غیر ملکی زبان۔۔۔سامراجیت کا آزمودہ نسخہ

غیر ملکی زبان۔۔۔سامراجیت کا آزمودہ نسخہ
غیر ملکی زبان۔۔۔سامراجیت کا آزمودہ نسخہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل251 میں درج آئینی تقاضا پورا کرنے کی خاطر اردو میں تحریر کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے بھی ہم آرٹیکل251 کے مندرجات کی اہمیت کی طرف توجہ دلا چکے ہیں اور سرکاری امور میں قومی زبان اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی اہمیت کو اُجاگر کر چکے ہیں۔بعنوان حامد میر بنام وفاقِ پاکستان (2013 SCMR 1880)میں بھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ ’’عدالتی کارروائی کی سماعت میں اکثر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ کئی دہائیوں کی محنتِ شاقہ اور کئی بے نوا نسلوں کی کاوشوں کے باوجود آج بھی انگریزی ہمارے ہاں بہت ہی کم لوگوں کی زبان ہے، اور اکثر فاضل وکلاء اور جج صاحبان بھی اس میں اتنی مہارت نہیں رکھتے جتنی کہ درکار ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے نسبتاً سادہ نکتے بھی انتہائی پیچیدہ اور ناقابلِ فہم معلوم ہوتے ہیں۔


یہ فنی پیچیدگی تو اپنی جگہ مگر آرٹیکل 251 کے عدم نفاذ کا ایک پہلو اس سے بھی کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔ ہمارا آئین پاکستان کے عوام کی اس خواہش کا عکاس ہے کہ وہ خود پر لاگوہونے والے تمام قانونی ضوابط اور اپنے آئینی حقوق کی بابت صادر کیے گیے فیصلوں کو براہِ راست سمجھنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ حکمران جب اْن سے مخاطب ہوں تو ایک پرائی زبان میں نہیں، بلکہ قومی یا صوبائی زبان میں گفتگو کریں۔ یہ نہ صرف عزتِ نفس کا مطالبہ ہے بلکہ ان کے بنیادی حقوق میں شامل ہے اور دستور کا بھی تقاضا ہے۔ ایک غیر ملکی زبان میں لوگوں پر حکم صادر کرنا محض اتفاق نہیں یہ سامراجیت کا ایک پرانا اور آزمودہ نسخہ ہے۔


تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ یورپ میں ایک عرصے تک کلیسائی عدالتوں کا راج رہا جہاں شرع و قانون کا بیان صرف لاطینی زبان میں ہوتا تھا، جو راہبوں اور شہزادوں کے سوا کسی کی زبان نہیں تھی۔ یہاں برصغیر پاک و ہند میں آریائی عہد میں حکمران طبقے نے قانون کو سنسکرت کے حصار میں محدود کر دیا تا کہ برہمنوں ، شاستریوں اور پنڈتوں کے سوا کسی کے پلے کچھ نہ پڑے۔ بعد میں درباری اور عدالتی زبان ایک عرصہ تک فارسی رہی جو بادشاہوں، قاضیوں اور رئیسوں کی تو زبان تھی، لیکن عوام کی زبان نہ تھی۔ انگریزوں کے غلبے کے بعد لارڈ میکالے کی تہذیب دشمن سوچ کے زیرِ سایہ ہماری مقامی اور قومی زبانوں کی تحقیر کا ایک نیا باب شروع ہوا جو بدقسمتی سے آج تک جاری ہے، اور جس کے نتیجہ میں ایک طبقاتی تفریق نے جنم لیا ہے جس نے ایک قلیل لیکن قوی اور غالب اقلیت (جو انگریزی جانتی ہے اور عنانِ حکومت سنبھالے ہوئے ہے) اور عوام الناس (جو انگریزی سے آشنا نہیں) کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جو کسی بھی طور قومی یک جہتی کے لئے سازگار نہیں۔ آئین پاکستان البتہ ہمارے عوام کے سیاسی اور تہذیبی شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنہوں نے آرٹیکل 251 اور آرٹیکل 28 میں محکومانہ سوچ کو خیر باد کہ دیا ہے، اور حکمرانوں کو بھی تحکّمْانہ رسم و رواج ترک کرنے اور سنتِ خادمانہ اپنانے کا عندیہ دیا ہے۔ آئین کی تشریح سے متعلق فیصلے اْردو میں سنانا یا کم از کم ان کے تراجم اردو میں کرانا اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اسی کڑی کو آگے بڑھانے کے لئے ایک شعبۂ تراجم بھی قائم کیا ہے جو عدالتی فیصلوں کو عام فہم زبان میں منتقل کرتا ہے‘‘۔ یہاں اس امر کا اعادہ نہایت ضروری ہے کہ یہ ہماری پسند نا پسند کا معاملہ نہیں اور نہ ہی ہماری تن آسانی کا بلکہ یہ آئینی حکم ہے کہ اُردو کو بطور سرکاری زبان اور برائے دیگر امور یقینی بنایا جائے اور صوبائی زبانوں کی ترویج کی جائے۔

مزید :

کالم -