جمعیت علمائے اسلام اور متحدہ نے پی ٹی آئی ارکان کو ڈی سیٹ کرنیکی تحاریک واپس لے لیں

جمعیت علمائے اسلام اور متحدہ نے پی ٹی آئی ارکان کو ڈی سیٹ کرنیکی تحاریک واپس ...

اسلام آباد(اے این این) جمعیت علمائے اسلام اور متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت اور اپوزیشن کی درخواست پر تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس لے لیں،جمہوریت کے استحکام سے متعلق مولانا فضل الرحمان کی قرار داد بھی متفقہ طور پر منظور،تحاریک واپسی کے وقت پی ٹی آئی کے ارکان ایوان میں موجود نہیں تھے،تحاریک کی واپسی کا اعلان ایم کیو ایم کے سلمان بلوچ اور جے یو آئی کی نعیمہ کشور نے کیا۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے رکن سلمان بلوچ اور جے یو آئی (ف)کی رکن نعیمہ کشورنے تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس لینے کا اعلان کیا۔اس موقع پر ایوان میں اظہارخیال کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو اپنی تحریک کے حق میں قائل نہیں کرسکے، وزیراعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے قراردادیں واپس لینے کی اپیلیں کیں اور ان اپیلوں کی قدر و منزلت کا ہمیں اندازہ ہے اس لئے حکومت اوراکثریت کی درخواست پر پارلیمان، جمہوریت اور اکثریت کے احترام میں تحریک واپس لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جوکچھ ہوا اس پر ہمیں تحفظات اور خدشات ہیں، ہمارے دلوں میں کچھ خطرے ہیں اس کا مداوا کیسے ہوگا، پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے ہرقربانی دینے کو تیار ہیں، ہم پہلے بھی ساتھ چلنے کے لیے تیار رہے اور اب بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اکثریتی فیصلے اور رائے کا احترام ضروری ہوتا ہے ،اکثریت کبھی بھی اقلیت کو اختلاف رائے کے حق سے محروم نہیں کرتی۔حکومت اوراکثریت کی درخواست پر تحریک واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مشترکہ ضرورتوں کو اکٹھا کرکے ہم نے مشترکا فیصلہ کیا ،ہم تحریک انصاف کو ڈی سیٹ کرنے کے لیے نہیں ، قانونی پہلو اجاگر کرنے کے لیے قراردادلائے تھے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے استحکام،فروغ کے لئے الطاف حسین نے قرارداد واپس لینے کا فیصلہ کیا۔الطاف حسین سے مشاورت کے بعدغیرمشروط طورپرایم کیوایم نے قرارداد واپس لی۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔یہ جمہوریت کے استحکام اور دوام کے لیے ہے،وزیراعظم ، خورشید شاہ اور دیگر جماعتوں کی اپیل پرتحریک واپس لی۔اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کی طرف سے جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ۔اپنی قرار داد میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ ایوان اللہ کی حاکمیت ٗ عوام کا حق حکمرانی اور جمہوریت کی کارفرمائی کی علامت ہے ایوان تمام سیاسی جماعتوں ٗ اراکین پارلیمنٹ ٗ میڈیا اور عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوں نے آزمائش کی گھڑی میں آئین ٗ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے تقدس کیلئے تاریخی کردار ادا کیا ۔ ایوان پاکستان کے دفاع ٗ سلامتی ٗ اتحاد و یکجہتی اور وفاق کے تحفظ کی ضمانت ہے اس ایوان کا وقار اور تحفظ ہر پاکستانی کا فرض ہے بالخصوص جمہوری عمل میں شامل جماعتیں جو عوامی مینڈیٹ کی ترجمانی کرتے ہوئے ایوان میں موجود ہیں ان پر لازم ہے کہ ایوان کے مقام و مرتبے کا احترام کریں ۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے جے یو آئی اور ایم کیو ایم کی جانب سے تحاریک واپس لینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ کسی پارٹی کی ہار نہیں جمہوریت کی جیت ہے،ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے موقف کی آئینی اور قانونی حیثیت ہے دونوں جماعتوں نے حالات کے مطابق فراخدلی کا مظاہرہ کیا،اس معاملے میں سپیکر کا کردار بھی قابل تحسین رہا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور ایم کیو ایم نے اپنی تحاریک واپس لے لیں اس میں کسی کی ہار یا جیت نہیں اس میں جمہوریت کی جیت ہے ۔ میں اپوزیشن کی طرف سے جے یو آئی اور ایم کیو ایم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اپوزیشن کی طرف سے کی گئی گزارشات پر اپنی تحاریک واپس لیں ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ متحدہ کے قائد الطاف حسین نے فوج ،رینجرزاور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے محبت کا پیغام دیا،ٹیلی فونک رابطے پر الطاف حسین کے حالیہ بیانات پر قوم کے غم و غصے کا اظہار کیا ہے،تحریک انصاف کے ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کی تحاریک واپس لینے پر ایم کیو ایم اور جے یو آئی کے شکر گزار ہیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں الطاف حسین سے رابطے سے متعلق اپنے وضاحتی بیان میں سپیکر ایاز صادق نے کہاکہ گزشتہ کئی روز سے جے یو آئی اور ایم کیو ایم کی جانب سے دی گئی تحریکوں کی صورت میں ایک اہم مسئلہ پیش نظر ہے تمام ایوان بخوبی آگاہ ہے کہ میری ذات کے حوالے سے بہت سی باتیں اور تنقید کی گئی میرے منصب کا تقاضا ہے کہ میں ذات سے بلند ہوکر ایوان کے ہر رکن کو یکساں نظر سے دیکھوں میرے اس ایوان کی عزت اس کے اراکین کی عزت سے منسلک ہے ۔ اس ایوان کا دفاع ایک ایک رکن کے دفاع سے بندھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بطور سپیکر میرا کام اراکین کو تحفظ فراہم کرنا ہے اس ایوان سے محروم کرنا نہیں اپنے منصب کے اسی تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے کوشش کی جیسے حکومت اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا تعاون مجھے حاصل ہوا اس ضمن میں گزشتہ روز ایک موقع ایسا آیا جب ایوان سے باہر قائدین سے میری بات ہوئی میں نے الطاف حسین سے رابطہ کیا جس کے حوالے سے ایوان میں موجود سب لوگ آگاہ ہیں الطاف حسین کے حالیہ بیانات سے سیاسی فضا کافی بوجھل ہے چند رفقاء کا خیال تھا کہ مجھے ان سے بات نہیں کرنی چاہیے لیکن میرا منصب تقاضا کرتا ہے کہ پارلیمانی روایات جمہوریت کی خاطر کڑے سے کڑے فیصلے کروں ۔

مزید : صفحہ اول