افغانستان اورپاکستان ایک دوسرے کو دبانے کیلئے طالبان تنظیمیں استعمال کرنے لگے

افغانستان اورپاکستان ایک دوسرے کو دبانے کیلئے طالبان تنظیمیں استعمال کرنے ...

  

 لندن/اسلام آباد(اے این این )برطانوی میڈیانے دعویٰ کیاہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں سرحد پار افغانستان کے علاقوں سے حالیہ حملوں میں اضافے سے بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اب دونوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے کو دبانے کے لیے طالبان تنظیموں کو استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کہاگیاکہ پاکستان پر ابتدا سے ہی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ افغان طالبان بشمول حقانی نیٹ ورک کی مدد اور حمایت کر کے انھیں کابل حکومت کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے لیکن اب لگتا ہے کہ افغان حکومت نے بھی اسلام آباد کو انھی کی زبان میں سبق سکھانے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ پاکستانی فوج کے مطابق پاک افغان سرحد ڈیورنڈ لائن کے اس پار افغان علاقوں سے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار پاکستانی علاقوں پر شدت پسندوں کی طرف سے حملے کیے گئے ہیں جن میں کئی سکیورٹی اہلکار شہید ہوچکے ہیں۔چار دن پہلے باجوڑ ایجنسی کے سرحدی علاقے غاخی پاس میں افغان علاقے سے حملہ کیا گیا جس میں ایک سکیورٹی اہلکار شہید ہوا۔ اس سے ایک دن قبل خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر میں بھی سکیورٹی حکام کے مطابق سرحد پار سے ہونے والے شدت پسندوں کے ایک حملے کو ناکام بنایا گیا جس میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے۔یہ حملے ویسے تو گذشتہ تقریبا چار سال سے جاری ہیں لیکن پچھلے دو سالوں سے ان میں تیزی آئی ہے جس میں اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈیڑھ سو سے زیادہ سکیورٹی اہلکار مارے گئے ہیں۔ پاکستانی فوج اور حکومت کی جانب سے وقتا فوقتا ان واقعات پر سخت الفاظ میں ردِعمل کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔ حالیہ واقعات پر حکومت پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو دو مرتبہ دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے سخت احتجاج کیا اور ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طرف سے ان دراندازیوں کا الزام تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مولانا فضل اللہ اور مہمند ایجنسی کے طالبان کمانڈر عمر خالد کے گروپوں پر لگایا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کنڑ اور نورستان کے صوبوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ کابل حکومت نے پاکستان مخالف تنطیموں کو اپنی سرزمین پر پناہ دے رکھی ہے۔

 تاہم دوسری طرف افغان حکومت کی طرف سے بھی پاکستانی فوج پر افغان علاقوں پر گولہ باری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان پر نظر رکھنے والے بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شاید افغان حکومت نے مجبورا اب اس پالیسی کا سہارا لینا شروع کیا ہے جس کا وہ بیشتر اوقات پاکستان سے شکایت کرتے رہے ہیں۔

ؓبر طانوی میڈیا

 

مزید :

علاقائی -