انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے مطالبے پر انتخابی اصلاحات کیلئے تشکیل دی گئی33رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس میں انکشاف کیاگیا کہ چیئرمین منتخب ہونے والے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے نام پر اپوزیشن جماعتیں متفق نہیں تھیں ، تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے رضاربانی کا نام تجویز کیاتاہم خود پیپلزپارٹی نے حکومتی رکن کی حمایت کردی ۔

ذرائع نے بتایاکہ چیئرمین کے انتخاب کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں حکومت کی طرف سے اسحاق ڈار کانام تجویز کیاگیاجس کی تحریک انصاف کی رہنماءشیریں مزاری نے مخالفت کی اورپیپلزپارٹی کے رضاربانی کا نام تجویز کردیا۔اُنہوں نے موقف اپنایاکہ رضاربانی ایک سینئرمنجھے ہوئے سیاستدان ہیں ، اُن کی آئین و قانون پر بھی گرفت ہے ، اپوزیشن کی نمائندگی کیلئے اُنہیں کمیٹی کا چیئرمین بنایاجائے ۔

تحریک انصاف کی تجویز پر پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے رضاربانی کے چیئرمین منتخب ہونے کی مخالفت کی اور اسحاق ڈار کی حمایت کردی ۔

ذرائع کاکہناتھاکہ اسحاق ڈار کو کمیٹی کا چیئرمین بنانے پر تحریک انصاف نے احتجاج کیا اور فیصلہ کیاکہ چیئرمین کے انتخاب کا معاملہ کمیٹی کے باہر قومی اسمبلی میں بھی اُٹھایاجائے گا۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -