سیاسی بحران جاری، ہلچل ہی ہلچل، سیاسی رہنما سرگرم عمل!

سیاسی بحران جاری، ہلچل ہی ہلچل، سیاسی رہنما سرگرم عمل!
سیاسی بحران جاری، ہلچل ہی ہلچل، سیاسی رہنما سرگرم عمل!
کیپشن: 1

  

تجزیہ:- چودھری خادم حسین

اسلام آباد میں ہلچل ہے۔ سیاسی قائدین کی ملاقاتیں جاری ہیں۔ سیانے بحران ختم کرنے کے لئے رابطوں کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ٹھنڈے دماغ سے سادہ سی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ پارلیمان میں نمائندہ جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ عمران خان ہوں یا ڈاکٹر طاہر القادری ہر ایک سے ملاقات اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر کے ان کے تحفظات بھی دور کرانے کا یقین دلایا ہے۔ پاکستان میں موجود راہنمایان کرام نے اتفاق رائے سے کہا ہے کہ کسی بھی ماورائے آئین اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ یہ براہ راست شیخ رشید اور عمران خان کو جواب ہے جو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کا تاثر دے رہے ہیں۔گزشتہ روز بھی یہ سلسلہ جاری رہا، پیپلزپارٹی کے سید خورشید شاہ سرگرم ہیں تو سابق صدر آصف علی زرداری نے باہر سے فون پر رابطے کئے ہیں۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے نہ صرف اپنے وزراءکو مخالفانہ بیان بازی سے روک دیا ہے بلکہ بعض راہنماﺅں سے ملاقات کے وقت چوہدری نثار اور میاں محمد شہباز شریف کو انتظامی امور کے لئے مصروف رکھا ہے کہ چند حضرات کو ان سے تحفظات بھی ہیں۔ خصوصاً خورشید شاہ محترم چوہدری نثار سے الرجک ہیں، اس ساری مشق کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اس کا بھی جلد ہی پتہ چل جائے گا۔

اب ذرا عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے موقف کا الگ الگ مشاہدہ کیا جائے تو عمران خان نے توقع کے عین مطابق آخری پتہ پھینک دیا، وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مستعفی ہونے اور ملک میں نئے انتخابات نئے الیکشن کمیشن کے تحت کرانے کا مطالبہ کر دیا ساتھ ہی وہ یہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے الیکشن میں دھاندلی کی ان کو آئین کے آرٹیکل 6کے تحت سزا دی جائے خان صاحب کے مطالبے اور ان کے موقف میں عجیب سا تضاد ہے۔ بظاہر وہ آئینی راہ نکال رہے ہیں۔ لیکن بھول جاتے ہیں کہ آئین کے تحت وزیر اعظم مستعفی ہو کر اسمبلی تحلیل کر کے انتخابات کرانا بھی چاہیں تو صرف قومی اسمبلی تک ان کا اختیار ہے۔ وہ بھی اگر وہ اراکین کو بے خبر رکھ کر کرا لیا کریں کیونکہ اگر اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش سے قبل ان کے خلاف عدم اعتماد کر دی جائے تو اس کے فیصلے کا بہر صورت انتظار کرنا ہو گا اور اسمبلی تحلیل نہیں ہو سکے گی۔ اب جہاں تک صوبائی اسمبلیوں کا تعلق ہے تو وہ صرف اور صرف وزراءاعلیٰ کی سفارش پر ہی تحلیل ہو سکتی ہیں۔ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوط حکومت ہے۔ جماعت اسلامی اور حزب اختلاف اس کے خلاف ہیں، وہ مل کر عدم اعتماد والا کام کر سکتے ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی ہے وہ کیوں اپنی حکومت گنوائے گی جس کے سہارے سیاست کر رہی ہے۔ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں ہے وہاں کے سردار کبھی بھی اپنی میعاد کم کرنا چاہیں گے تو یوں عمران خان کا پہلا ہی مطالبہ ناقابل عمل دکھائی دیتا ہے۔ اب آ گئی بات الیکشن کمیشن والی تو یہ ایک آئینی ادارہ ہے جس کی میعاد اور اراکین کی مدت کا تعین ہو چکا ہے۔ اس پر اب حکومت کا اثر نہیں ہے۔ کسی بھی تبدیلی کے لئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے اور یہ پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے جس کے پاس پہلے ہی انتخابی اصلاحات کی منظور شدہ قرار داد ہے جس کے مطابق 33رکنی کمیٹی موجود ہے۔ چنانچہ اس کے لئے خان صاحب کے پاس پارلیمنٹ کا فورم ہی بچتا ہے۔ اس کے لئے ان کو کمیٹی کی کارکردگی کو تیز کرنا ہو گا چنانچہ درمیانی راہ یہی بنتی ہے کہ وہ مذاکرات کر کے اپنے ان مطالبات کو قبول کرائیں اور پارلیمنٹ سے ترامیم منظور کرا لیں اس میں کچھ لو اور کچھ دو والی بات ہو تو عمران خان کو صرف استعفی والے مطالبے سے ہٹنا اور نئے انتخابات کے لئے وقت کے تعین پر بات کرنا ہو گی۔ اسمبلی کی مدت چار سال بھی کی جا سکتی ہے۔

اب محترم ڈاکٹر طاہر القادری کے انقلاب کو دیکھیں تو ان کے پاس کون سی جادو کی چھڑی ہے کہ وہ ایک روز ”یوم انقلاب“ کا اعلان فرمائیں گے اور اس روز انقلاب آجائے گا، وہ ابھی تک یہ واضح نہیں کر سکے کہ آئین کے کس آرٹیکل اور کن شقوں کے تحت ان کا یہ انقلاب ایک ہی روز میں ملک کی کایا کلپ کر دے گا۔ اب اگر ہر دو حضرات کے غریب عوام کی ہمدردی اور حق میں دیئے جانے والے بیانات اور مقامی انقلاب کا سرسری جائیزہ لیا جائے تو عمران بنی گالا کے بنگلے، مارچ کے لئے خصوصی طور پر زیر تکمیل بس، ٹرالر اور بلٹ پروف لینڈ کروزر کا کیا حساب دیں گے اور محترم قادری صاحب کس طرح ائیرکنڈیشنڈ کنٹینر، بلٹ پروف لینڈ کروزروں، عملے کی ہائی لکس گاڑیوں اور شاہانہ عباﺅں کا حساب دیں گے؟ کسی نے کہا یہ حضرات لانگ مارچ کی بات کرتے ہیں اور جس کی پیروی میں کہتے ہیں کیا اس (ماوزے تنگ) نے ائیرکنڈیشن بلٹ پروف لینڈ کروزروں اور کنٹیٹنروں میں سفر کیا اور پانچ ہزار میل کا راستہ طے کیا تھا۔

حالات جس نہج پر پہنچائے گئے اور جس طرح مزید الاﺅ بھڑکایا جا رہا ہے، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ مداخلت کی دعوت دی جا رہی ہے لیکن اب شاید ایسی صورتحال نہیں پھر بھی سیاسی راہنماﺅں کی بھاگ دوڑ اچھا اقدا م ہے دونوں ”انقلابی راہنماﺅں“ کو اب درمیانی واسطوں کے ذریعے اپنے تحفظات دور کرانا اور مطالبات منوا کر جاری نظام میں ترامیم کرا لینا چاہئیں کہ اس سے ان کو نیک نامی اور شہرت ملے گی۔ دوسری صورت میں نہ جانے کیا ہو۔ بہرحال جو بھی ہو ملامت ضرور ملے گی اور اس وقت جو وزن بن چکا یہ پھر نہ بن سکے گا، اس سے عوام کا بھی نقصان ہو گا، بہتر عمل بات منوا لینا اور حالات کو معمول پر لانا ہی ہے۔

سیاسی بحران

مزید :

تجزیہ -