متنازعہ فوٹو شوٹ نے بھارت میں طوفان برپا کردیا

متنازعہ فوٹو شوٹ نے بھارت میں طوفان برپا کردیا
متنازعہ فوٹو شوٹ نے بھارت میں طوفان برپا کردیا

  

نیودہلی (ویب ڈیسک) بھارتی معاشرے کی اخلاقی پستی کا جتنا بھی رونا رویا جائے کم ہے کیا کوئی یقین کرسکتا ہے کہ ساری دنیا کو لرزا دینے والا واقعہ، جس میں نصف درجن مردوں نے ایک لڑکی کو بھارتی دارالحکومت میں چلتی بس میں ریپ کرکے قتل کردیا۔ فیشن ماڈلنگ کا موضوع بھی بن سکتا ہے۔ شاید کسی بھی ہوشمند انسان کیلئے یہ یقین کرنا مشکل ہو لیکن ایک معروف بھارتی فیشن ڈائریکٹر نے ماڈلز کو لاکھوں روپے مالیت کے زرق برق ملبوسات بہنا کر اسی واقعے کو تصاویر کی صورت میں فلمادیا۔ انسانیت کا سرشرم سے جھکادینے والے واقعے کو فیشن کے طور پر پیش کرنے والے معاشرے میں اس جرم کے بارے میں رویے اور نظریے کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں۔ مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایک مظلوم لڑکی کی سڑک پر عصمت دری اور قتل کا مذاق اڑانے کے بعد راج شیطیے نامی فیشن ڈائریکٹر اور فوٹوگرافر بے شرمی سے یہ اصرار کررہا ہے کہ اس نے کچھ غلط نہیں کیا۔ سخت تنقید کے بعد اس نے اپنی ویب سائٹ سے شرمناک تصاویر تو ہٹادی ہیں لیکن اب یہ موقف اختیار کرلیا ہے کہ وہ بسوں میں خواتین کو پیش آنے والے مسائل کو اجاگر کرنا چاہ رہا تھا، اگرچہ اس نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا کہ مسائل زدہ عورتوں کی ترجمانی لاکھوں روپے کے جھلملاتے لباس، پہننے والی گلیمرس ماڈلز کی تصاویر کسی ہوسکتی ہے۔ بے حس ڈائریکٹر کی تصاویر میں ایک نیم برہنہ خوبرولڑکی اور کچھ مردوں کو بس کی سیٹوں کے اوپر جنسی زیادتی کے اندر میں دکھایا گیا ہے۔ اس گھناﺅنے واقعے کے بعد یہ سوال بہت اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں عورت کی عزت کا تحفظ کیسے ممکن ہے کہ جہاں روزانہ عورتوں کو ریپ کے بعد درختوں سے لٹکا کر پھانسی دی جاتی ہو، جہاں پولیس مظلوموں کی بجائے مجرموں کے ساتھ کھڑی ہو، جہاں عصمت دری کا شکار ہونے والی عورت کو انصاف دینے کی بجائے اس کا مذاق بنادیا جائے اور جہاں سربازار ریپ کے بعد وحشیانہ تشدد سے قتل کی جانے والی لڑکی کے المیے کو فیشن ماڈلنگ بنادیا جائے۔

مزید :

انسانی حقوق -