پانی کم، شور زیادہ

پانی کم، شور زیادہ
پانی کم، شور زیادہ

  

وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں، سیلاب سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ خیبر پختون خوا، پنجاب کے بعد اب سندھ میں بیراجوں میں پانی کی سطح میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، لیکن آبپاشی حکام مطمئن ہیں کہ پانی ان کی توقعات سے کہیں کم ہے اور انہیں خوشی ہے کہ وہ سیلاب کے پانی کو سمندر تک بآسانی دھکیل سکیں گے۔ گدو بیراج اور سکھر بیراج کے علاقوں میں پانی حفاظتی بندوں سے ٹکرا رہا ہے، لیکن بظاہر پشتے مضبوط ہیں ، پانی آگے جانے کے قوی امکانات ہیں۔ البتہ کچے کا علاقہ ڈوب چکا ہے کیوں کہ پانی کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔ گدو بیراج سے آٹھ لاکھ کیوسک سے زائد پانی گزر چکا ہے۔ اسی طرح سکھر بیراج سے بھی ابھی پانی کے ریلے کو گزرنا ہے۔ اس کے بعد کوٹری بیراج کا نمبر آتا ہے۔ اگر گدو بیراج سے آٹھ یا نو لاکھ کیوسک پانی کا اخراج ہوتا ہے تو آبپاشی کے حکام مطمئن رہتے ہیں۔ پشتے یوں بھی بارشوں کے نتیجے میں خشک نہیں رہے جس کی وجہ سے ان کے اطمینان میں اضافہ ہی ہوا ہوگا۔ ورنہ پشتوں پر باقاعدہ پانی بہایا جاتا ہے، تاکہ ان کا جائزہ لیا جاسکے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والا ادارہ صوبائی ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ان افراد کی تعداد میں اضافہ کا اعلان کر ر ہی ہے جو اس کے مطابق بے دخل ہو ئے ہیں۔ صوبائی حکومت بھی اعداد و شمار پیش کر رہی ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد سیلاب سے متاثر ہو ئی ہے۔ سیاسی رہنما بھی بیانات جاری کر رہے ہیں۔ قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے تو صوبائی وزراء جام مہتاب ڈہر، شرجیل میمن اور ناصر شاہ کو فون کر کے مطالبہ کیا ہے کہ ’’ سیلاب متاثرین ‘‘ کو مفت مکان اور بلا سود قرضے دئے جائیں، کچے کے متاثرین کی شہروں میں منتقلی کے انتظاما ت کئے جائیں۔ انہوں نے ان لوگوں کی کراچی میں بھی آباد کاری کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت اور ذرائع ابلاغ کچے کے علاقوں میں متاثر ہونے والی آبادی کا ہر سال ایک بھیانک نقشہ کھینچتے ہیں۔ یہ کچے کا علاقہ آخر کیا بلا ہے جس میں اتنی بڑی آبادی متاثر ہو جاتی ہے؟ سندھ میں کچے کا علاقہ اس علاقے کو کہا جاتا ہے جسے پنجاب میں سیلابہ کہا جاتا ہے۔ یہ دریا کی زمین ہوتی ہے۔ اپنی زرخیزی کی وجہ سے قیمتی ہوتی ہے کہ اس میں بہترین فصل کاشت ہوجاتی ہے۔ سندھ میں کشمور سے جو گدو بیراج کے علاقے میں آتا ہے، کوٹری بیراج کے بعد کے علاقے ٹھٹہ تک کچے کی زمینوں پر لوگ کاشت کاری کرتے ہیں۔ کچے کی زمین اکثر علاقوں کے بااثر افراد جن کی اکثریت بڑے بڑے زمینداروں پر مشتمل ہے ، اپنے لوگوں کے نام کرا لیتے ہیں یا پھر قبضہ کر لیتے ہیں جہاں ان کے ہاری کاشت کاری کرتے ہیں۔ مویشیوں کو مفت کا چارہ ملتا ہے، بڑے لوگوں کے غلام ان کے لئے دو وقت کی روٹی پر کاشت کاری کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے رقبوں پر دیگر کاشت کار بھی اپنا گزارہ کرتے ہیں۔ یہ علاقے ہی جرائم پیشہ لوگوں کی بہترین کمیں گاہیں بھی بن جاتی ہیں۔ ہر بدنام زمانہ ڈاکو کی پناہ گاہ کچے کے علاقے میں ہی ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ حکومتیں ہر سیلاب کے موقع پر آخر ان لوگوں کے لئے کیوں فکر مند ہوتی ہیں اور اس طرح کا شور شروع کیوں کر دیا جاتا ہے کہ عام لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔ کچے کے علاقوں میں جو در حقیقت دریا کی زمین ہے، لوگ اپنی رضا و رغبت سے کاشت کاری کرتے ہیں اور رہائش اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کی فصل کو کوئی نقصان نہ پہنچائے اور ان کے مویشی بھی ان کی نظروں کے سامنے رہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے کچے کے علاقوں کو پکے کا علاقہ تصور کر کے اپنی تعمیرات بھی کر لی ہیں۔ یہ ہی وہ لوگ بھی ہیں جن کی وجہ سے حفاظتی پشتوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ جب دریا میں پانی کم ہوتا ہے تو یہ لوگ پشتوں کو اپنی گزر گاہ بھی بنا لیتے ہیں۔ جب پانی دریا میں چڑھتا ہے تو یہ ’’ سیلاب متاثرین‘‘ حفاظتی بندوں پر اپنا ٹھکانہ بنا لیتے ہیں۔ انتظامیہ ان کی دیکھ بھال کے لئے فکر مند ہوجاتی ہے ۔ حکومت پکے کے علاقے میں رہائش رکھنے والوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں کوتاہی کا شکار ہوتی ہے، لیکن کچے کے لوگوں کے لئے فکر مند ہوجاتی ہے۔ اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو بے جا صرف کر رہی ہوتی ہے۔

سیلاب میں حکومتوں کو پشتوں کی مضبوطی اور حفاظتی بندوں کی نگرانی پر توجہ دینا چاہئے نہ کہ کچے کے ان علاقوں پر جہاں لوگوں نے قبضے کئے ہوئے ہیں، جن سے حکومت کو بھی کوئی مالی فائدہ نہیں ہوتا، فکر مند ہونا چاہئے۔ اصل توجہ کے مستحق وہ علاقے ہوتے ہیں جو حفاظتی بندوں کے باہر ہیں۔ سیلاب سیلاب کا شور کر کے انہیں کیوں بے سکون اور خوف زدہ کیا جاتا ہے؟ حکومتوں کو کچے کے علاقوں میں دریا کی زمین پر کاشت کاری کرنے، رہائش رکھنے ، مویشی پالنے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کرنا چاہئے اور ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ لوگ کچے میں رہائش ہی نہیں رکھیں، لیکن ایسا کبھی بھی بھی ممکن نہیں ہوگا۔ حکومتوں میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں، اسمبلیوں میں جو لوگ موجود ہوتے ہیں ان کا ہی مفاد ہوتا ہے کیوں کہ ان کے لوگ ہی تو کچے کے علاقوں پر قابض ہیں۔ کچے کے علاقے ان ہی لوگوں کے لئے منفعت بخش ہیں حالانکہ کچے میں جنگلات ہونا چاہئیں۔ جہاں چرندو پرند کی آزادانہ پرورش ہو سکے۔ جہاں درخت ہوں ، لیکن یہاں تو درخت کاٹ دئے گئے کیوں کہ لکڑی فروخت کرنا مقصود تھا اور جنگلات کو ختم ہی کردیا گیا ۔ کچے میں اگر جنگلات ہوں تو دریا کے پانی کا پشتوں سے براہ راست ٹکڑانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ جنگلات ماحولیات پر بھی اثر انداز ہوں گے اور موسم کی سختی میں کمی کا سبب بھی بنتے ہیں۔

کچے کے لوگوں کے لئے تو ان زمینداروں کو فکر مند ہونا چاہئے جو کچے میں فصلیں کاشت کر کے منافع کماتے ہیں ۔ حکومت کیو ں لوگوں کو کچے میں رہائش رکھنے کی اجازت دیتی ہے؟ حکومت کو انہیں کچے کے باہر پکے میں رہائش کے لئے زمین فراہم کرنا چاہئے۔ زمیندار طبقہ کو اپنے ہاریوں کی حفاظت کیا ،بلکہ ان کی خوراک تک کی فکر نہیں ہوتی ہے۔ سندھ میں 2010 ء کے سیلاب میں لوگوں نے دیکھا کہ زمینداروں نے اپنے ہاریوں کو کس طرح بے سر و سامانی کے عالم میں چھوڑ دیا تھا۔ یہ ہاری ان کی زمینیں کاشت کرتے ہیں، ان کے مویشی پالتے ہیں، ان کے حکم پر ان کے پسندیدہ امیدواروں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے جاتے ہیں، لیکن بوقت ضرورت زمیندار انہیں کھلے آسمان کے نیچے بے یار و مدد گار چھوڑ دیتے ہیں۔ اس تماش گاہ میں یہ ہے ہمارے زمیندار طبقے کا عمومی رویہ۔ ان کے اسی غیر فکر مند رویہ نے معاشرے پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں جس کے نتائج قوم اور ملک کو بھگتنے پڑتے ہیں اور حکومتیں دنیا بھر سے امداد کی طلب گار ہوتی ہیں۔

مزید : کالم