حکمرانوں نے عوام کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا،بشارت جسپال

حکمرانوں نے عوام کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا،بشارت جسپال

لاہور(نمائندہ خصوصی)پاکستان عوامی تحریک پنجاب کے صدر بشارت جسپال نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کو بحرانوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے عوام کی خوشحالی کا نعرہ لگایا۔بلدیاتی الیکشن میں پاکستان عوامی تحریک کے امیدوار کامیاب ہونگے۔ عوام آپس میں اقتدار کے مزے لینے والی پارٹیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں،فصلیں تباہ ہو چکی ہیں مگر ظالم حکمرانوں کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں ۔لوگ امداد کیلئے چلارہے ہیں ۔اجڑی بستیوں ،تباہ حال شہروں،پانی پر تیرتی لاشوں نے خادم اعلیٰ کی خدمت کے پول کھول دئیے۔پاکستان عوامی تحریک نے عوامی انقلاب کا نعرہ لگایا اور اس پر قائم ہیں۔ عوام پاکستان عوامی تحریک کا ساتھ دیں تو ملک بھر سے نااہل حکمرانوں، قبضہ گروپوں، چوروں، ڈاکوؤں، رشوت خوروں کا خاتمہ کر دینگے۔ ن لیگ قوم کیلئے عذاب لیگ بن چکی ہے۔ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں، ان کو ہر صورت جانا ہو گا۔ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات میں پورے صوبے میں امیدوار کھڑے کرینگے اور عوام کا فیصلہ ن لیگ کی نااہل اور ناکام حکومت کیلئے عوامی ریفرنڈم ثابت ہو گا۔

حکومتی فیصلے حکمت اور دانش سے عاری ہیں۔ ہیلی کاپٹر جھولنے والوں نے سیلاب متاثرین کی کیا مدد کرنا ہے۔ و ہ گزشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کے صوبائی سیکرٹریٹ میں چنیوٹ ،جھنگ ،مظفر گڑھ ، راجن پور کے تنظیمی عہدیداران سے گفتگو کررہے تھے۔ پاکستان عوامی تحریک کے عہدیداران نے بشارت جسپال کو ان علاقوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا۔ پاکستان عوامی تحریک کے صوبائی صدر نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میٹرو اور اورنج ٹرین کے منصوبے بنانے والے وزیراعلیٰ کے اپنے شہر کو چندمنٹوں کی بارش نے ڈبو دیا ۔ شہری غوطے کھاتے پھرتے ہیں اور وزیراعلیٰ فوٹوسیشن میں مصروف ہیں ۔اپنے وزیروں اور مشیروں کے ڈیروں پر ن لیگ کے پسندیدہ لوگوں کو امداد دینے کے بجائے عام متاثرین میں بلا امتیاز امدادی سامان تقسیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تاجر برادری کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ان کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ نیلی، پیلی، اورنج ٹرینوں اور میٹرو بسوں پر اربوں جھونکنے کے بجائے حکمران یہ رقم لوڈشیڈنگ کے خاتمہ پر لگاتے ،پاور پلانٹ اور ڈیم بناتے جس میں ہر سال آنے والے سیلاب کا پانی محفوظ ہوتاہے۔ لاکھوں ایکڑ پر مشتمل فصلیں ،شہر ،قصبے اور دیہات تباہی کا منظر نہ پیش کررہے ہوتے۔ امدادی کارروائیوں اور ریلیف کے ضمن میں کوئی ٹھوس اقدامات سامنے نہیں آرہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 4