پاکستان کا مستقبل تھرمیں مدفون خزانے سے وابستہ ہے ،خرم سعید

پاکستان کا مستقبل تھرمیں مدفون خزانے سے وابستہ ہے ،خرم سعید

کراچی (اکنامک رپورٹر)بزنس مین پینل کے مرکزی رہنما اورایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدرخرم سعیدنے کہا ہے کہ تھرمیں مدفون کوئلے کے خزانے پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ملکی ترقی، محفوظ مستقبل، خودکفالت اوربقاء کا دارومدارتھرکول پراجیکٹ پر ہے ۔اس عطیہ خداوندی کی نا قدری نہیں ہونی چائیے ۔ مناسب توجہ دینے سے ملک کے درآمدی بل میں کمی اورآمدنی و روزگار میں زبردست اضافہ ہو گا۔خرم سعید نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 1991میں دریافت ہونے والے ذخائر سے اب تک کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا ہے جبکہ توانائی بحران میں جکڑا ہمارا ملک مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔تھر میں موجود 175ارب ٹن کوئلے سے پاکستان کو کئی صدیوں تک سعودی عرب اور قطر کے مجموعی تیل و گیس کے زخائر سے زیادہ توانائی مل سکتی ہے ۔

جبکہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنا کر ملک کو تیز رفتاری سے ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی صارفین کو سستی، قابل اعتماد اور پائیدار بجلی کی فراہی اور بھاری زرمبادلہ کمانے کے لئے متعلقہ اداروں کو مزید سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے۔اس وقت پاکستان تیس فیصد توانائی ضروریات درامد کر رہا ہے اور اگلے آٹھ سال میں بجلی کی طلب 26000 میگا واٹ اوردرامدی بل کم از کم 100 ارب ڈالرہو جائے گاجس سے نمٹنا ناممکن ہو گا۔ توانائی کے بحران سے عہدہ براہ ہونے کے لئے کئے جانے والے مختصرمدتی فیصلے دیر پا نہیں جبکہ عدم توجہ سے یہ منصوبہ ختم ہو سکتا ہے۔جرمنی، چین، بھارت کوئلہ سے 80 ، 73 اور 63فی صدبجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں صرف 20 میگا واٹ کا ایک بجلی گھر چل رہا ہے جوکہ بند ہونے والا ہے۔ کو آرڈینیشن ،بنیادی ڈھانچے اور ترغیبات کی کمی اور دیگر مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ مناسب پیش رفت ہو سکے جو پاکستان کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے ضروری ہے۔

مزید : کامرس