ایپل اور سام سنگ مقدمے واپس لینے پر رضا مند

ایپل اور سام سنگ مقدمے واپس لینے پر رضا مند
ایپل اور سام سنگ مقدمے واپس لینے پر رضا مند
کیپشن: Samsung-vs-Apple

  

نیویارک (ویب ڈیسک) دنیا کی دو بڑی الیکٹرانک کمپنیاں سام سنگ اور ایپل امریکہ سے باہر ایک دوسرے کے خلاف دائر مقدمات واپس لینے پر رضا مند ہوگئی ہیں۔ ان حریف کمپنیوں نے امریکہ سے باہر برطانیہ، جنوبی کوریا، جاپان اور جرمنی سمیت 9 ممالک میں ایک دوسرے کے خلاف پیٹنٹ سے متعلق متعدد مقدمات دائر کررکھے ہیں۔ سام سنگ نے کہا ہے کہ اس معاہدے میں لائسنس کے انتظامات شامل نہیں ہیں اور یہ کہ یہ دونوں کمپنیاں امریکی عدالتوں میں دائر مقدموں کی پیروی جاری رکھیں گی۔ یہ دونوں کمپنیاں سمارٹ فون، ٹیبلٹس اور کمپیوٹر بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیاں ہیں لیکن دونوں مختلف قسم کی قانونی جنگوں میں ملوث رہی ہیں اور حال ہی میں اس جنگ کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ دونوں کے درمیان مقدمہ بازی کا آغاز 2011ءمیں اس وقت شروع ہوا جب ایپل نے سام سنگ کے خلاف امریکہ میں مقدمہ دائر کیا۔ اس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ جنوبی کوریائی کمپنی سام سنگ نے اپنے گلیکسی سیریز کے سمارٹ فون اور ٹیبلٹس میں ایپل کے آئی فون اور آئی پیڈ ٹیبلٹ کی گھٹیا طریقے سے نقل کی ہے۔ اس کے بعد سے جنوبی کوریائی کمپنی نے کئی ممالک میں ایپل کے خلاف مقدمہ دائر کیا کہ وہ ان کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کررہی ہیں جن میں فوٹو، میوزک اور ویڈیو کو مختلف آلات میں سنکرونائز کرنے اور ویڈیو بنانے اور اسے انٹرنیٹ پر بھیجنے کے طریقوں کی نقل کا الزام شامل تھا۔ اس کے جواب میں ایپل نے بھی ان ممالک میں سام سنگ کے خلاف مقدمات دائر کئے تاہم اب دونوں کمپنیوں نے ان مقدمات کو واپس لینے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس کے باوجود دونوں کمپنیوں کے درمیان اہم ترین قانونی جنگ امریکہ میں جاری رہے گی۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -