ایران گیس منصوبہ مکمل نہ ہوا تو یومیہ 30 لاکھ ڈالر جرمانہ دینا ہوگا

ایران گیس منصوبہ مکمل نہ ہوا تو یومیہ 30 لاکھ ڈالر جرمانہ دینا ہوگا
ایران گیس منصوبہ مکمل نہ ہوا تو یومیہ 30 لاکھ ڈالر جرمانہ دینا ہوگا
کیپشن: Pak, Iran gaspipeline

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) قومی اسمبلی کو حکومت نے بتایا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 5297 کیس درج ہوئے، سب سے زیادہ واقعات سندھ میں ہوئے جن کی تعداد 1908 ہے، غیرت کے نام پر چاروں صوبوں میں 418 خواتین کو قتل کیا گیا، پاکستان سے افغانستان میں نیٹو فورسز کے لئے سپلائی جاری ہے اور اس کے لئے دو ووٹ طور ختم اور چمن مختس ہیں۔ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران نیٹو کا کوئی نیا سامان کراچی پورٹ پر نہیں آیا۔ 31 دسمبر 2014ءتک پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل نہ ہوا تو پاکستان یومیہ 30 لاکھ ڈالر جرمانہ ادا کرے گا، یہ منصوبہ ایران پر عالمی پابندیوں کی وجہ سے مقررہ وقت پر مکمل ہونا مشکل ہے۔ صرف کرک میں 6 سے 8 ارب روپے کی گیس چوری ہورہی ہے، بدھ کو قومی اسمبلی میں وقف سوالات کے دوران عذرا افضل کے سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ ایل این جی کے پہلے ٹرمینل پر کام جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ دسمبر 2014ءتک اس کو مکمل کریں تاہم طے شدہ ہدف مارچ 2015ءہے۔ پارلیمانی سیکرٹری شہزادی عمر ٹوانہ نے بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اپنی مقررہ مدت میں مکمل نہ ہونے پر پاکستان یومیہ 30 لاکھ ڈالر ادا کرے گا، پاکستان اپنے علاقہ میں جنوری 2015ءتک یہ منصوبہ مکمل نہیں کرسکتا۔

مزید :

بزنس -