دنیا میں سونا کتنا ہے؟ دلچسپ تحقیق

دنیا میں سونا کتنا ہے؟ دلچسپ تحقیق
دنیا میں سونا کتنا ہے؟ دلچسپ تحقیق
کیپشن: Gold

  

لاہور (ویب ڈیسک) ذرا خود کو ایسا زبردست ولن سمجھیں، جو دنیا میں موجود تمام سونے پر قابض ہوجاتا ہے، پھر آپ طے کرتے ہیں کہ اس سونے کو مکعب (Cube) کی شکل دی جائے۔ کیا کئی سو کلومیٹر موٹی اور لمبی؟ جی نہیں، آپ نے غلط اندازہ لگایا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے سونے کو مکعب کی شکل دی جائے تو وہ با آسانی ایک گھر میں سماجائے گا۔ درج ذیل حقائق دلچسپ انکشاف کرتے ہیں:

٭ سونے کی کثافت اضافی 19.3 (Specific gravity) ہے، یعنی وہ پانی سے 19.3 کلو زیادہ وزن رکھتا ہے۔ گویا ایک لیٹر سونا 19.3 کلو وزنی ہوتا ہے۔

٭ ایک لیٹر مکعب (Cube) چاروں طرف سے 10 سینٹی میٹر (چار انچ) سائز رکھتا ہے اور کلو سونا 32.15 ٹرائے اونس پر مشتمل ہوتا ہے۔ گویا دنیا میں ہر سال اتنا سونا نکلتا ہے، جس کا مکعب چودہ فٹ لمبا چوڑا ہوگا۔ گویا کانوں سے نکلنے والا سالانہ سونا ایک عام کمرے میں بآسانی سماسکتا ہے۔

درض بالا مکعب کا وزن 1,555.219 کلو ہوگا۔ یہ سطریں قلم بند ہوتے وقت عالمی مارکیٹ میں سونے کی فی کلو قیمت 44,531 ڈالر تھی۔ گویا ہر سال کانوں سے قریباً 69 ارب 255 کروڑ ڈالر کا سونا نکالا جاتا ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ رقم 69 کھرب 225 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ رقم زیادہ ہے، مگر اسے غیر معمولی نہیں کہا جاسکتا۔ مثلاً امریکا میں اس سال محکمہ تعلیم کا بجٹ 71 کھرب روپے ہے جبکہ امریکی افواج کو 672 کھرب روپے دئیے گئے۔ اسی طرح بھارت کا جنگی بجٹ 39 کھرب روپے جبکہ پاکستان کا ساڑھے چھ کھرب روپے رہا۔

٭کتنا سونا نکل چکا؟٭

تاہم یہ اندازہ لگانا کٹھن مرحلہ ہے کہ معلوم انسانی تاریخ میں کانوں سے کتنا سونا نکالا جاچکا۔ اس ضمن میں ماہرین مختلف اندازے لگاتے ہیں۔ مثلاً ایک ماہر نے یہ تخمینہ لگایا کہ پچھلے دو سو برس سے پانچ کروڑ اونس سالانہ سونا نکل رہا ہے۔ بظاہر یہ مقدار زیادہ لگتی ہے، مگر یہ ملحوظ خاطر رہے کہ قدیم مصریوں اور جنوبی امریکہ کے باشندوں نے بڑی مقدار میں کانوں سے سونا نکالا تھا۔ مثلاً صرف توتخ آمن کے مقبرے ہی سے 1.5 ٹن سونا نکلا۔ لہٰذا دجر بالا سونے کی مقدار مناسب لگتی ہے۔

اب پانچ کروڑ کو دوسو سے ضرب دیجیے۔ دس ارب سونے کا مکعب چاروں طرف سے قریباً 25 میٹر 82 فٹ لمبا چوڑا ہوگا گویا یہ مکعب ہاکی کے 25 فیصد میدان میں باآسانی سماجائے گا۔

لیکن درج بالا مقدار سے سبھی ماہرین اتفاق نہیں کرتے۔بعض کا خیال ہے کہ پچھلے پانچ ہزار برس میں پچیس لاکھ ٹن سونا نکل چکا (ایک ٹن برابر ایک ہزار کلو) بعض ماہرین کے خیال میں یہ مقدار محض پونے دو لاکھ ٹن ہے۔

پچیس لاکھ ٹن کا طلائی مکعب 59 میٹر 166فٹ لمبا چوڑا ہوگا درج بالا تخمینہ برطانیہ کے ایک ادارے، گولڈ سٹینڈرڈ انسٹی ٹیوٹ کا ہے۔ یہ ادارہ سونے کی ماہیئت و خرید و فروخت پر تحقیق کرتا ہے۔ اس کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اگر دنیا مکیں تجوریوں الماریوں اور ڈبوں میں محفوظ سونا نکال لیا جائیے تو اس کا وزن 25 لاکھ ٹن بنے گا، اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ محض اندازہ ہے۔

٭اچھی اور بری خبر!٭

سب سے پہلے اچھی خبر! امریکی جیالوجیکل سروے کا اندازہ ہے کہ دنیا کی کانوں میں اب بھی 52 ہزار ٹن سونا محفوظ اور حضرت انسان آنے والی صدیوں میں اسے بھی نکال لیں گے۔ یاد رہے، فی الوقت سب سے زیادہ سونا چین میں نکلتا ہے۔ 2012ءمیں وہاں سے 37 ٹن سونا نکالا گیا۔ اس کے بعد آسٹریلیا 250، امریکا 230، روس 205، جنوبی افریقہ 170، پیرو 165، کنیڈا 102 اور انڈونیشیانمبر آتا ہے۔ پچھلے سال کی کل 2700 ٹن سونا نکالا گیا تھا۔

بری خبر یہ ہے کہ سونے کا استعمال اب انقلابی تبدیلی سے گزرنے لگا ہے۔ پچاس ساٹھ برس قبل تک جتنا بھی سونا نکلا تھا، وہ کسی نہ کسی شکل میں قابل استعمال رہتا تھا، لیکن اب لاکھوں الیکٹرونکس اشیاءمیں سونے کے ذرات استعمال ہورہے ہیں جب کہ ان ذروں کو دوبارہ حاصل کر یہ طلائی ذرات مٹی کچرے میں مل کر ہمیشہ کے لئے ضائع ہوجائیں گے۔

٭سونے سے بھی مہنگا معدن!!٭

جی ہاں پلاٹینیم سونے سے زیادہ منگا معدن ہے۔ عالمی منڈی میں ایک کلو پلاٹینیم کی قیمت 48113 ڈالر 48 لاکھ روپے زیادہ ہے۔ اس کی کثافت اضافی 21.45 ہے، یعنی یہ معدن پانی سے 21.45 گنا زیادہ وزنی ہے۔ پلاٹینیم بیسویں صدی میں نکلنا شروع ہوا۔ ہر سال کانوں سے قریباً 36 لاکھ ٹرائے اونس پلاٹینیم نکلتا رہا ہے، تو اب تک نکلا ہوا سارا معدن 6.3 میٹرر قریباً 20) مکعب میں آئے گا۔ یہ مکعب بھی صرف ایک گھر میں سما جائے گا۔ واضح رہے، پلاٹینیم کی کانیں روس، امریکہ، جنوبی افریقہ، کینیڈا اور کولمبیا میں واقع ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -