متا ثرین سیلاب کو ریلیف کی فراہمی کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا قائد انہ کر دار

متا ثرین سیلاب کو ریلیف کی فراہمی کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا قائد انہ کر دار
متا ثرین سیلاب کو ریلیف کی فراہمی کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کا قائد انہ کر دار

  

جنو بی پنجا ب میں دریا ئے سندھ میں سیلا ب سے نشیبی علا قوں کا نظا م زندگی درہم بر ہم ہو کر رہ گیا ہے۔ دریائے سندھ کی سینکڑوں کلو میٹر آبی گزر گا ہ میں آباد ہزاروں بستیا ں زیر آب ہیں، لا کھو ں ایکٹر فصلیں پا نی میں غرق ہو چکی ہیں ۔ نشیبی علا قوں کے رہنے والے دریا ئے سندھ میں سیلاب کے با عث اپنی ہنستی بستی آبا دیو ں کو چھو ڑ کر اپنے رشتہ داروں کے ہا ں پناہ گزین بننے پر مجبو ر ہو گئے ہیں ، سیلا ب سے متا ثرہ لا کھوں ایکٹر زیر کا شت رقبہ پر پا نی کھڑا ہے اور چند ہفتے پہلے اپنے گھروں میں آرام دہ ، پرُ سکو ن ، با وقار زندگی گزارنے والے سیلا بِ متا ثرین کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے سرکا ری امداد کے سہا رے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ قدرتی آفات اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ انسان ازل سے ان قدرتی آفات سے نبر دآزما رہا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ قدرتی آفات انسانی کنٹرول سے باہر ہیں ان کا کو ئی وقت متعین نہیں مگر یہ بھی تا ریخ کی اٹل سچائی ہے کہ قومو ں کو درد دل رکھنے والی لیڈر شپ میسر آجا ئے تو ایسے اقداما ت کیے جا تے ہیں کہ آفت زدہ علا قوں کے متا ثرین کے دکھی دلو ں میں ڈھا رس بند ھتی ہے کیونکہ انہیں یقین ہو تا ہے کہ انہیں ایک ایسی قیا دت میسر ہے جو ان کے دکھو ں کا مداوا کر سکتی ہے۔

ضلع لیہ کے بکھری احمد خان کے مقام پر دریا ئے سندھ کی پُر شور مو جو ں کے پس منظر میں وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف نے میگا فون پر خطا ب کرتے ہو ئے کہا کہ’’ جب تک دریا ئے سندھ کا سیلا بی پا نی بحیرہ عرب میں غرق نہیں ہو جا تا آپ مجھے اپنے درمیا ن پا ئیں گے اور 2010ء کے سیلا ب میں میا نوالی سے کو ٹ سبزل تک میں آپ کے درمیا ن رہا تھا اور اب بھی رہو ں گا ‘‘۔ اس سے پہلے کہ وہ بکھری احمد خان سے روانہ ہو تے لو گو ں نے فر ط جذبا ت سے انہیں اپنے حصار میں لے لیا اور اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے’’ پا کستا ن‘‘ کا نعرہ لگوایا تو متا ثرین سیلا ب نے جو اب میں کہا کہ’’ زندہ باد‘‘۔

راقم نے ٹی وی پر بکھری احمد خان کے دورے کے مو قع پر شہباز شریف کی یہ تقریر سنی تو گزشتہ اخبا رات میں چھپنے والی خبریں ذہن میں اچانک ابھر کر آگئیں کہ مثلاً یہ خبر کہ وزیراعلی میاں محمد شہباز شریف علا ج کے لئے لندن میں مقیم تھے تو لیہ میں بکھری احمد خان کے حفاظتی سپر میں پڑنے والے شگا ف کا انہو ں نے فوری نوٹس لیا اور اپنے علا ج کو بھو ل کر اس منصوبے کے بارے میں لندن سے ریلیف کے بارے میں ویڈیو لنکس کا نفرنس کی۔ یہ خبر بھی میرے ذہن میں گو نجنے لگی کہ وہ لندن سے پا کستان آتے ہی لیہ کے لئے روانہ ہو ئے مگر موسم کی خرابی کے باعث چار مرتبہ ملتان سے ہیلی کا پٹر سروس ساز گار نہ ہو نے کے باعث بکھری احمد خان لیہ نہ پہنچ سکے ۔28جو لا ئی کو بتا یا گیا ہے کہ بذریعہ سٹرک بھی پہنچیں گے مگر اس روز مو سم ساز گار تھا اور وہ بذریعہ ہیلی کا پٹر بکھری احمد خان پہنچ گئے ۔ گو یا شہباز شریف ایسے لیڈر ہیں جب تک وہ سیلاب کی آفت سے گھرے اپنے بہن بھا ئیوں میں نہیں پہنچ گئے ان کو آرام و سکو ن نہیں آیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجا ب نے دریا ئے سندھ بکھری احمد خان کے مقام پر ترقیا تی کا م کا جا ئزہ لیا، انہو ں نے 2010ء کے تبا ہ کن سیلا ب کے بعد دریا ئے سندھ کے بہاؤ میں پیدا ہو نے والی تبدیلیوں میں ٹیکنیکل سٹڈی نہ کر وانے اور حفاظتی پشتوں اور جد ید خطوط پر ڈھا لنے کے لئے ترقیاتی منصوبے شروع نہ کر نے اور سیلا ب کی تبا ہ کاریوں کے سدبا ب کے بچا ؤ مر بو ط پر وگرام نہ شروع کر نے پر بریفنگ دینے والے چیف انجینئر کی سخت سرزنش کی۔ اس مو قع پر ذرائع ابلا غ کے نما ئندوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ محکمہ انہار ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایسے ذمہ داران جنہوں نے سیلا ب کی تبا ہ کا ریو ں سے بچاؤ کے لئے حفاظتی اقداما ت سے غفلت کی ہے یا کر پشن کے مرتکب ہو ئے ہیں ان کا سخت احتساب کیا جا ئے گا ۔

ماہر ین موسمیات کے مطابق 2005سے ایشیا میں 25سال کے لیے wet _spellکا سلسلہ شروع ہے اور 2030تک یہ سلسلہ جاری رہے گا جس کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی دوسری وجہ بحیرہ عرب میں گزشہ 30سال سے چار سینٹی گریڈ درجہ حرارت بڑھ چکا ہے اس سے بحیرہ عرب میں مون سون کے آبی بخارات کا درجہ حرارت بڑھ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ ہوائیں ہمالیہ سے ٹکرا کر واپس آتی ہے تو ان میں قدرت کے تشکیل کردہ ماحولیاتی شاخسانہ کے باعث بارشوں میں اضافہ ہوچکاہے ،ایک فیکڑ یہ بھی ہے درخت بے رحمی سے کاٹے گئے ہیں جس نے ٹمبر مافیا کو ارب پتی تو بنا دیا مگر جنگلات کے خاتمے کے باعث پورے کا پورا ماحولیاتی نظام تہس نہس ہو کر رہ گیاہے اور2010کا سیلاب اور حالیہ سیلاب میں مماثلت پائی جاتی ہے کیونکہ جنوبی پنجاب اور گلگت بلستان میں ایک ہی طرح کی تباہی ہوئی ہے۔

دریائے سندھ میں میانوالی ، بھکر ، لیہ، ڈی جی خان، راجن پور کے اضلاع میں دریاکی مرکزی گزر گاہ میں ہزاروں مکان تعمیر کر لیے گئے ۔دریائے سندھ کی گزر گاہ میں سڑکیں ، ہسپتال ، سکولز، اور دیگر عمارات تعمیر کر لی گئی ہیں یہ علاقے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے یہ دریاکی گزر گاہ نہ ہوں بلکہ میدانی علاقہ ہو جس میں شہر بسالیے گئے ہوں، ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جب تک پانی سرسے اونچا نہیں ہوجاتا لوگ اپنے گھروں سے نہیں نکلتے اور ا ن کا یہ جواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے باپ دادا کے زمانے سے سیلاب کے عادی ہیں جس سے انخلاء کا عمل متاثر ہوتا ہے ۔

وطن عزیزمیں آنے والے سیلاب صرف ایک معاشی نقصان ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہماری قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، قومی سلامتی کا مسئلہ اس لیے کہ 2030کی خشکی کے بعد موسمیاتی Dry_Spellشروع ہوگا تو دریاؤں میں پانی کہاں سے آئے گا ، کھیت کیسے سیراب ہوں گے ، پینے کے لیے پانی کہاں سے آئے گا ؟یہی وجہ ہے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت پر پنجاب میں چھوٹے 28 ڈیم کی تعمیرکا کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں آنے والی نسلوں کے لیے پانی کی فراہمی کا یقینی بنایا جاسکے۔ میاں محمد شہباز شریف اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ یہ علاقہ ہماری فوڈ سیکورٹی کا ضامن ہے یہاں کماد ، دالیں ، چاول، سبزیاں ، باغات، زرعی معیشت میں سینکڑوں ارب روپے کا حصہ ڈالتے ہیں ۔ جنوبی پنجاب کے کسانوں کے پالے ہوئے مویشی دودھ کی پیدوار کا اہم ذریعہ ہے ، یہاں کی لائیوسٹاک سے پورے ملک کو گوشت مہیا ہوتاہے اور یہاں پر آبادکسانوں کی زرعی معیشت سے منسلک رہنے سے مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے ۔ اس لیے شہباز شریف یہاں کے کسانوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے ہیں ۔وزیر اعلی میاں شہباز شریف کی کسانوں دلی محبت اور پیار کا عملی ثبوت ہے کہ اُن کی کی ہدایت پر پی ڈی ایم اے اور چھ اضلاع کی انتظامیہ نے ریلیف کے پیشگی انتظام کو آپریشنل کر کے سیلاب سے گھیرئے متاثرین کو ریسکیوکے ذریعے 19ہزار6سو خیمے ، 1لا کھ 14ہزار راشن کے تھیلے ، 72ہزار منر ل واٹر کی بو تلیں ، 15ہزار 5سو مچھر دانیاں ،10ہزار 5سو پلا سٹک کی دریا ں فراہم کی ہیں جبکہ لا کھ 8ہزار 519افراد کو پکا پکایا کھا نا تین ٹائم دیا جا رہا ہے ، انتظا میہ کی جا نب 140ریلیف کیمپس میں 15ہزار 945افراد مقیم ہیں ،جبکہ 1لا کھ 56ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

راقم نے گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کے ایک ضلع لیہ میں ریسکیوو ریلیف کے انتظامات و مشاہدہ کے لیے مطالعاتی دورہ کیا۔جس کے دوران لیہ اور کروڑ میں مختلف اداروں کے حکام اور اہلکاروں کو ریسکیو اور ریلیف میں مصروف کار دیکھا ۔ اس دوران ڈی سی او لیہ رانا گلزار احمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتا یا کہ فلڈفائٹنگ پلان کے تحت تما م محکمے24 گھنٹے کام کر رہے ہیں جس کی انچارج اے ڈی سی ڈاکٹر لبنی نذیر ہیں اور اس پلان کے تحت کشتیو ں کے ذریعے فری سروس مہیا کر کے 31470افراد کو نکا لا جا چکا ہے اور موبائل ریلیف سروس کے ذریعے 30578راشن کے تھیلے اور 20587آٹے کے تھیلے نشیبی علاقوں میں ان کے گھر وں میں پہنچائے گئے ہیں۔ ضلع لیہ میں نشیبی علا قوں کا 111944ایکٹر رقبہ متاثر ہو ااور 410بستیاں متا ثر ہو ئیں جن میں 24808خاندانوں کے 186881افراد متا ثر ہو ئے جن کی 94761ایکٹر رقبہ پر کھڑی فصلا ت بھی متا ثر ہو ئیں اور اب تک 115بو ٹس کے ذریعے 31470افراد کو نکا لا جا چکا ہے اور 33فلڈ ریلیف کیمپو ں میں 8169افراد مقیم ہیں جہاں اب تک انہیں پکے پکا ئے کھا نے کی 1646 دیگیں تقسیم کی جا چکی ہیں ۔ ان کیمپو ں میں مقیم متاثرین کی خاندان کے افراد کے طور پر مہمان نوازی کی جاری رہی ہے اور تینوں وقت کھانا ان کی پسندکے مطابق تیار کیاجاتا ہے۔ سیلا ب سے متاثرہ اضلا ع کے لئے وزیر اعلیٰ پنجا ب نے اپنا ہیلی کا پٹر ریلیف سر گر میو ں کو مز ید وسعت دینے اور دریا کے قریبی علا قوں میں مقیم افراد کو راشن کی فراہمی کے لئے وقف کردیا ہے ۔ جس سے دریا کے اندر جا کر مکینو ں کو کشتیوں کے ذریعے راشن کی فراہمی کے عمل کو مز ید تیز تر کیا جا سکے گاجو وزیر اعلیٰ پنجا ب کی انسان دوستی کا منہ بو لتا ثبوت ہے ۔

راقم کو لیہ شہر میں ٹی ڈی ا ے سکو ل ریلیف کیمپ میں مقیم خواتین سے گفتگو کر نے کا موقع ملا تو انہیں پُر امید پایا ۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے گھر با ر پانی میں بہہ گئے ہیں جب آپ واپس جا ئیں گے تو ایک نئی زندگی شروع کر نے کے لئے کتنے جتن اٹھا نا پڑیں گے تو صغراں بی بی ، نفیسہ بیگم اور دس سالہ بچے فیصل نے مجھے یہ کہہ کر لا جو اب کر دیا کہ شہباز شریف وعدہ کر گئے ہیں کہ وہ ہمارے نقصانات کا ازالہ کریں گے۔ جب تک ہم اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو جا تے شہباز شریف ہما رے ساتھ ہیں اوروہ پکا وعدہ کر تے ہیں ۔

مزید :

کالم -