چین نے اسلامی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلئے امریکہ سے مددکی درخواست کردی

چین نے اسلامی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلئے امریکہ سے مددکی درخواست کردی

بیجنگ(این این آئی)چین نے اپنے مغربی صوبے سنکیانگ میں اسلامی عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ سے مدد کی درخواست کردی غیر ملکی میڈیانے چینی حکام کے حوالے سے لکھا کہ مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سنکیانگ کے اویغور مسلمانوں کو بھرتی کر رہی ہے جنھیں تربیت دے کر شام اور عراق بھیجا جارہا ہے ٗ وہاں سے واپسی پر یہ چین میں ایک بڑی جنگ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں بہت سے غیر ملکی ماہرین نے چین میں مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ کی موجودگی کے حوالے سے سوال اٹھایا تاہم چینی وزارت خارجہ کا دعویٰ ہے کہ "دہشت گردی کا خطرہ دن بہ دن مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے اس سلسلے میں چینی نائب وزیر خارجہ چینگ گوپنگ اور امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بیورو آف انسدادِ دہشت گردی کے سفیر ٹینا کیڈاناؤ کے مابین ملاقات ہوئی چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین نے ای ٹی آئی ایم اور مشرقی ترکستان کی دیگر دہشت گرد جماعتوں سے لاحق خطرات پر زور دیتے ہوئے امریکہ اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ مشرقی ترکستان کی دہشت گرد فورسز سے نمٹنے کے لیے چین کا ساتھ دیں.دونوں جانب سے سائبر دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے اور انسدادِ دہشت گردی انٹیلی جنس کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا اویغور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے حالیہ برسوں میں جنوب مشرقی ایشیاء کے ذریعے چین سے ترکی کا غیر قانونی سفر کیا ۔انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے گروپس کے مطابق چینی مسلمانوں نے سنکیانگ میں پر تشدد کارروائیوں اور چین کی جانب سے ان کے مذہب اور کلچر پر پابندیوں کی وجہ سے یہاں سے ہجرت کی تاہم بیجنگ حکومت کی جانب سے اس تاثر کی تردید کی جاتی ہے۔

مزید : عالمی منظر