اچھی مثالیں

اچھی مثالیں
اچھی مثالیں

  

پاکستان میں بدلتے ہوئے حالات کی خبر لینی ہو تو کوئی بیرون مُلک مقیم پاکستانیوں سے پوچھے، جنہیں پاکستان میں آنے والی خوشگوار تبدیلیوں پر حیرت ہو رہی ہے۔ہر کوئی پر امید ہے کہ حالات صحیح سمت میں جا رہے ہیں اور پاکستان بالآخر بدل رہا ہے۔ برسوں کا جمود ٹوٹ رہا ہے، اچھی مثالیں قائم ہو رہی ہیں اور ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں،جو کامیابیوں کی طرف جاتا ہے۔ ابھی طرزِ کہن پر اڑنے والے ان تبدیلیوں کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں اور یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ پھر ایک یوٹرن آئے گا،جس سے سب کچھ پرانی سطح پر آ کھڑا ہو گا، مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی، جو دریا جھوم کے اُٹھتے ہیں ،تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے۔ لندن سے مجھے صحافی، شاعر اور دانشور فاروق ساگر نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی امیدوں کے چراغ روشن ہو چکے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ جنرل راحیل شریف نے مُلک کو ٹھیک کرنے کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ پایۂ تکمیل کو پہنچے گا اور راستے میں آنے والی تمام رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو لوگ سازشیں کر رہے ہیں وہ اس لئے کامیاب نہیں ہوں گے کہ اس وقت حکومت اور فوج جو کچھ کررہی ہے ،اسے قوم کی مکمل تائید حاصل ہے۔ فاروق ساگر جیسے بالغ نظر افراد کی رائے ان حالات میں بہت وزن رکھتی ہے اور جب لوگ اس طرح سوچنا شروع ہو جائیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ اب پرانی ڈگر کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

5اگست2015ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم دن کے طور پر یاد رہے گا، اس دن ایک طرف سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کو جائز قرار دیا تو دوسری طرف فوج کے دو سابق اعلیٰ افسروں کو سزا سنائی گئی۔ بظاہر ان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا، مگر درحقیقت یہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی خبریں ہیں، یہ دونوں خبریں حالات کی اس تبدیلی کو ظاہر کر رہی ہیں جو ہمارے اردگرد رونما ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کا تاثر اس قدر گہرا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی اس کا اثر نظر آ رہا ہے۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کے تحت فیصلہ دیا ہے، حالانکہ یہ فیصلہ وقت کی ضرورت تھا۔ پارلیمنٹ نے 21 ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کا جو قانون پاس کیا، اس کے پیچھے چونکہ کوئی خفیہ مقصد نہیں، بلکہ یہ واضح مقصد پوشیدہ تھا کہ ملک میں جاری بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوری انصاف کو یقینی بنایا جائے، اس لئے فوجی عدالتوں کے قیام کا بل منظور کیا گیا، اسے پوری قوم کی تائید بھی حاصل تھی۔ سو سپریم کورٹ نے بھی اسے آئین کے مطابق اور پارلیمینٹ کے اختیارات کے دائرے میں قرار دے کر منظور کر لیا۔ سپریم کورٹ کے پاس دوسرا آپشن یہ تھا کہ وہ اس ترمیم کو غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کر دیتی، ایسا کرنے کے بعد سارا بوجھ سپریم کورٹ پر آ جاتا کہ وہ فوری انصاف کو یقینی بنائے کے لئے پاکستان کے عدالتی نظام کو درست کرے۔ ظاہر ہے یہ کام ایک دو دن کانہیں، اس دوران جتنی بھی لاقانونیت ہوتی، پارلیمنٹ، حکومت اور فوج نے اس کا ذمہ دار پاکستان کے کمزور عدالتی نظام کو قرار دینا تھا اور 21ویں ترمیم کے خاتمے کو ایک سیاہ عدالتی فیصلے کے طور پر یاد کیا جاتا۔ یہ کہنا کہ عدالتوں کو عوامی جذبات سے بے پروا ہو کر فیصلے کرنے چاہئیں، انفرادی معاملے میں تو درست ہے، مثلاً اگر کسی قاتل کی ماں یا رشتہ دار عدالت میں گڑگڑا کر اس کی دہائی مانگیں تو عدالت کواس سے متاثر نہیں ہونا چاہئے، مگر جہاں معاملہ قومی مفاد کا آ جائے تو عدالت قوم کے جذبات سے بے پروا کیسے رہ سکتی ہے؟

وزیراعظم محمد نوازشریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو پارلیمینٹ کی فتح قرار دیا ہے حالانکہ یہ فیصلہ عوامی امیدوں اور مُلک میں قانون کی بالا دستی کا عکاس ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی طرف سے بھیجے جانے والے فوجی عدالتوں کے مقدمات اور فیصلوں پر نظر ثانی کا اختیار اپنے پاس رکھ کر اُن خدشات کا بھی ازالہ کر دیا ہے کہ فوجی عدالتوں کے ذریعے سیاسی مخالفین کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اول تو یہ عدالتیں دو سال کی مدت کے لئے قائم کی گئی ہیں اس وقت مُلک میں جو شفاف احتساب نظر آ رہا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے یہ سمجھنا بھی حماقت ہے کہ ان عدالتوں کو انتقامی کارروائی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ البتہ ان عدالتوں سے دہشت گردوں اور خطرناک قانون شکنوں کو سزائیں ضرور مل سکیں گی، جو وقت کی ضرورت ہے جو لوگ اس بات کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری دے کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے، وہ اس تبدیلی کو محسوس نہیں کر رہے، جو مُلک میں آ چکی ہے۔ سپریم کورٹ کا اختیار اپنی جگہ موجود ہے۔ عوام کو اس سے محروم نہیں رکھا گیا۔ سب سے بڑی آئینی عدالت کے آئینی اختیار پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ یہ فوجی عدالتیں مارشل لاادوار کی عدالتوں جیسے اختیارات نہیں رکھتیں۔ ان کے اختیار پر آغاز و اختتام کے دونوں جانب قدغن لگا دی گئی ہے۔ مثلاً یہ عدالتیں از خود کوئی مقدمہ نہیں بنا سکتیں،بلکہ مقدمہ وفاقی حکومت کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح فوجی عدالتوں کی سزا کو حتمی نہیں رکھا گیا، بلکہ سپریم کورٹ کو ایک پہریدار کا کردار سونپا گیا ہے، جس کے پاس نظر ثانی کی اپیل دائر کی جائے گی۔

آگے والے دنوں میں اگر مگر کی صورت حال ختم کر کے پورے عزم کے ساتھ پاکستان کو دہشت گردی اور کرپشن سے پاک کرنے کی حکمت عملی واضح نظر آتی ہے۔ اس بار وہ تمام اعتراضات اور رکاوٹیں وقت سے پہلے ہٹا دی گئی ہیں۔ جو اعتراضات اور اس کے نتیجے میں بعض کمزوریوں کو جنم دیتی ہیں۔ حال ہی میں ریٹائرڈ جنرلوں کا احتساب اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ فوج احتساب اپنے گھر سے شروع کر چکی ہے۔ این ایل سی میں گھپلوں کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے آئی ایس پی آرکے ترجمان نے جو کچھ کہا ہے، اس سے ثابت قدمی کا عزم ظاہر ہوتا ہے کہ اب کسی کے پاس بچنے کی گنجائش موجود نہیں۔ سیاستدانوں کی طرف سے ہمیشہ یہ اعتراض ہوتا رہا ہے کہ ہمیشہ انہیں ہی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، صرف انہی کے خلاف کرپشن کے الزام میں کارروائی ہوئی اور جرنیلوں نیز ججوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھا گیا۔ جنرل راحیل شریف نے اپنی جو ڈاکٹرین متعارف کرائی ہے، اُس میں ایسی کسی اقربا پروری کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس میں کرپشن کو صرف کرپشن سمجھا گیا ہے اور کرپٹ کے لئے کسی رعایت کو خارج از امکان قرار دیا گیا ہے۔ سو یہ بات اب تسلیم کر لی جانی چاہئے کہ حالات پرانی ڈگر کے مطابق نہیں چل سکتے۔ حکومت اور اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ایسے افراد کو جنہیں معلوم ہے کہ انہوں نے کیسے کیسے اور کہاں کہاں کرپشن کی ہے شاید اب بھی سیلاب کسی دوسری طرف جاتا محسوس ہو، مگر مجھے یقین ہے کہ اس کا رُخ ان ہی کی طرف ہو گا، جنہوں نے قومی خزانہ لوٹا ہے سیاست کی آڑ میں لاقانونیت اور لوٹ مار کو روا رکھا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مُلک کو قانون شکنی کی جنگ میں دھکیلا ہے تاکہ غنڈہ گردی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور طاقت کے بل بوتے پر اُن کی عمل داری قائم ہے۔ اب ان لوگوں کے گرد شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ فوج اس سلسلے میں ہر اول دستے کا کردارا دا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں بدلے ہوئے حالات کے مطابق خود کو تبدیل کریں۔ اپنی صفوں میں موجود لٹیروں، سیاست کی آڑ میں قانون شکنی کرنے والوں، عسکریت پسندوں اور کرپشن کے پہاڑ کھڑے کرنے والوں سے گلو خلاصی حاصل کریں۔ انہیں نکال باہر پھینکیں چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتیں، تو پھر وہی ہو گا جو ایم کیو ایم کے ساتھ ہو رہا ہے اور ہر سیاسی جماعت کو ایسے افراد کی لسٹ فراہم کی جائے گی، جو قانون کو مطلوب ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر موقع نہیں آ سکتا کہ فوج، حکومت اور عوم ایک ہی صفحے پر آ گئے ہیں۔ حکومت بھی یہ اعلان کر رہی ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور کرپٹ افراد کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور اس ضمن میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ فوج بھی یہی چاہتی ہے اور عوام بھی۔ یہاں حکومت کا کردار بڑھ جاتا ہے، اسے اپنی صفوں میں بھی موجود کرپٹ افراد کے احتساب کی ایسی مثالیں قائم کرنی چاہیں، جیسی فوج نے جرنیلوں کو سزا دے کر کی ہیں۔ اس میں اگر مگر کی کوئی گنجائش موجود نہیں، کیونکہ اگر یہ نہ ہوا تو عوام فوج سے تفاضا کریں گے کہ وہ آگے آئے اور اپنے ہاتھوں سے سیاست میں موجود کالی بھیڑوں کو احتساب کے شکنجے میں جکڑ کر کیفر کردار تک پہنچائے، امید ہے سیاست دان دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ نوبت نہیں آنے دیں گے۔

مزید : کالم