استعفٰی مسئلے کا حل نہیں ، جمہوری حکومت کو5سال پورے کرنے کا موقع ملنا چاہیئے،سیاسی رہنما

استعفٰی مسئلے کا حل نہیں ، جمہوری حکومت کو5سال پورے کرنے کا موقع ملنا ...

  

             لاہور(رپورٹنگ ٹیم) لولی لنگڑی جمہوریت بھی بہترین آمریت سے کہیں بہتر ہوتی ہے جمہوری حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع ملنا چاہئے حکومت کا خاتمہ اور منتخب وزیر اعظم کا استعفی مسئلے کا حل نہیں ہے مل جل کر مسائل اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل ہونا چاہئے اگر آزادی‘ انقلاب اور لانگ مارچوں سے منتخب حکومتوں کا دھڑن تختہ ہونے لگا تو ےہ ایک نئی روایت پرورش پائے گی جس کے بعد کوئی بھی منتخب حکومت اپنی جمہوری مدت پوری نہیں کر سکے گی اس روایت کو ےہاں پر ہی ختم کرنا ہو گا عمران خان اور نواز شریف ملک و قوم کی خاطر مل بیٹھ کر معاملات طے کر لیں اگر لانگ مارچ کی وجہ سے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمے دار دونوں ہوں گے اس طرح کے اقدامات سے ملک اور جمہوریے دونوں ہی کمزور ہوں گے ۔اس امر کا اظہار مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے راہنماﺅں نے ” پاکستان کے مقبول عام سلسلے ایشو آف دی ڈے “ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے چیرمین راجہ ظفر الحق نے کہاکہ عمران خان اور طاہر القادری بتائیں کہ وہ کس کے ایجنڈے پر حکومت کے خلاف محاز آرائی کررہے ہیں ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے فوج دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے ان حالات میں دونوں کو آزادی اور انقلاب مارچ زیب نہیں دیتے ایسے لگتا ہے کہ جیسے دونوں بیرونی اور طالبان کے ایجنڈے کو لیکر حکومت کے مخالف مارچ کررہے ہیں آٹھارہ ماہ کے دوران حکومت نے جس انداز میں عوام کی خدمت کی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی حکومت کہیں نہیں جارہی ہے وزیراعظم استعفی دیں گے نہ ہی مڈ ٹرم الیکشن کی ضرورت ہے عمران کو نواز شریف نے نہیں بلکہ عوام نے مسترد کیا تھا اگر دھاندلی ہوئی تھی تو عمران خان کو نہ تو کے پی کی کی حکومت بنانی چاہئے تھی اور نہ ہی اسمبلی میں جانا چاہئے تھا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہو ئے آفتاب شیر پاﺅ نے کہا کہ ہم کسی لانگ مارچ ےا انقلاب مارچ پر ےقین نہیں رکھتے غیر جمہوری طریقے سے حکومت گرائی گئی تو جمہوریت اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ہم حکومت اور نظام کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں نیا پاکستان بنانے سے پہلے عمران خان کو نیا کے پی کا ماڈل پیش کرنا چاہئے تھا جس میں وہ ناکام رہے ہیں اگر ان کے کچھ تحفظات ہیں تو اسمبلی موجود ہے وہ وہاں بیٹھ کر اپنے معاملات کو حل کریں نہ ہی سڑکوں پر ۔مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) عمران خان کے مطالبات کی حمائت کرتی ہے نواز شریف حکومت ہر محاز پر فیل ہو چکی ہے حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے کسی محاز پر بھی عوام کو ڈلیور نہیں کر سکی ہے گیند وزیراعظم کی کورٹ میں ہے وہ فی الفور استعفی دیکر نئے انتخابات ایک آزاد خود مختار الیکشن کمیشن کی نگرانی میں کروانے کا اعلان کریں ۔جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال بگٹی نے کہا کہ اگرچہ ہم جمہوریت کے حق میں ہیں اور جمہوری حکومت کا استحکام چاہتے ہیں مارشل لاﺅں نے ملک کو کچھ نہیں دیا سیاست دان مارشل لاءکے حالات پیدا نہ کریں مگر نواز شریف حکومت کا قبلہ پہلے دن سے ہی درست نہیں ہے انہوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا ہے بلوچستان کو نظر انداز کیا ہے اگر نواز شریف کے استعفے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور ملک خانہ جنگی سے بچ سکتا ہے تو انہیں دیر نہیں کرنی چاہئے ۔تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ نواز شریف کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب مذاکرت کا وقت گزر چکا ہے نواز شریف ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں مستعفی ہو کر نئے انتخابات کا اعلان کریں ہم دھاندلی کی پیداوار حکومت کو نہیں مانتے سانحہ ماڈل ٹاﺅن برپا کرکے حکومت نے سول ڈکٹیٹر کا ثبوت دیا ہے۔اے این پی کے راہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ جو شخص کے پی کے نہیں دے سکا وہ نیا پاکستان کیا دے گا عمران خان شارٹ کٹ کے زریعے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں وہ بتائیں کہ منتخب جمہوری حکومت کو گراکر کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں جمہوری حکومت کو پانچ سال پورے کرنے چاہئے وزیراعظم کے استعفے سے مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنماﺅں قمر زمان کائرہ ‘ نوید چودھری ‘ میاں منطور احمد وٹو اور راجہ عامر خان نے تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کی جانب سے وزیراعظم کو فوری طور مستعفی ہو کر ملک میں نئے الیکشن کروانے کے مطالبے پر ” پاکستان “ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے اس مطالبے پر ملک کی باقی سب جماعتیں متفق نہیں ہیں کیونکہ سب جماعتیں ےہ سمجھتی ہیں کہ اس مطالبے کی ابھی کوئی ضرورت نہیں ہے اور جہاں تک عمران خان کے اس مطالبے اور دیگر مطالبات کا تعلق ہے تو وہ تو آج کل روز نئے سے نئے مطالبات کررہے ہیں اس لئے ان کے مطالبات پر کیا کہا جا سکتا ہے لیکن ان کے روز نئے مطالبات کی وجہ سے اتنا ضرور سمجھ میں آ رہا ہے کہ ان کے مطالبات پر ان کی اپنی جماعت بھی سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت اصل مسلہءہے انتخابی اصلاحات اور اس کے لئے اسمبلی کی کمیٹی کام کررہی ہے اور اس میں ان کی اپنی جماعت بھی موجود ہے انہیں چاہئے کہ وہ اس کمیٹی میں اپنی بات کریں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ایک منٹ کے لئے عمران خان کے مطالبے کو مان کر حکومت کو ختم کرکے نئے الیکشن کا اعلان کر بھی دیا جائے تو انتخابات تو اسی سسٹم کے تحت ہی ہوں گے کل کو وہ پھر کہیں گے کہ دھاندلی ہوئی ہے اس لئے ہم ےہ کہتے ہیں کہ روز نت نئے مطالبے اور ایسے مطالبے جو پورے نہیں ہو سکتے ان کو کرنے کی بجائے وہ انتخابی اصلاحات والی کمیٹی میں دلچسپی لیں تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دھاندلی کا راستہ روکا جا سکے پیپلز پارٹی کسی بھی غیر جمہوری مطالبے کی کسی بھی قیمت پر حمائت نہیں کرے گی عمران خان حکومت کی مدت پوری ہونے کا انتظار کریں اس کے بعد الیکشن میں عوام جو بھی فیصلہ کریں گے وہ ہمیں قبول ہو گا ۔

مزید :

صفحہ اول -