفظات ہیں الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تھی ، حیدر آباد میں جو ظلم ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابی اصلاحات ہوں الیکشن کمیشن آزاد ہو اور دھاندلی کے تمام راستے بند ہوں۔ سراج الحق نے کہاکہ بدقسمتی سے ملک میں سیاست تجارت بن چکی ، الیکشن میں لوگ کروڑوں روپے لگاتے ہیں اورپھر جب اسمبلی میں پہنچتے ہیں تو 100گنا کماتے ہیں ، غریب آدمی تواسمبلی میں پہنچ ہی نہیں سکتا ۔دراصل گزشتہ65سال سے کچھ لوگوں نے سیاست اورجمہوریت کو یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ انہوں نے پیسے کی طاقت سے اسمبلیوں کو بھی یرغمال بنا رکھا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم عمران خان کی دھاندلی سے متعلق شکایات کی حمایت کرتے ہیں ، ہم خود بھی متاثرہ فریق ہیں لیکن ہماری خواہش ہے کہ 14اگست کو کوئی بدمزدگی نہ ہو ۔

مزید :

صفحہ اول -