آپریشن کی باری نہ آئی، موت آگئی، چلڈرن ہسپتال میں بچی 6 سال انتظار کی سولی پر لٹک کر قبر میں اتر گئی

آپریشن کی باری نہ آئی، موت آگئی، چلڈرن ہسپتال میں بچی 6 سال انتظار کی سولی پر ...
آپریشن کی باری نہ آئی، موت آگئی، چلڈرن ہسپتال میں بچی 6 سال انتظار کی سولی پر لٹک کر قبر میں اتر گئی
کیپشن: Children Hospital

  

لاہور (ویب ڈیسک) چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی سے 6 سالہ بچی دل کا آپریشن نہ ہونے سے چل بسی، موت کے ذمہ دار ڈاکٹر ہیں، وزیراعلیٰ نوٹس لیں، والدین نے مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق چلڈرن ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی سے 6 سالہ فاطمہ وسیم دل کا بروقت آپریشن نہ کئے جانے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی جبکہ چار ماہ ک ی عمر میں ہی بچی کے دل کا سوراخ تشخیص ہوچکا تھا لیکن چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں نے آپریشن کرتے کرتے 6 سال گزار دئیے لیکن پھر بھی آپریشن نہ کیا جاسکا۔ والدین کی جانب سے بچی کی سانس رکنے کے بارے میں ڈاکٹروں کو بروقت آگاہ کئے جانے کے باوجود وینٹی لیٹر تک مہیا نہ کیا گیا۔ والدین روتے ہوئے ڈاکٹروں کو فریاد کرتے رہے اور 12 گھنٹے تک بچی کو ہاتھ والے پمپ سے مصنوعی سانس فراہم کرتے رہے لیکن کسی ڈاکٹر نے بات سننی گوارہ نہ کی۔ والدین نے وزیراعلیٰ پنجاب اور ہیلتھ یئر کمیشن سے نوٹس لے کر انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ نشاط کالونی کے رہائشی وسیم عباس اور اس کی بیوی سائرہ وسیم نے اپنی 6 سالہ بچی کی موت کا ذمہ دار چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں کو قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق، ڈاکٹر مجاہد اور ڈاکٹر نجم کی لاپروہی اور غفلت کے باعث ان کی چھ سالہ فاطمہ زندگی کی بازی ہار گئی۔ ڈاکٹر مسعود کو متعدد بار کہنے کے باوجود انہوں نے ہماری بیٹی کا بروقت آپریشن نہین کیا جبکہ ایک اور مریض بچہ جس کے دل کا آپریشن کیا جانا تھا اس کے لواحقین نے آپریشن کے لئے پیسے جمع کرائے تو اس بچہ کا آپریشن کردیا گیا لیکن غریب ہونے کی وجہ سے ہماری بچی کو نظر انداز کیا گیا۔ والدین نے بتایا کہ ان کی بیٹی کے دل پر سوراخ تھا اور اس کی تشخیص چار سال کی عمر میں ہی ہوگئی تھی اور چار سال کی عمر سے ہی بچی کا علاج معالجہ باقاعدہ طور پر چلڈرن ہسپتال سے کرارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 7 جون کو بچی کو دل کے آپریشن کے لئے داخل کرایا تھا اور جب بچی کی انجیو گرافی کی گئی تو اس کی طبیعت دن بدن خراب ہونا شروع ہوگئی تھی۔ والدین نے الزام عائد کیا کہ بچی کے جسم سے بلڈ نکالنے کی وجہ سے بچی کے پھیپھڑوں کو خون نہیں مل رہا تھا جس کی وجہ سے سانس کی نالی ڈالنی پڑی اور پھیپھڑوں کو میں پانی جانا شروع ہوگیا تھا۔ چھ سالہ فاطمہ وسیم کی والدہ نے کہا کہ بچی کی آخری سانس کے وقت کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا اور میں خود ہی بچی کی سانس بحال رکھنے کے لئے ہاتھ والے پمپ سے مصنوعی سانس فراہم کرتی رہی لیکن جب بھی ڈاکٹروں سے کہتے کہ بچی کی طبیعت خراب ہورہی ہے تو میڈیکل وارڈ کے ڈاکٹر یہی کہتے رہے کہ بچی کو دل کا مسئلہ ہے دل وارڈ کے ڈاکٹروں سے بات کریں۔ والدین نے مزید الزام عائد کیا کہ بچی کی آخری سانس تک ڈاکٹروں کو آئی سی یو وارڈ میں شفٹ کرنے کا کہا اور وینٹی لیٹر فراہم کرنے کا کہا گیا لیکن کسی ڈاکٹر نے بات نہ سنی اور بچی کی موقت واقعہ ہوگئی۔ اس حوالے سے ڈین چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے نجی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی 20 کروڑ کی آبادی میں صرف لاہور میں ایک چلڈرن ہسپتال ہے اور شہری پاکستان کے ہرحصہ سے اس ہسپتال میں علاج معالجہ کے لئے آتے ہیں۔ آئی سی یو میں صرف چار وینٹی لیٹرز موجود ہیں انہوں نے مزید کہا کہ مریض کے آپریشن کرنے کے بارے میں ڈاکٹر کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ کن حالات میں مریض کا آپریشن کیا جاسکتا ہے جبکہ چلڈرن ہسپتال میں صرف ایک ہی آپریشن تھیٹر ہے جہاں پر روزانہ صرف دو آپریشن ہی کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انجیو گرافی کرنے کے باعث بچی کی طبیعت خراب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ تو صرف ایک ٹیسٹ ہے۔

مزید :

انسانی حقوق -