ایک دفترایسا بھی ۔۔۔!

ایک دفترایسا بھی ۔۔۔!
 ایک دفترایسا بھی ۔۔۔!

  

ایک طرف جہاں پاکستان کو گذشتہ کئی برسوں سے توانائی کے بحران اور بجلی کی شدید کمی کا سامنا ہے، وہاں پنجاب حکومت کا ایک ادارہ بجلی بچانے کے لئے اپنے طور پرایسی روایت قائم کررہا ہے جو دوسرے اداروں کے لئے بھی قابل تقلید اوروقت کی اہم ضرورت ہے ۔محتسب پنجاب کے لاہوراورہر ضلع میں قائم دفاتر میں بجلی کے بحران کے پیش نظرگذشتہ سال ہی نہ صرف ائیر کنڈیشنر کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی تھی ،بلکہ تمام دفاتر میں نصب ائیر کنڈیشنرز اتار کرلاہور جنرل ہسپتال کے جنرل وارڈز میں لگوا دئیے گئے تھے ۔ محتسب پنجاب نے اپنے دفاتر میں ائیر کنڈیشنرز کے استعمال پر پابندی کا حکم دیتے ہوئے اپنے افسران کو تحریر کئے جانے والے مراسلے میں لکھا کہ محتسب پنجاب کے دفاتر کے قیام کابنیادی مقصد عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے اورایک ایسے وقت میں جب قوم اورملک بجلی کے سنگین بحران سے دوچار ہیں،وزیراعظم پاکستان ہر ادارے اورشہری سے بجلی بچانے اورکم سے کم استعمال کرنے کی اپیل کررہے ہیں ، محتسب پنجاب کا دفتر ٹھنڈے کمروں میں دروازے بند کرکے عوام کو ریلیف کیسے پہنچا سکتا ہے ؟

محتسب پنجاب کے مطابق حکومت نے عوام کی شکایات کے ازالے کے لئے اوپن ڈور پالیسی کا اعلان کررکھا ہے ،ایسی صورت میں تو ائرکنڈیشنرز کا استعما ل ویسے ہی غیر موثر ہے ۔ دفاتر کے دروازے کھول کر ائر کنڈیشنر زچلا دینا بجلی کا ضیاع نہیں تو اور کیا ہے ؟یہ بھی حقیقت ہے کہ انتظامی افسران کے دفاتر میں آنے والے سائلین افسران کو ٹھنڈے کمروں بیٹھا دیکھ کرموجودہ نظام اورمتعلقہ افسران سے اجنبیت اورنفرت کے جذبات لے کر واپس جاتے ہیں،اس لئے افسران کے عمومی رویوں کے علاوہ ائرکنڈیشزز کااستعمال بھی عوام اور سرکاری افسران کے درمیان دیوار بن چکا ہے،جبکہ اے سی میں بیٹھے افسران کو دیکھ کر سائلین ریلیف کی بجائے اپنے آپ کو تکلیف میں محسوس کرتے ہیں ۔ ہر جمہوری حکومت، حاکم ومحکوم اورعوام وافسران کو قریب لانے کے لئے کوشاں رہتی ہے،اگرسرکاری دفاترمیں بھی سائلین کووہی ماحول ملے، جس ماحول سے وہ آئے ہیں تو اس سے افسران اورعوام کے مابین قربت اورمانوسی پیدا ہوگی۔کیا پاکستان کے عوام اور حکومت کراچی اورملک کے دیگر علاقوں میں توانائی کے بحران کے باعث کثیرجانی نقصان کے باوجود ہوش کے ناخن نہیں لیں گے ؟

وقت آگیا ہے کہ پاکستان کا ہر شہری خصوصاً سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین بجلی، کا ایک ایک یونٹ بچائیں ۔شدید گرمی کے بعد اب حبس کا شدید موسم شروع ہوچکا ہے اورحبس زدہ موسم کے دوران سرکاری ہسپتالوں کے جنرل وارڈز میں زیر علاج مریضوں کو سرکاری دفاتر سے زیادہ بجلی کی ضرورت ہے، کیونکہ ہسپتالوں میں قیمتی جانوں کا بچانا بہرحال سرکاری فائلوں کو ٹھنڈک پہنچانے سے زیادہ ضروری ہے۔ زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتے ہوئے دستیاب سرکاری وسائل کا اس سے بہتر اور کوئی مصرف ہو ہی نہیں سکتاکہ سرکاری دفاتراورعمارات میں بجلی بچاکر ہسپتالوں کو فراہم کی جائے۔قومی اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں میں بجلی کی کمیابی کے پیش نظر اے سی بند کرنے کی آواز سنائی دی تو یا د آیا کہ ملک میں شاید واحد ادارہ محتسب پنجاب کا ہے،اس کے ضلعی دفاتر ہیں ،جہاں کوئی ائر کنڈیشنر نہیں ۔اگر یہ ادارہ اے سی کے بغیر کام کرسکتا ہے تو دوسرے ادارے کیوں نہیں ؟

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ایسے تمام ادارے جن کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اورانہیں ریلیف دینا ہے،ان کے سربراہان کو آگے بڑھ کر مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ عوام کی خدمت اورریلیف دینے کاکام ائرکنڈیشنر کی ضرورت اوراس کے لازمی استعمال کا پابند نہیں ،بلکہ اس کے لئے محنت ، جانفشانی اورلگن کی ضرورت ہے ۔ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ملکی ترقی اورکامیابی کے لئے وہی جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو تحریک پاکستان کے دوران اور قیام پاکستان کے وقت قوم میں موجزن تھا ۔ سوچنے کی بات ہے کہ قیام پاکستان کے وقت کتنے دفاتر میں اے نصب تھے ؟کتنے ملازمین کی کارکردگی ٹھنڈے کمروں کی محتاج تھی ؟اگر آج ملازمین کی اکثریت گھروں میں جاکر پنکھوں میں زندگی گذار سکتی ہے تو سرکاری دفاتر میں8گھنٹے پنکھوں میں بیٹھ کر کام کیوں نہیں کرسکتی ؟ ایک ایسے وقت میں جب ملک توانائی کے بحران کا شکار ہے، عوام بجلی کی کمی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں،ہسپتالوں میں مریض کرب میں مبتلاہیں،پنجاب شدید حبس سے گذررہا ہے ،کراچی ، اندرون سندھ اورملک کے دیگر علاقوں میں گرمی اجل کا پروانہ لئے گھوم رہی ہے، عوام کو ریلیف دینے اور عوامی خدمت پر مامور اداروں میں ائرکنڈیشنر کے استعمال سے بجلی ضائع کرنا کسی طرح سے بھی زیب نہیں دیتا، محتسب پنجاب کے ایک نسبتاً چھوٹے دفتر میں بجلی کی بچت کی غرض سے اٹھایا گیا اقدام بڑے بڑے دفاتر کے لئے ایک قابل تقلید ہے، جس سے نہ صرف ہزاروں یونٹس بجلی کی بچت ہوگی ،بلکہ لاکھوں روپے کی رقم بجلی کے بلوں کی مد میں بھی کم ہو سکے گی اوربچائی جانے ولی بجلی اس کے اصل حقداروں، ہسپتالوں ،مریضوں ،تعلیمی درسگاہوں، تحقیقی مراکز اورصنعتی مقاصد کے لئے استعمال میں لائی جا سکے گی۔

مزید : کالم