ایبولا وائرس، لوگوں نے اپنے پیاروں کی نعشیں سڑکوں پر پھینکنا شروع کر دیں

ایبولا وائرس، لوگوں نے اپنے پیاروں کی نعشیں سڑکوں پر پھینکنا شروع کر دیں
ایبولا وائرس، لوگوں نے اپنے پیاروں کی نعشیں سڑکوں پر پھینکنا شروع کر دیں

  

مونروویا(مانیٹرنگ ڈیسک)افریقہ میں خوفناک ایبولا وائرس نے ہر طرف موت کی دہشت پھیلانا شروع کر دی ہے۔اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک لائبیریا میں لوگوں نے اپنے مرنے والے پیاروں کی لاشوں کو سڑکوں پر پھیکنا شروع کر دیا ہے کہ سڑکوں پر جا  بجا یہ خوفناک منظر دیکھنے کو ملتا ہے کہ وائرس کا شکار ہونے والے لوگوں کی لاشیں بے گوروکفن سڑک پر سڑنے کے لئے چھوڑ دی گئی ہیں۔یہ لاش ہر گزرنے والے حتیٰ کہ بچوں کی بھی نظروں کے سامنے سڑکوں پر پڑی خوفناک منظر پیش کر رہی ہیں۔حکومت نے جب سے ایبولا وائرس کے خلاف ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے سڑکوں پر لاشیں پھیکنے کے عمل میں تیزی آگئی ہے۔اور حکومت نے سکول بند کر دیئے ہیں۔مریضوں اور ان کے گھر والوں کی نگرانی شروع ہو گئی ہے ۔اور جن گھروں میں مریض پائے جاتے ہیںاس گھر کو باقی گھروں سے الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے۔اور اس کا میل جول دوسرے لوگوں سے بند کر دیا جاتا ہے۔

لوگوں نے ان پابندیوں اور خود شکار بننے کے خوف سے یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے کہ جب کسی کی موت اس وائرس سے ہوتی ہے تو اسے گھر سے گھسیٹ کر سڑک  پر پھینک دیا جاتا ہے۔ملک کے وزیر اطلاعت لہوس براﺅن کاکہنا ہے کہ لوگوں کو ایبولا وائرس کے بنائے گئے خصوصی وارڈ کو موت کا گھر سمجھتے ہیںاور وہاں جانے سے اس قدر خوفزدہ ہیں کہ اپنے جاں بحق ہونے والے رشتہ داروں کی لاشوں کو سڑکوں پر پھینک کر پیچھا چھڑا رہے ہیںتاکہ انہیں دفنانے کے عمل میں ان میں موجود وائرس انہیں منتقل نہ ہو جائے۔

مزید :

بین الاقوامی -اہم خبریں -