ڈیڑھ سال قبل پراسرار طور پر گم ہوجانے والے ملائیشین طیارے کے تباہی کے مقام کا تعین ہوگیا

ڈیڑھ سال قبل پراسرار طور پر گم ہوجانے والے ملائیشین طیارے کے تباہی کے مقام کا ...

پیرس(این این آئی)ڈیڑھ سال قبل پراسرار طور پر گم ہوجانے والے ملائیشین طیارے کے تباہی کے مقام کا تعین ہوگیا ہے اور بحر ہند سے ملنے والے جہاز کے ملبے کے ٹکڑوں کی تجزیاتی رپورٹ کے بعد ماہرین نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ یہ ملبہ ملائیشیا کے گمشدہ طیارے ایم ایچ 370 کا ہی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فرانس میں ہونے والے تجزیاتی لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد ماہرین نے اعلان کیا کہ بحرہند کے علاقے ری یونین سے ملنے والے ٹکڑے 8 مارچ 2014 میں گم ہونے والے ملائیشیا کے طیارے ایم ایچ 370 کے ہی ہیں ۔

ملائیشین ایئر لائن کی پرواز 8 مارچ 2014 کو 239 مسافروں کو لے کر کوالالمپور سے بیجنگ کیلئے روانہ ہوئی تھی تاہم راستے سے ہی طیارہ گم ہوگیا اور اس کی پر اسرار گمشدگی لوگوں کیلئے ایک معمہ بن گئی تھی تاہم گزشتہ ہفتے ملنے والے جہاز کے ٹکڑوں سے یہ امید ہو گئی تھی کہ اب اس پراسرار گمشدگی کا پردہ چاک ہو سکے گا اور اب ماہرین نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ طیارہ اسی علاقے میں گر کر تباہ ہوا ۔ملائیشین وزیراعظم نجیب رزاق نے سرکاری ٹی وی پر جہاز کے ٹکڑے ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹکڑے ملائیشیا کے گمشدہ طیارے کے ہی ہیں جس کی عالمی ماہرین کی ٹیم نے اپنی حتمی تجزیاتی رپورٹ میں تصدیق کی ۔وزیرعظم نجیب رزاق نے صحافیوں کو بتایا کہ طیارے کی گمشدگی کے 515 روز کے بعد بین الاقوامی ٹیم کے ماہرین نے تصدیق کی کہ ری یونین جزیرے پر ملنے والا ملبہ ایم ایچ 370 کا ہی ہے۔

مزید : عالمی منظر