چین اور پاکستان کے درمیان سمگلنگ اور غلط انوائسنگ پر قابو پایاجائے

چین اور پاکستان کے درمیان سمگلنگ اور غلط انوائسنگ پر قابو پایاجائے

لاہور (خبرنگار خصوصی)پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس ینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ چین اور پاکستان کے مابین رسمی تجارت کو فروغ دینے اور اندرون ملک تجارتی فضا کو سازگار رکھنے کیلئے سمگلنگ اور غلط انواسنگ پر سختی سے قابو پایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور غلط انوائسنگ کی وجہ سے پاکستان اور چین کے مابین ہونے والی باہمی تجارت کے اعداد وشمار کا درست اور اصل ریکارڈ مرتب نہیں ہو پا رہا ۔جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اعدادو شمار کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا ہور رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے پاکستان میں کسٹم کے نظام کو شفاف مربوط اور کرپشن فری بنانے کی اشد ضرورت ہے۔کیونکہ ڈیوٹی ٹیکس سے بچنے اور زیادہ منافع ھاصل کرنے کیلئے بعض پاکستانی تاجر کسٹم حکام سے ساز باز کر کے انڈر انوائسنگ،اوور انوائسنگ جیسے ناجائز زرائع استعمال کرتے ہیں جس سے بیرونی تجار ت کے اعداد و شمار خراب ہونے کے علاوہ اندرون ملک موجود ایماندار کاروبار ی حضرات کوشدید نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور پورے کا پورا کاروباری ماحول پراگندہ ہو تا چلا جا رہاہے۔

فیصل آفریدی نے اس بات کا نکشاف کیا کہ حالیہ پاک چین تجارتی اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 4.4بلین ڈ الر کی کرپشن انڈر انوائسنگ کی صورت میں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف حکومت محصولات کی مد میں خطیر آمدن سے محروم ہو رہی ہے بلکہ ملکی صنعتیں بھی بری طرح متاثرہو رہی ہیں۔اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسٹم ڈیٹا بیس کی کرپشن فری تشخیص کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے کہ کسٹم حکام اپنے محکمہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی جدید نظام کو متعارف کرائیں تاکہ دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کسٹم کے نظام کو محکمہ کے اہلکاروں کی صوابدید ی اختیارات سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ کسٹم انتظامیہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان تجارتی اشیاء کی نشاندہی بھی کریں جنہیں کرپشن اور انڈر انوائسنگ کے دائرہ کار میں داخل کر کے ناجائز منافع حاصل کیا جا رہا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اصلی قیمتوں کا نقلی قیمتوں کے ساتھ موازنہ کر کے نقصان کا پتہ لگانا کسٹم حکام کی اہم ذمہ داری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اوور انوائسنگ اور انڈر انوائسنگ ایسے ناجائز ہتھکنڈے ہیں جن کو استعمال کر کے بیشتر ٹیکس مراعات اور ری بیٹ وغیرہ بھی حاصل کی جاتی ہیں ۔مثال کے طور پر بعض برآمد کنندگان جو کہ اوور انوائسنگ کے تحت اپنی اشیاء کو اصل قیمت سے زیادہ ظاہر کر کے فروخت کرتے ہیں ایکسپورٹ ٹیکس کریڈٹ اور ویلؤ ایڈڈ ٹیکس کے حصول میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔اسی طرح درآمد کنندگان کو اشیاء کی قیمتیں اصل قیمت سے کم ظاہر کرنے کی صورت میں کم امپورٹ ڈیوٹی دینا پڑتی ہے۔۔تاہم اُنہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں ٹیکس کے نظام کی سنگین خلاف ورزی کی جاتی ہے جو کہ تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ کا خفیہ سبب بن رہی ہے۔اُنہوں نے کہا جہاں تک سمگلنگ کا تعلق ہے سب سے زیادہ سمگلنگ اس وقت پاک افغان ٹرانزٹ روٹ کے زریعے سے ہو رہی ہے جس کا کل سالانہ حجم 5-6 بلین ڈالر تک پہنچ جکا ہے جس سے ملک کو تقریبا3بلین ڈالر کا سالانہ خسارہ ہو رہا ہے۔لہٰذاہ حکومت کو چاہیے کہ غیر حقیقی انوائسنگ اور سمگلنگ کے خاتمہ کیلئے کاروباری برادری کے نمائیدہ اداروں کے ساتھ ملکر فور ی طور پر ٹھو س لائحہءِ عمل وضع کرے۔

مزید : کامرس