مغرب ہمارے ایٹمی اثاثوں کیخلاف ہے ،عمران خان انکا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں ، وزیردفاع

مغرب ہمارے ایٹمی اثاثوں کیخلاف ہے ،عمران خان انکا ایجنڈا پورا کر رہے ہیں ، ...

  

                               اسلام آباد(اے این این)وزیردفاع خواجہ محمدآصف نے کہاہے کہ مغربی طاقتیں ہمارے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ہیں اورعمران خان جیسے ایجنٹ پاکستان کوغیرمستحکم کرکے ان کا ایجنڈا پورا کررہے ہیں، چیئرمین تحریک انصاف برطانیہ جا کر یہودی امیدواروں کی انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں، اسلام آباد میں آرٹیکل 245 کے نفاذ کاتعلق لانگ مارچ سے نہیں شمالی وزیرستان آپریشن سے ہے،سانحہ ماڈل ٹاﺅن سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ جلد سامنے آ جائے گی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا، حکومت کو درپیش مسائل کی وجہ پرویزمشرف کا ٹرائل ہے،حکومت مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالے گی ، عدالت نے باہر جانے کی اجازت دی تو اعتراض نہیں ہو گا ۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ عمران خان کو سابق ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا نے متعارف کرایا تھاجن لوگوں نے عمران خان کو متعارف کرایا تھا اور اس کے کفیل بنے تھے اب انھوں نے کفالت سے ہاتھا اٹھا لیا ہے اور عمران خان سیاسی یتیم بن گئے ہیں۔انھوں نے کہ اکہ عمران خان نے الیکشن سے پہلے ہی اپنے بچوں کو کہہ دیا کہ وہ منتخب ہو کر وزیر اعظم ہاو¿س میں رہیں گے لیکن یہ خواہش پوری نہیں ہو ئی۔انھوں نے کہا کہ عمران خان وفاقی سطح پر سیاسی یتیم بن گئے ہیں کوئی پارلیمانی سیاسی جماعت ان کے ساتھ نہیں ہے۔ایک سوال کے جوب میں انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے ملک میں معیشت کو بحال کرنے کےلئے ایک سال میں چار قدم اٹھائے ہیں یہی ان کا قصور ہے۔ایک سال میں کرپشن کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا غلامی برادری بھی حکومت کی کارکردگی کو تسلیم کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مغربی قوتیں پاکستان کو مستحکم نہیں دیکھ سکتیں ان کو پاکستان میں کٹھ پتلی حکمرانوں کی ضرورت ہے جو ان کے اشاروں پر ناچتے رہیں۔مغربی طاقتیں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ہیں اور پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا چاہتی ہیں عمران خان جیسے لوگ ان کے ایجنٹ بنے ہوئے اور پاکستان کو غیر مستحکم کر کے ان کا ایجنڈا پورا کرنا چاہتے ہیں۔عمران خان برطانیہ جا کر یہودی امیدواروں کی انتخابی مہم چلاتے رہے ہیں۔مغربی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ کسی اسلام ملک کے باس ایٹمی ہتھیار ہوں۔انہوں نے کہاکہ 14اگست کو تشدد ہوا تو ملک کو نقصان ہو گا ، طاہر القادری اپنے کارکنان کو تشدد پر اکسا رہے ہیں اگر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے شہبازشریف کی گفتگو کی کوئی ٹیپ ان کے پاس ہے تو سامنے کیوں نہیں لاتے ، تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ جلد سامنے آ جائے گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کے حوالے سے بیان پر میں اب بھی قائم ہوں ، ان کا کوئی وارث نہیں ہے ،حکومت پرویز مشرف کے حوالے سے آئین و قانون پرعملدرآمد کرے گی ، عدالتی فیصلوں پر عمل یقینی بنایا جائے گا ، موجودہ حکومت پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالے گی ۔اگر عدالت نے انہیں باہر جانے کی اجازت دی تو حکومت کو اعتراض نہیں ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ قانون کی حکمرانی ہمارے نظریہ کی اساس ہے ، اگر پرویز مشرف کے ساتھ خصوصی سلوک کیا جاتا ہے تو جیلوں میں پڑے باقی لوگوں کا کیا قصور ہے ؟ہم اپنے حلف کی پاسداری کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی اکثریت پرویز مشرف کے معاملے پرآئین و قانون اور عدالتی فیصلوں کے احترام کی حامی ہے ، دس پندرہ فیصد لوگوں کی رائے پر فیصلے نہیں ہوتے ، پرویز مشرف آئین و قانون کا مجرم ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ بات درست نہیں ہے کہ حکومت کو درپیش موجودہ مسائل پرویزمشرف کے ٹرائل کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آرٹیکل245کے نفاذ کا عمران خان کے لانگ مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اس کا تعلق شمالی وزیرستان میں جاری آپریشن سے ہے ، فوج قوم کی جنگ لڑ رہی ہے اور اسے قانونی تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے ، یہ بات ٹھیک ہے کہ آرٹیکل 245کا اطلاق آپریشن کے وقت سے ہونا چاہیے تھا۔وزارت سے مستعفی ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں خواجہ محمد آصف نے کہاکہ میں نوازشریف کی ٹیم کا رکن اور مسلم لیگ (ن) کا ادنیٰ کارکن ہوں جس پر مجھے فخر ہے ، میری سیاسی تربیت ہے ، میرے لئے عہدوںاور وزارتوں کی کوئی حیثیت نہیں اگر میں پارٹی کے معیار اور عوامی امنگوں پر پورا نہ اتر سکوں تو وزارتوں کےساتھ چمٹنے رہنے کاحق دار نہیں اگرمیری وجہ سے حکومت کو شرمندگی ہوئی تو فوری استعفیٰ دے دوں گا ۔ خواجہ آصف نے کہاکہ پنجاب میں ستر فیصد بجلی استعمال ہورہی ہے اور اس حوالے سے شہبازشریف پنجاب کے وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے بجلی کے سب سے بڑے صارف ہیں ، وزارت پانی و بجلی کے اجلاسوں میںان کا بیٹھنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے ، ہم دوسرے صوبوں کے وزراءاعلیٰ کو بھی بلاتے ہیں، میں خود بھی پرویز خٹک سے ملا تھا ۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو مجھ سے کچھ شکایات ہیں لیکن بلوچستان میں بجلی کا سسٹم ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے جس پر کام جاری ہے ، سندھ حکومت کو بجلی کے بلوں کے حوالے سے مجھ سے اختلاف ہے ۔

وزیر دفاع

مزید :

صفحہ آخر -