انسانی فضلہ صحت کا آئینہ دار

انسانی فضلہ صحت کا آئینہ دار
انسانی فضلہ صحت کا آئینہ دار

  

 برمنگھم (نیوز ڈیسک) ہماری صحت اچھی ہونے کی صورت میں ہی جسم تمام افعال درست طور پر انجام دے پاتا ہے۔ جسم سے فاضل مادوں کا اخراج بھی انہی افعال میں سے ایک ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ مکمل صحت کی صورت میں فضلے کی حالت کیسی ہوتی ہے اور اس میں تبدیلیوں کا کیا مطلب ہے۔ اس ضمن میں چند انتہائی اہم باتیں پیش خدمت ہیں:

٭.... روزانہ فضلے کی مقدار اوسطاً 300 سے 350 گرام ہونا چاہیے اور اسے سخت نہیں ہونا چاہیے۔ اگر اخراج کیلئے زور لگانا پڑے یا فضلہ تیل کی طرح باریک صورت میں خارج ہو تو قبض یا نیم قبض کی علامت ہے۔

٭.... پتلے پخانے دن میں متعدد بار ہوں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا جسم غذائی اجزاءجذب نہیں کرپارہا۔ یہ مسئلہ گندم وغیرہ میں پائی جانے والی پروٹین گلوٹن سے الرجی کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کیلئے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے گلوٹن فری خوراک استعمال کی جاسکتی ہے۔

٭.... عام حالات میں فضلے کا رنگ قدرے کم گہرا خاکستری ہوتا ہے لیکن اگر یہ وقت سے پہلے خارج ہورہا ہے تو سبزی مائل ہوسکتا ہے۔ آئرن یا سمتھ کو ادویات یا وٹامن کی گولیوں کی صورت میں استعمال کرنے سے فضلے کا رنگ سیاہی مائل ہوسکتا ہے۔ اگر مستقبل سیاہی مائل فضلہ دیکھنے میں آئے تو یہ اندرونی اعضاءسے خون رسنے کی علامت ہے اور اس صورت میں بغیر وقت ضائع ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔

٭.... مٹیالے رنگ کا فضلہ جگر کی بیماری کی علامت ہے جبکہ زرد رنگ کا مطلب چکنائی کا ہضم نہ ہونا اور اسہال کا اشارہ ہوسکتا ہے۔

٭.... فضلے کا بدبودار ہونا نارمل بات ہے لیکن حد سے زیادہ بدبو دار ہونے کا مطلب ہے کہ اس میں ایسے کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین موجود ہے جس جسم میں جذب نہیں ہوسکے۔

٭.... رفع حاجت کا بہترین وقت جاگنے کے فوراً بعد ہے۔ لیکن آپ کی نیند کی عادات اور ذہنی دباﺅ کی وجہ سے وقت آگے پیچھے ہوسکتا ہے۔ عادی سگریٹ نوشوں کو عام طور پر رفع حاجت سے پہلے کش لگانا پڑسکتا ہے لیکن یہ صرف ایک نفسیاتی مسلہ ہے .

مزید :

تعلیم و صحت -