منہاج القرآن پر پولیس کی پھر چڑھائی ، راستے سیل ، طاہرالقادری کے گھراورمرکزی سیکریٹریٹ کا گھیراﺅ،اتحادیوں کااہم اجلاس طلب ، کفن باندھ کر نکلے ہیں : ڈاکٹرطاہرالقادری

منہاج القرآن پر پولیس کی پھر چڑھائی ، راستے سیل ، طاہرالقادری کے گھراورمرکزی ...
منہاج القرآن پر پولیس کی پھر چڑھائی ، راستے سیل ، طاہرالقادری کے گھراورمرکزی سیکریٹریٹ کا گھیراﺅ،اتحادیوں کااہم اجلاس طلب ، کفن باندھ کر نکلے ہیں : ڈاکٹرطاہرالقادری

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تھانہ داتادربارمیں مقدمہ درج ہونے کے بعد حکومت نے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی طرف انقلاب مارچ کی کال دینے والے ڈاکٹرطاہرالقادری کے گرد گھیراتنگ کرناشروع کردیاہے اوراُن کے ادارے کی طرف آنے جانے والے راستے سیل کرکے طاہرالقادری کے گھر اور منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے گرد پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے ، کارکنان کی بڑی تعداد بھی رات گئے پولیس کے چھاپے کے وقت سے تاحال ڈاکٹرطاہرالقادری کے گھر کے باہرموجود ہے ،ڈاکٹرطاہرالقادری نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر اتحادیوں کا اہم اور فیصلہ کن اجلاس آج طلب کرلیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق رات گئے پولیس کی بھائی نفری بیریئراور بسوں سمیت فیصل ٹاﺅن پہنچ گئی جہاں اہلکاروں نے منہاج القرآن کی طرف جانیوالے راستے بیریئرلگا کر سیل کردیئے اور پھر مسلح اہلکار وں نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ اورڈاکٹرطاہرالقادری کے گھر کو گھیرے میں لے لیا اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے گھرکا دروازہ کھلوانے کی کوشش کی تاہم ناکام رہے۔ پولیس پہنچنے کی اطلاع ملتے ہی ہاسٹل میں موجود خواتین کارکنان اورمردوں کی بڑی تعداد بھی باہر آگئی جنہوں نے ڈاکٹرطاہرالقادری کے گھر اور مرکزی سیکریٹریٹ کے باہر ڈیرے ڈال لیے ۔بات صرف طاہرالقادری کے گھر کے محاصرے تک محدود نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی کے پاس فیصل ٹائون گول چکر سے اکبر چوک، کوٹھاپنڈ فلیٹس اور نیسپاک کی طرف آنیوالی میں روڈ بھی کنٹینرلگاکر بند کردی گئی ہے جس سے شہریوں کو دشواری اور ذہنی کوفت کا سامنا ہے ۔

اپنے ایک بیان میں ڈاکٹرطاہرالقادری نے بتایاکہ پولیس نے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا، حکومت پنجاب اوچھے ہتھکنڈوں پر اُترآئی ہے ، گرفتاری سے نہیں ڈرتا، سرپرکفن باندھ کرنکلے ہیں ۔ اُن کاکہناتھاکہ عوامی تحریک کے کارکنان کو قتل کرانیوالی صوبائی حکومت امن کو تہہ بالاکرناچاہتی ہے ، ایسے حالات میں یوم شہداءیوم انقلاب میں بھی بدل سکتاہے ، شریف برادران احتیاط سے چلیں ، جیساکریں گے ، ویسابھریں گے ۔ اُنہوں نے کہاکہ سینکڑوں کارکنان کو پکڑاجاچکاہے ، ہاتھ اُٹھانیوالوں کو حساب دیناہوگا، مشاورت کیلئے اتحادی جماعتوں کا اہم اجلاس طلب کرلیاہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت پنجاب نے طاہر القادری کے انقلاب مارچ اور یوم شہداءسے نمٹنے کے لئے بنائی حکمت عملی کے تحت گھیرا تنگ کرنا شروع کر دیا ہے اور پولیس کی بھاری نفری کو ”اوپر“ سے منہاج القرآن کے سیکرٹریٹ کے گھیراﺅ کے احکامات موصول ہونے کے بعد دستوں نے پوزیشن سنبھال لی ۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ طاہر القادری کے خلاف درج مقدمے میں عوامی تحریک کے سربراہ کو ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے کی مہلت نہ دی جائے اور انہیں گرفتارکر لیا جائے تاہم ناکامی اور مزاحمت کی صورت میں انہیں ان کے گھر پر نظر بند کرنے کا حربہ استعمال کیا جائے گا۔

دوسری طرف متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لندن سے عوامی تحریک کے رہنماءرحتیق عباسی کو ٹیلی فون کرکے صورتحال معلوم کی اور کہاکہ صوبائی حکومت ٹھنڈاپانی پئے اور لاٹھی ، گولی اور طاقت کے استعمال سے گریز کرے ۔

یادرہے کہ بدھ کی شام کی وسطی اور جنوبی پنجاب میں عوامی تحریک کے کارکنان کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کردیاگیاتھا جس کا آغاز مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور سے ہوا اور اب تک درجنوں کارکنان کو گرفتارکیاجاچکاہے ۔

یادرہے کہ اس سے قبل بھی پولیس نے منہاج القرآن کے باہر بیریئرز ہٹانے کی آڑمیں چڑھائی کردی تھی جس دوران مزاحمت پر مزید نفری طلب کرلی گئی تھی اور پولیس کے شیردل جوانوں نے اعلیٰ حکومتی شخصیت کے کہنے پر سبق سکھاتے ہوئے نہتی خواتین کے منہ میں بندوقیں رکھ کر گولیاں چلائی تھیں اور اس سارے معاملے کی تحقیقات کے لیے حسب سابق ایک تحقیقاتی کمیشن اپنا کام کررہاہے ۔

مزید :

لاہور -Headlines -